کل جماعتی میٹنگ میں وزیر اعظم نے کہا : پاک مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا حصہ ، وہاں کے لوگوں سے بھی بات چیت ہو

04:33PM Fri 12 Aug, 2016

نئی دہلی : کشمیر کے حالات کو لے کر بحث کے لئے مرکزی حکومت نے آج کل جماعتی میٹنگ بلائی۔ اس میٹنگ میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پی او کے جموں و کشمیر کا حصہ ہےاور وہاں کے لوگوں سے بھی بات چیت کی جانی چاہئے ۔ میٹنگ میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ چار علاقے ہیں: کشمیر، جموں، لداخ اور پاکستان مقبوضہ کشمیر۔ بیرون ملک آباد پاکستان مقبوضہ کشمیر کے شہریوں سے حکومت ہند کو رابطہ قائم کرنا چاہئے۔ وزیر اعظم نے بلوچستان وغیرہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا بھی ذکر کیا۔ وہیں کانگریس کے لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ کشمیر کے مسلمانوں نے ٹو نیشن تھیوری کو رد کیا تھا۔ ہم تمام جماعتوں کو مل کر مسئلہ کشمیر کے جڑ میں جانا چاہئے اور ایک حل نکالنا چاہئے۔ ساتھ ہی تمام پارٹیوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ملک کی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے۔ کل جماعتی میٹنگ کے بعد این سی پی لیڈر پرفل پٹیل نے کہا کہ حکومت نے تمام جماعتوں کی رائے سنی اور سب نے متفقہ طور پر کہا کہ ہم سب کشمیر پر ایک سر میں بولیں گے۔وہیں شیوسینا کے لیڈر سنجے راؤت نے کہا کہ تمام جماعتوں نے ایک سر میں کشمیر کو اپنابتایا اور کہا کہ حکومت جو بھی کوشش کرے گی ، تمام پارٹیاں ان کے ساتھ ہوں گی ۔ غور طلب ہے کہ حکومت نے تمام جماعتوں سے کشمیر کے مسئلے پر ایک سر میں بات کرنے کی اپیل کی تھی۔ اس میٹنگ کی اطلاع مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے 10 اگست یعنی بدھ کو راجیہ سبھا میں دی تھی۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں کشمیر میں جاری بدامنی پر بحث کا جواب دینے کے دوران یہ بات کہی تھی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ وقت سے وادی میں جاری پرتشدد مظاہروں میں 55 سے زیادہ لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ ہزاروں لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے آٹھ جولائی کو سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارے جانے کے بعد پرتشدد مظاہروں کا جو دور شروع ہواتھا ، وہ اب تک جاری ہے۔