بات سے بات: مولانا اسحاق جلیس ندوی مرحوم کی یاد۔۔۔ تحریر: عبد المتین منیری۔ بھٹکل

08:56AM Tue 16 Jun, 2020

گزشتہ مراسلے میں خطبات سیرت کے ذیل میں چنئی شہر کے مسلمان تاجروں کی سبقت کا ذکر آیا تھا، ۱۹۷۰ء کے بعد یہاں اس قسم کے خطبات کے سلسلوں کا تو ہمیں علم نہیں، لیکن یہ شہر پڑھے لکھوں اور سنجیدہ لوگوں کا شہر رہا تھا، تو یہاں ہماری موجودگی  میں ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے ہرسال ایک ایک معیاری خطبہ سننے کو ملا، یہ خطبات نیوکالج کے مشہور آنیکار عبد الشکور ایڈیٹورم میں منعقد ہوئے تھے، جہاں مولانا دریابادی نے مطالعہ قرآن بیسویں صدی کے عنوان سے معرکہ آراء خطبات پیش کئے تھے۔  غالبا ان خطبات کے انتظٓم اور انصرام کا سہرا آنیکار عبد الشکور ٹرسٹ کے سر جاتا ہے۔ غالبا اس وقت اس کے ذمہ دار ٹی عبد الواحد صاحب تھے۔

۱۹۷۱ء میں مولانا سعید احمد اکبرآبادی مرحوم، مدیر برہان دہلی وسابق ناظم دینیات علی علی گڑھ یونیورسٹی  نے خطبہ سیرت پیش کیا، یہاں سے مولانا ہمارے کالج بھی تشریف لائے تھے، اور عربی زبان میں طلبہ سے خطاب کیا تھا۔

۱۹۷۲ء میں سیرت پر جناب عبد العزیز صاحب نے خطبہ دیا پیش کیا تھا، اس وقت آپ امیر جماعت اسلامی حلقہ ٹامل ناڈو کی حیثت سے خدمات انجام دے رہے تھے، آپ کا شمار اردو کے چوٹی کے خطیبوں میں ہوتا تھا، انہیں قرآن کی آیتوں کا بڑا استحضار رہتا تھا۔

۱۹۷۳ ء میں حضرت مولانا محمد انظر شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سابق شیخ الحدیث  وقف دارالعلوم دیوبند نے خطبہ پیش کیا تھا۔

۱۹۷۴ء میں قرعہ فال مولانا اسحاق جلیس ندوی مرحوم کے نام نکلا۔ آج کی نسل اس شعلہ جوالہ کو بھول چکی ہے، اس وقت مولانا علمی حلقوں میں نئے نئے متعارف ہوئے تھے۔ اس وقت عمر چالیس کے آس پاس رہی ہوگی، پہلے پونہ مہاراشٹر میں متحرک تھے،وہاں کے ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر تھے،ابھی سال دوسال سے ندوۃ العلماء لکھنو سے وابستہ ہوئے تھے۔ ایک ذمہ دار نے خطبہ سے پہلے ان سے  شکایت کی کہ گزشتہ سال شاہ صاحب کا خطاب ہوا تھا، انہوں نے اپنے والد ماجد کا تذکرہ کچھ زیادہ  ہی کیا۔ آپ پیغام سیرتﷺ پراپنے خطبے کو مرکوز رکھیں، شاید اسی بات کا اثر تھا، کہ مولانا  نفسیاتی دباؤ میں آگئے، آپ کی تقریر میں اس وقت ہمیں زیادہ لطف نہیں آیا۔ اس وقت سے ہماری رائے ہے کہ جان پہنچان کے بعد کسی خطیب کو منتخب کیا جائے تو مہمان نوازی کا تقاضہ ہے کہ پھر کوئی نفسیاتی دباؤ اس پر نہیں ڈالا جائے۔ اس وقت تو جلیس مرحوم کی تقریر ہم کو ایک اسکول ٹیچر کا سبق نظر آئی تھی۔

 لیکن بعد کے چھ سال کے دوران ان کی تحریر وخطابت اور انتطامی صلاحیتیں ایسی چھا گئیں اورجب  ۱۹۸۰ میں وہ  اچانک اللہ کو پیارے ہوگئے تو ایسا لگا کہ بجھنے والی شمع کی یہ آخری لو تھی جو پوری قوت سے بھڑک کر اچانک بجھ گئی، آپ کی زندگی کے انہیں آخری ایام میں ندوۃ العلماء کا پچاسی سالہ جشن منعقد ہوا، اس موقعہ پر طلبہ کو خصوصیت کے ساتھ منظم اور پرجوش کرنے میں اہم کردار نبھایا، بڑی محنت سے ندوۃ العلماء کی تاریخ مرتب کی، اور حضرت مولانا علی میاں ندوی علیہ الرحمۃ کی سرپرستی میں حلقہ پیام انسانیت کو ایک تحریک کا رنگ دینے اور اسے منظم کرنے میں اہم کردار اداکیا۔

ہم نے آپ کو پھر ۱۹۷۸ء میں دیکھا، چار سال قبل جس شخصیت پر نظر پڑی تھی اب  اس سے بالکل الگ رنگ، اس وقت وہ بھٹکل میں نوزائیدہ حلقہ پیام انسانیت کی دعوت لے کر آئے تھے، اس وقت مرحوم بدر الحسن معلم ، محمد حسین مصباح، محمد ابرہیم رکن الدین شیکرے وغیرہ بڑے متحرک جوان تھے، بھٹکل کے وسط شہر میں ہریجنوں کے ماری مندر کے نیچے ڈھلوان پر کھیت ہوا کرتا تھا، جس میں کٹائی کے بعد چھوٹے بڑے سرکس لگا کرتے تھے، کبھی یہ چھوٹی جھیل ہوا کرتی تھی جہاں سے ایک نہر نکل کر آگے دریا سے مل جاتی تھی، ۱۵۶۰ء کے آس پاس  یہ جین مہارانی بھیرہ دیوی کی تفریح گاہ تھی، اس کو لگ کر اس کے موہنی بستی کے نام سے مشہور محلات آج بھی اپنے عظمت ماضی کا اشارہ کرتے ہیں اور سلطنت گیرسوپا اور سلطنت وجے نگر کے اہم آثار میں شمار ہوتے ہیں، اس کی تعمیر میں جو سیاہ پتھر استعمال ہوا ہے، اپنی قدر وقیمت میں سنگ مرمر سے کم نہیں ہے۔

چونکہ اجلاس میں غیر مسلموں کو بڑی تعداد میں دعوت دی گئی تھی تو مولانا  کے سامنے یہاں کی مقامی زبان کنڑی میں ترجمہ کا تذکرہ آیا تو مولانا نے کہا کہ ترجمہ کی ضرورت نہیں ہوگی، میں اپنی تقریر میں ایک ایسی زبان بولوں گا، جس کو کنڑی، ہندی ،کونکنی، مراٹھی، اردو ، نائطی ہر زبان بولنے والے یکساں سمجھے گے، احتیاطا پنڈٹ ماسٹر کو ترجمہ کی ذمہ داری سونپی گئی، جلیس صاحب نے غیر مسلموں کے ساتھ ہونے والے اپنی نوعیت کے غیر مثالی اجلاس میں ایسی تقریر کی مجمع مٹھی میں آگیا ، پنڈت ماسٹر نے بھرے مجمع میں اعلان کردیا کہ تقریر کے ترجمہ کی ضرورت نہیں، سبھوں نے اسے سمجھ لیا ہے، اور جب جلیس صاحب نے کہا کہ میں تو چیلہ ہوں اصل ہمارے گرو مولانا علی میاں دو ماہ بعد آئیں گے تو پنڈت ماسٹر نے اعلان کیا کہ ہم ان کے آنے کے منتظر ہیں ، ان کی تقریر کا ترجمہ میں کروں گا، پنڈٹ ماسٹر کا نام غالبا اچاریہ پجاری تھا، وہ آر یس یس کے آدمی تھے، اور انجمن اسلامیہ اینگلو اردو اسکول بھٹکل میں ہندی اور کنڑی زبان کے استاد تھے، ان کے بھانجے ڈاکٹر چترنجن نے اس علاقے کو زہر آلود کرنے میں بڑی قربانیاں دیں،اور اس علاقے کو فرقہ وارانہ ذہنیت کا حساس مرکز بنادیا ۔ماموں بھانجہ دونوں بڑی میٹھی زبان بولتے تھے، ڈاکٹر چترنجن نے بلاتفریق لوگوں کی انسانی نقطہ نظر سے بڑی خدمت کی، بچوں کے کامیاب ڈاکٹر تھے، ان  کے حسن سلوک کے باعث مسلم مستورات بھی اپنے بچوں کو بڑی کثرت سے ان کے پاس علاج کے لئے لے جایا کرتی تھیں۔ لیکن وہی کہ محنت کرے مرغا انڈا کھائے فقیر، ان کا ناگہانی قتل ہوگیا،اس میں مسلمانوں کا ہاتھ ثابت نہ ہوسکا، ممکن ہے یہ سیاسی مسابقت کا شاخسانہ ہو، اب دوسرے ان کی شبانہ روز اور  انتھک محنت اور جدوجہد کا پھل کھا رہے ہیں۔

جلیس مرحوم کی یاد اس لئے آئی کہ چند روز قبل علم وکتاب گروپ میں مدرسوں اور دارالعلوموں کے ترجمان مجلات کے معیار کا تذکرہ آیا تھا، تو غالبا ۱۹۷۴ میں جلیس مرحوم کو ندوے کے ترجمان تعمیر حیات کا ایڈیٹر بنایا گیا تھا، جن لوگوں نے تعمیر حیات کو آغاز سے دیکھا ہے، وہ شہادت دیں گے کہ آپ کی ادارت میں یہ مجلہ اپنے معیار اور مقبولیت کی بلندی کوپہنچا، اس دوران آپ نے بڑے جاندار، اہم اور حساس موضوعات پر ادارئے لکھے، آپ کے اداریوں کے لئے تعمیر حیات کا انتظار کیا جاتا تھا، اس دوران آپکےصحافتی معرکےبھی ہوئے، خاص طور پر تقسیم ہند کے وقت کے حالات پر حکیم عبد القوی دریاباری مرحوم نے صدق جدید میں کے بجائے بلکہ سیاست جدید کانبپور میں آپ کی خوب چٹکیان لیں، حکیم صاحب سیاست جدید میں سیاسی موضوعات پر کالم لکھا کرتے تھے۔ تعمیر حیات نے دوبارہ اس وقت  بھی سنجیدہ قارئین کو اپنی جانب متوجہ کیا جب ڈٓاکٹر عبد اللہ عباس ندوی مرحوم نے اس کی ادارت سنبھالی ، اور پھر ایک بار امین الدین شجاع الدین مرحوم کے دور ادارت میں بھی اس پرچے نے قارئین کو متوجہ کیا۔

اس وقت جب سے ان پیج اردو سوفٹ ویر آیا ہے، مدرسوں کے پرچوں کی ایک باڑھ سی لگ رہی ہے، لیکن ان کے معیار پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہے، اب کسی پرچے کا اجرا ہی بنیادی مقصد بن کر رہ گیا ہے، بامقصد اور جاذب پیغامات پر توجہ، اور اس کے لئے موثر اور معیاری صحافتی اسلوب وزبان کی ضرورت عموما اب ترجیحات میں شامل نہیں رہیں، جس کا نتیجہ ہے کہ ایک عدد مجلے کے چند شماروں کی اشاعت  کے علاوہ ان کی افادیت کا احساس نہیں ہوتا، معیار پر عدم توجہ اور اس کی اہمیت ہمارے تعلیمی اداروں میں کم ہونے کی وجہ سے، اب یہ مطبوعہ سرمایہ علمی زوال کا سبب بن رہا ہے، اب اخلاف کا غیر معیاری مواد اتنا طلبہ کے مزاج پر اتنا حاوی ہورہا ہے کہ انہیں اسلاف کی کتابوں سے علم کی روشنی پانے کی فرصت ہی نہیں، لہذا ہمارے طلبہ اب صرف اخلاف سے واقفیت حاصل کررہے ہیں ، انہیں اسلاف کے علمی کاموں سے کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے، جس پر غور کرنا ہم سب کا فرض منصبی ہے۔

6/16/2020