بھٹکلی مسلمان ہونے کی وجہ سے مجھ پر ظلم وستم ڈھایا گیا؛ مولاناشبیر گنگاولی

04:21AM Wed 12 Apr, 2017

مولانا شبیر گنگاولی کے گھر میں منعقد ہوئی اخباری کانفرنس بھٹکلیس نیوز / 11 اپریل،2017 بھٹکل / (رضوان گنگاولی) "مجھے جو پھنسیا گیا ہے  وہ صرف مسلمان اور بھٹکلی مولوی ہونے کی وجہ سے تھا ورنہ میرا کسی بھی دہشت گرد گروپ یا فرد  کے ساتھ اس طرح  کا کوئی تعلق نہیں تھا جوکہ عدالت کے فیصلہ سے واضھ بھی ہوگای ہے"۔ یہ باتیں  دو دن قبل مینگلو کی عدالت سے باعزت بری کئے گئے مولانا شبیر گنگاولی نے اپنے گھر میں منعد اخباری کانفرنس میں صحافیوں کو بتائی۔انہوں  نے اس موقع پر اپنی گرفتاری سے رہائی تک کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ  مجھے شروع سے ہی بے وجہ پھنسایا گیا تھا اور مجھ پر ظلم ڈھایا گیا تھا انہوں نے اس کی ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ بنگلور کے چنا سوامی اسٹیڈیم  میں دھماکہ 2010 میں ہوا تھا  اور اس کا الزام بھی مجھ پر ڈالنے کی کوشش کی گئی اوراس الزام کو قبولنے کے لئے بھی مجھ کو تکیفیں دی گئیں حالانکہ میں 2008/سے  ہی جیل میں بند تھا پھر اس دھماکہ میں میرا ہاتھ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ انہوں نے اپنے ہندوستانی ہونے پر فخر جتاتے ہوئے کہا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور  ہندوستان کی اعلیٰ عدلیہ سے بہت امید  تھی کہ انہیں ایک دن باعزت بری کیا جائے گا اور  آج آخر کار مجھے انصاف نصیب ہوا۔ shabbir-house-03 انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "پونا میں پہلے مجھے اور میرے بہنوئی کو مسجد سے رات ایک بجے حراست میں لیا  گیااور رات بھر مجھ پر بہت ہی ظلم و ستم ڈھایا گیا، مجھے دہشت گردی کے الزام میں پکڑا  تو گیا تھا لیکن ثبوتوں کے نہ ملنے  کے سبب مجھ پرجعلی نوٹ کا کیس  تھوپ دیا گیا، اس کے بعد پھر مینگلور اور چنا سوامی کا کیس بھی ڈالا گیا"۔ انہوں نے بہت ہی تفصیل کے ساتھ ان پر ہوئے ظلم کی داستان بتائی اور اپیل کی کہ مسلمان اور ہمارے ادارے کسی بھی بے گناہ کو جو بھی جیل میں ہیں ایسے جانے نہ دیں بلکہ ان کی صحیح وکیل کے ذریعہ پیروی کریں اور انہیں انصاف دلا کر باعزت بری کرنے کی کوشش کریں۔ پریس کانفرنس میں APCR کی جانب سے ضلع اُترکنڑا کے جنرل سکریٹری قمر الدین مشائخ نے کہا کہ اے پی سی آر کی جانب سے ہم نے  یہ کیس ارشد بالور صاحب کے حوالہ کی تھا۔چونکہ عدالت نے انہیں کسی بھی کیس میں مجرم قرار نہیں دیا اس لئے ہم نے اس سلسلہ میں کوشش کی اور الحمدللہ آج ہمیں کامیابی نصیب ہوئی۔ انہوں نے اس کیس کو حل کرنے کے درمیان پیس آنے والی تکلیفوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو اس کیس کے سلسلہ میں ایک بارپونا جانا پڑا تھا  لیکن وہاں ہمیں  صرف بھٹکل کا کہنے کی بناء پر روم نہیں دیا گیا جس کی بناء پر ہمیں ایڈوکیٹ کے رشتہ داروں کے گھر جاکر رکنا پڑا۔انہوں نے اے پی سی آر  کے توسط سے اپیل کی کہ  عوام کو چاہئے کہ عدالت جب تک  کسی کو مجرم قرار نہیں دیتی وہ خود فیصلہ کرکے اسے مجرم قرار نہ دیں۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اے پی سی آر صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ یہ تمام انسانیت کے لئے قائم کی گئی تنظیم ہے۔ اے پی سی آر کی جانب سے ایڈوکیٹ ارشد بالور نے مولوی شبیر حُسین ندوی کے کیس کے تعلق سے تمام جانکاری دی اور ہائی کورٹ کی طرف سے اس کیس میں بہت تعاون ملنے کا ذکر کیا۔ پریس کانفرنس میں اے پی سی آر کے سرگرم رکن مولانا زُبیر مارکٹ بھی موجود تھے۔