ہرقوم ،فرقے اورمکتبہ فکر کے لوگوں کوکتاب کامطالعہ کرکے آنکھوں کوروشن کرناچاہئے: جسٹس راجندر سچر

12:55PM Mon 6 Feb, 2017

متعصب اورتنگ نظری کی باتیں کرنے والے اس کتاب کوضرورپڑھیں:رگھوٹھاکر کتاب میں فرقہ پرستوں کے لئے منھ توڑ جواب:پروفیسر راج کمار جین  لکھنؤ۔۔آزادی وطن کی تحریک کوایک خاص فرقے کے افراد واشخاص سے جوڑے جانے کی منظم اورپیہم کوششوں کے جوابات ،جذبات اوراشتعال کے بجائے ٹھوس حوالوں سے دینے چاہئے اور بتانا چاہئے کہ مسلم مجاہدین آزادی اورشہیدان وطن کی تعداد، قربانیاں اورجدوجہد کیاہے۔ اسی کوشش میں سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے سید شاہ نواز قادری نے تاریخ کے اوراق پلٹے تو مجاہدین آزادی اورشہیدان وطن کی ایک طویل فہرست ان کے سامنے آئی جسے دوسروں کی سازش یاہماری غفلت کے سبب یکسرنظرانداز کردیاگیاتھا۔نتیجتاً نہ صرف یہ کہ دوسری قومیں بلکہ مسلم رہبران ملت بھی مسلم شہداء اورجاں نثاران وطن کی قربانیوں سے یکسر ناواقف اوربے بہرہ ہوگئے تھے۔ پہلی مرتبہ کسی کتاب میں مسلم مجاہدین آزادی اورشہیدان وطن کی تعداد 1233تک پہونچ سکی ورنہ یہ تعداد بمشکل400تک سمٹ جاتی تھی ۔سید شاہ نواز قادری کی پیہم کوشش اورکاوش سے قریب 550 صفحات پر مشتمل ’’لہوبولتابھی ہے‘‘ نامی ضخیم کتاب تیار ہوگئی ۔۔۔کتاب کی اجراء 29؍جنوری کورائے اوماناتھ بلی آڈیٹوریم میں دوپہر ایک بجے ہوئی مگر گذشتہ ایک ماہ سے اخبارات میں اس کتاب پرگفتگو کادورجاری ہے جس سے موضوع کی اہمیت اورکتاب کی افادیت کااندازہ لگایاجاسکتاہے ۔کتاب کی معتبریت اس سے بڑھ جاتی ہے کہ کتاب کی رونمائی سچر کمیٹی کے چیئرمین اورسابق چیف جسٹس راجندر سچر جی کے بدست عمل میں آئی ۔صدارت کے فرائض مذہب اورسیاست میںیکساں دخل رکھنے والے مولانا عبیداللہ خاں اعظمی (سابق ممبرپارلیمنٹ)نے بحسن وخوبی انجام دیئے۔ مقررین خصوصی میں راج کمار جین،مولانا سید کلب جواد نقوی ،رگھوٹھاکر (سینئر سوشلسٹ لیڈر بھوپال)مولانا سیدافروز قادری(ساؤتھ افریقہ کیپ ٹاؤن)،تیلگواورانگلش میں13کتابوں کے مصنف نصیر احمد،پروفیسر شکیل صمدانی،شبیراحمدودروہی ،کرشن کلکی،پروفیسر رمیش دکچھت اورمحمد شفیع احمد کے نام قابل ذکر ہیں۔ مشہور مجاہد آزادی اشفاق اللہ کے پسرزادے شہاب اللہ خاں کااستقبال جسٹس راجندر سچر نے کیا۔؛واضح رہے کہ لوک بندو پرکاشن نے جنگ آزادی کے مسلم کرداروں کواجاگرکرنے کے لئے سید شاہ نوازاحمد قادری اورکرشن کلکی کی مشترکہ کاوش کوبہ شکل کتاب بعنوان ’’لہوبولتابھی ہے‘‘ شائع کرکے ایک دستاویز تیار کردی ہے۔ جس کے لئے پبلشرکی تعریف ہونی چاہئے۔ مقررین نے ’’لہوبولتابھی ہے‘‘ کوناقابل فراموش کارنامہ قراردیا۔ہرقوم ،فرقے اورمکتبہ فکر کے لوگوں کواس کتاب کامطالعہ کرکے آنکھوں کوروشن کرناچاہئے۔ جسٹس راجندر سچر۔ ’’لہوبولتابھی ہے‘‘تحقیقاتی حوالوں سے مزین ایسی کتاب ہے جوہرگھر ،دفتر اورلائبریری میں ہوناچاہئے۔ مولانا عبیداللہ خاں اعظمی۔ نوجوانوں کواپنی معلومات میں اضافہ کے لئے شاہنواز قادری کی کتاب ضرور پڑھنی چاہئے تاکہ وہ دوسروں کے سامنے شرمندہ نہ ہوں۔کتاب کوخصوصیت یہ ہے کہ اس میں جذباتیت کے بجائے حقائق کابرملا اظہار ہے۔ انہوں نے شہید مولانا محمدباقر صاحب کاخصوصیت سے ذکر کیا۔مولانا کلب جوادنقوی۔ سینئر سوشلسٹ لیڈر رگھو ٹھاکرنے کتاب کوحقائق پرمبنی بتایا اورکہاکہ متعصب اورتنگ نظری کی باتیں کرنے والے اس کتاب کوضرورپڑھیں۔ پروفیسر راج کمار جین نے کتاب کوفرقہ پرستوں کے لئے منھ توڑ جواب قراردیا۔ مولانا سیدافروز قادری نے کتاب کووقت کی اہم ضرورت بتانے کے ساتھ مصنف کی مخلصانہ اورحکیمانہ کوشش بتایا۔ سید نصیر احمد نے اس کتاب کے بارے میں بتایاکہ یہ کتاب’’لہوبولتابھی ہے‘‘شاہنواز قادری کا لائق تعریف وتحسین کام ہے جوجنوبی ہندکے کسی فرد کی پہلی کاوش ہے۔اس موقع پر ’’لوک بندو راج نرائن کے لوگ‘‘ کی جانب سے تیلگو ،انگلش اوردیگر زبانوں میں تصنیف وتالیف کی نمایاں خدمات کے لئے سید نصیر احمد کو ’’لوک بندو سدبھاؤنا سمان‘‘ سے سرفراز کیاجائے گا۔ ’’آندھرا ریزرویشن ‘‘کے مصنف اورسینئر صحافی شفیع احمد کے مطابق ’’لہوبولتابھی ہے‘ ‘شاہنواز قادری کاایسا تاریخی کارنامہ ہے جوبنیاد کاپتھر ثابت ہوگا اورآئندہ آزادئ ہند کی ہرتاریخ اسی بنیاد کے پتھر پہ قائم ہوگی۔پروگرام کے خصوصی شرکاء میں رضوان فاروقی ،ڈاکٹر کوثر عثمان ،طار ق انور صدیقی، ڈاکٹر غفران ،حسان نگرامی ،قاضی ممتاز ،وغیرہ موجود تھے۔ پروگرام تقریباً ایک بجے شروع ہوکر شام ۵بجے ختم ہوا ۔مگر شروع تاآخر ہال میں تل رکھنے کی جگہ نہ تھی ۔یہی پروگرام کی کامیابی کی واضح دلیل ہے۔