جدید تعلیم سے لیس ہو نا ہماری ضرورت۔ محمود علی ایم ایل سی

12:57PM Fri 24 Feb, 2017

سہارنپور۔(بھٹکلیس نیوز) بہوجن سماج پارٹی کے سرگر م قائد اور علاقائی ایم ایل سی محمود علی ایم ڈی نے تعلیمی بیداری کے اہم موضوع پر آج ہماری ساتھ اپنے بنگلے پر مختصر گفتگو کے دوران واضع کیاکہ بیس کروڑ مسلم عوام جب تک خد اور نئی نسل کو دینی اور دنیاوی تعلیم کے زیور سے آراستہ نہی کریگا تب تک ہم اور ہماری قوم اپنے مستقبل کی بابت بہتر سے بہتر راحت بخش مقام حاصل نہی کر سکے گی ۔ ایم ایل سی محمود علی ایم ڈی نے کہاکہ ا سلام نے اپنے و جود سے ہی اس اہم اور قابل قدر پہلو پر پر زور دیا ہے کہ تعلیم حاصل کرو لیکن اسکے بعد بھی ہماری امت مسلمہ آج بھی تعلیمی میدان میں کافی پیچھے ہے ،خصوصاََ ہندوستان میں مسلمانوں کی ۲۰ کروڑ کی بڑی آبادی ہونے کے بعد بھی آبادی کے تناسب سے تعلیمی اور سماجی سطح پر ہم حد درجہ نیچے ہیں سابقہ حکومت کی جانب سے متعین کی گئی سچر کمیٹی کی رپورٹ کو سبھی نے سنا اور دیکھاہے مگر اس پر ابھی تک عمل نہی ہوسکاہے وجہ یہ کہ ہم متحد اور ایک رائے نہی ہیں وجہ صرف اور صرف تعلیم کی کمی ہمیں اپنے اور پرائے کی آج تک بھی پرکھ نہی ہوسکی ہم فرقوں اور مسلکوں میں بنٹے ہوئے ہیں یعنی کے قرآنی تعلیم کی اندیکھی کر رہے ہیں یہی سبب ہے کہ آج ہم بڑی تعداد میں ہونے کے بعد بھی بے وزن بنے ہیں جدید تعلیم سے لیس ہو نا ہماری ضرورت ہے اگر ہم تعلیمی میدان میں اسی طرح خواب غفلت میں رہے تو مزید نقصان ہوگا اسلئے ضروری کے کہ سوئی پڑی ہوئی امت کو بیدار کریں! بہوجن سماج پارٹی کے سرگر م قائد اور علاقائی ایم ایل سی محمود علی ایم ڈی نے کہاہیکہ مسلمانوں میں مال و زر کی کمی نہیں ، عقل و شعورکی کمی نہیں لیکن کمی ہے تو مسلما نوں میں شعورخفتہ بیدار کرنے والوں کی اور تعلیم کی جانب رغبت دلا نے والوں کی آج کا مسلمان حکومت پر بھر و سہ کررہا ہے اسی حکومت پر کہ جس کا خفیہ ایجنڈ مسلمانوں کو بربادکرنے کا ہے ، حکومتیں الیکشن کے ایام میں مسلمانوں کی ہمدردی کی بات کرتی ہیں ، ان کی تعلیمی پسماندگی پر کھڑیال کے آنسو بہاتی ہیں تا کہ ان کا قیمتی ووٹ اپنے پالے میں ڈالا جا ئے لیکنایسی سرکاریں کامیابی کے بعد اپنے خفیہایجنڈوں پر گامزن ہو جاتی ہیں اور مسلم قوم کے مسائل بھول جاتی ہیں اس لئے آج ضروری ہیکہ مسلمان تعلیم کے میدان بغیر بیسا کھی کے آھے آئیں۔ علاقائی بہوجن سماج پارٹی قائد راؤ لئیق احمد نے گفتگو کے دوران کہاکہ موجودہ ہندوستان مسلمانوں کو ہر علاقے میں تعلیمی کمیٹی تیار کرنی چاہئے ، اس کمیٹی کے ذریعہ تعلیمی بیداری مہم چلانی چاہئے اور ضرورت مند طلبا کی بھر پور امداد کرنی چاہئے تا کہ طلبا میں تعلیم کے تئیں بیداری آئے ۔ بسپا قائد راؤ لئیق نے کہاکہ مولوی حضرات بچوں کو صرف دینی تعلیم کی طرف رغبت دلا تے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ عصری علوم پر بھی زور دینا چاہئے کیونکہ رسول پاکﷺ نے دینی اور عصری تعلیم پر خاص توجہ فرمائی ہے آج دینی تعلیم ضروری تو ہے مگر اسکے علاوہ دیگر علوم پر بھی خاص ادھیان دینے کی ضرورت ہے ۔ راؤ لئیق احمد نے کہاکہ ہمارے اسلاف دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی تر غیب دیتے تھے اور اس سے وابستہ افراد کی ہمت افزائی بھی کرتے تھے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عملی میدان میں آگے آئیں اور اپنا مستقبل سنواریں گزشتہ عرصہ میںیوپی کی اکھلیش سرکار اور اسسرکار کی اردو ہمدردی نے محض قوم کو بے وقوف بنانیکے کچھ نہی کیا آئی اے ایس کوچنگ کے کھوکھلے نعروں نے قوم کو پچھاڑدیاہے قومی دھارے میں قومی زبانوں کے وسیلہ سے ہی مسلمان قوم ملک کی مین اسٹریم میں شامل ہوکر قوم اور ملک کی ترقی کے علمبردار بن سکتے ہیں ملک کے جو حالات ہیں اس سے ہر کوئی واقف ہے کہ وہ ہم کو کس نہج اور طریقے کی طرف لے جا نا چاہتے ہیں اس لئے وقت کی اہمیت کو بھا نپتے ہوئے اپنی علمی طاقت مضبوط کر نے کی ضرورت ہے۔