پوپ کا بیان "صلیبی ذہنیت" کو ظاہر کرتا ہے: ترکی کا سخت ردعمل
11:30AM Sun 26 Jun, 2016
ترکی نے کہا ہے کہ یہ بدقسمتی ہے کہ پوپ نے 1915ء میں سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں آرمینیائی باشندوں کے مبینہ قتل عام کو "نسل کشی" قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پاپائیت کی "صلیبی ذہنیت" کو ظاہر کرتا ہے۔
جمعے کو آرمینیا کے دارالحکومت یریوان روانگی سے قبل پوپ فرانسس نے اپنے بیان میں اس قتل عام کے بارے میں "نسل کشی" کے الفاظ استعمال کیے تھے جو پہلی جنگ عظیم کے دوران عثمانی افواج نے آرمینیا کے باشندوں کا کیا تھا۔
ترک نائب وزیر اعظم نور الدین چانکلی نے کہا ہے کہ پوپ کا بیان انتہائی افسوس ناک ہے۔ پاپائیت اور پوپ کے اقدامات میں ہمیں وہ صلیبی ذہنیت کارفرما نظر آ رہی ہے۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران مشرقی محاذ پر عثمانی سپاہیوں نے مزاحم عیسائی آرمینیائی باشندوں کے خلاف کارروائیاں کی تھیں، لیکن یہ دعویٰ ہضم کرنا مشکل ہے کہ اس دوران انہوں نے 15 لاکھ آرمینیائی باشندے مارے۔ معاملہ صرف دعوے تک محدود نہیں بلکہ ترکی کو بلیک میل کرنے کے لیے یورپی ریاستوں سے لے کر عالمی طاقتیں اور اب پاپائے روم بھی "نسل کشی" کا ایسا لفظ استعمال کر رہے ہیں، جس کا کوئی تاریخی ثبوت ان کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔
نور الدین نے مزید کہا کہ "یہ معروضی بیان نہیں ہے، اور یہ حقیقت کو بھی بیان نہیں کرتا، پوری دنیا یہ بات جانتی ہے یہاں تک کہ آرمینیا والے بھی جانتے ہیں۔"
ترکی کہتا ہے کہ یہ واقعات پہلی جنگ عظیم کے دوران پیش آئے اور اگر یہ نسل کشی ہوتی تو مشرقی محاذ پر ترک مسلمانوں کا بھی اتنے بڑے پیمانے پر قتل نہ ہوتا۔
واضح رہے کہ پوپ فرانسس یہ بات کہنے والے پہلے پاپائے روم نہیں ہیں۔ 2001ء میں پوپ جان پال دوئم نے اسے "20 ویں صدی کی پہلی نسل کشی" قرار دیا تھا۔ ترکی نے اس وقت ویٹیکن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا اور 10 مہینے تک دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات ختم رہے تھے۔ ترکی کی جانب سے "صلیبی ذہنیت" سے اشارہ ایک ہزار سال قبل مسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی وہ جنگیں ہیں، جو 1095ء میں شروع ہوئی تھیں اور درجنوں مرتبہ مختلف محاذوں پر مسلمانوں کے خلاف لڑی گئیں۔