دلت اور مسلم ووٹ کی تقسیم نے سماجوادی اور بی ایس پی کو پچھاڑ دیا!
04:23PM Fri 10 Mar, 2017
سہارنپور۔(بھٹکلیس نیوز) آج ووٹوں کی گنتی کا عمل صبح ساڑے چھہ بجے سے شروع کیا گیاہے بھاری حفاظتی بندوبست کے گھیرے میں یہ عمل یہاں جاری ہے یہاں کی ساتوں اسمبلی سیٹوں کے نتایج آج دوپہر بارہ بجے تک آنے جارہے ہیں سبھی سیٹوں پر مسلم ووٹ کے بکھراؤ سے بھاجپا کے امیدوار اہم سیٹوں پر کڑے مقابلہ میں ہیں یہاں مسلمووٹ کے ساتھ ساتھ دلت ووٹ کی تقسیم نے بھی سیکولر ووٹ کو زبردست نقصان پہنچادیاہے۔ مغربی اضلاع میں دلت ووٹ ۲۱ فیصد جبکہ مسلم ووٹ کہیں ۳۰ تو کہیں ۲۰ فیصد کے قریب ہیں یہاں قریب دوسو اسمبلی سیٹوں پر مسلم اور دلت ہی بھاجپاکا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں ہماری ۱۴۰ سیٹوں پر ہونے والی زیادہ پولنگ نے یہ ثابت کر دیاہے کہ یہاں زیادہ پولنگ پچھڑے اور دلت طبقہ نے ہی کی ہے صاف ظاہر ہے کہ یہاں ۱۴۰ سیٹوں پر بسپاہی بھاجپاکو مات دینے کی طاقت میں ہے سماجوادی کانگریس اتحاد نے صرف اور صرف مسلم ووٹ کو تقسیم کرنے کاہی کام انجام دیاہے مگر قوم کی جلد بازیرہی کہ اس نے بسپاکے ساتھ ساتھ جگہ جگہ سماجوادی کے امید واروں کو بھی اپنا ووٹ تقسیم کرتے ہوئے کمشنری کے ساتھ ساتھ آس پاس کے درجن بھر اضلاع میں بھی بھاجپاکے منصوبوں کو کامیاب بنادیاہے سرکاری ذرائع کے مطابق ہمارے ضلع میں کل ۷۳ فیصد پولنگاس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہپاں چھہ سیٹوں پر بھاجپا ہی زبردست مقابلہ میں موجود ہے قابل ذکر ہے کہ بھاجپا ہمیشہ پندرہ سالوں سے اس ضلع میں اپنے پاؤں جمانے کی کوشش میں سرگرم رہی مگر مسلم اتحاد نے ہمیشہ بھاجپاکو ہر موقع پر مات ہی دی مگر اس بار مسلم طبقہ کی جلد بازی اور نا سمجھی نے یہاں بھاجپاکو پاؤں جمانے کا موقع فراہم کر ہی دیاجو مستقبل کے لئے خطرہ کی گھنٹی ہے ؟ اسمبلی سیٹ نمبر ۱ بہٹ پر کل پول ۷۵فیصد نکوڑ سیٹ پر ۷۷فیصد شہری سیٹ پر۶۸ فیصد دیہات سیٹ پر ۷۵ فیصد دیوبند سیٹ پر ۷۱ فیصد رامپور سیٹ پر ۷۳ فیصد گنگوہ سیٹ پر ۷۲ فیصد ووٹ پول ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مسلم اور دلت ووٹ زیادہ پول ہوا ہے مگر یہ مسلم ووٹ کتنے فیصد کس کس امیدوار کے حق میں تقسیم ہواہے یہ آج کے سامنے آرہے سہی نتائج ہی بتا سکتے ہیں مگر یہ سچ ہے کہ ان سبھی ۱۴۰ سیٹوں پر جہاں بھی مسلم دلت ایک ساتھ رہاہے وہاں بھاجپاکی زمین کھسک چکی ہے جہاں جہاں مسلم ووٹ تقسیم ہواہے وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی کو زبردست فائدہ ہوا ہے جیساکہ دیوبند ، نکوڑ اور گنگوہ یہاں مسلم ووٹ کی تقسیم سے سیکولر امیدواروں کو نقصان کا خدشہپہلے ہی سے تھا جس وجہ سے ہم خائف رہے۔ مغربی اتر پردیش کی ۱۴۰ اسمبلی سیٹوں کے ہونے والے پولنگ نے سبھی مفاد پرست سیاسی جماعتوں کے چہرے لٹکادئے ہیں اپنے اقتدار کی طاقت میں مست سیاسی جماعتوں کے نمائندے اس بڑھے ہوئے پولنگ کو اپنے حق میں مان لیاتھا جبکہ حقیقت کچھ اور ہی تھی سچ یہ بھی ہے کہ یہ پولنگ پچھڑوں اور دلت طبقہ کے لوگوں کاہے کہ جو ظلم کے خلاف سہارنپور سے مراد آباد تک متحد ہوکر موقع پرس اور مفاد پرست سیاست دانوں کو سبق سکھانیکے لئے کر رہے ہیں۔ ہر اہم سیٹ پر مایاوتی کی بسپا اور بھاجپاکے بیچ ہی ہر جگہ کڑا مقابلہ دیکھنے کو ملاہیہمیں ملے جائزہ کے مطابق مسلم اکثریتی علاقوں میں سماجوادی کانگریس اتحاد بہوجن سماج پارٹی کے امیدواروں سے کافی پیچھے ہے دیوبند کی اہم سیٹ پر بھی مسلم ووٹ کی زبردست تقسیم نے بھاجپاکے امیدوار کو مقابلہ میں لا کھڑا کردیاہے دیوبند میں بھی کڑا مقابلہ بسپا اور بھاجپاکے بیچ ہی ہوناہے اسی طرح گنگوہ ، نکوڑ، بیہٹ، سہارنپور دیہات، رام پور اور شہری سیٹ پر بھی سبھی امیدواروں میں بہوجن سماج پارٹی ہی طاقت میں نظر آرہی ہے یہاں بھی شہری سیٹ کو چھوڑ کر بسپاہی بھاجپاکو مات دے رہی !