سری لنکا میں سیاسی بحران مزید گہرا ہوتا ہوا: صدر نے پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا
11:50AM Sat 10 Nov, 2018
سری لنکا کے صدر میتری پالا سری سینا نے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا ہے۔ سری سینا نے جمعہ کو نصف شب سے ملک کی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا ۔ ذرائع کے مطابق، سری سینا کے اس فیصلے سے ملک میں موجودہ سیاسی بحران مزید گہراہو گیا ہے۔صدر کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ پارلیمنٹ تحلیل ہونے کے بعد اب جنوری یا فروری میں نئے پارلیمانی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔
سری لنکا میں اقتدار کو لے کر گزشتہ دو ہفتوں سے جاری کشمکش کے بعد صدر کی طرف سے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس سے قبل 26 اکتوبر کو ایک اہم ڈرامائی سیاسی واقعہ میں سری سینا نے وزیر اعظم رانل وكرم سنگھے کو برخاست کرکے سابق صدر مہندا راج پکشے کو وزیر اعظم کے طور پر حلف دلایا تھا جس کے بعد ہی سے سری لنکا میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا تھا۔ اس کے بعد صدر میتری پالا سری سینا نے پارلیمنٹ سیشن کو 16 نومبر تک نہیں بلائے جانے کا حکم جاری کیا۔
سابق وزیر اعظم رانل وكرم سنگھے نے اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلائے جانے کی مانگ کی تھی جس کے چند گھنٹے بعد ہی صدر سری سینا نے ایک حکم جاری کرکے 225 ارکان والی پارلیمنٹ کے سیشن کو 16 نومبر تک ملتوی کر دیا تھا۔ اس کے بعد سری سینا نے 14 نومبر کو پارلیمنٹ کا سیشن بلائے جانے پر اتفاق کیا تھا لیکن اب پارلیمنٹ تحلیل کرنے کے ساتھ ہی یہ امید بھی ختم ہو گئی ہے۔ وكرم سنگھے کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں ان کے پاس اکثریت ہے اور انہیں عہدہ سے ہٹایا جانا غیر آئینی ہے۔صدر سری سینا اور وكرم سنگھے میں اقتصادی اور سیکورٹی کے مسائل پر بڑھتے اختلافات کی وجہ سے یہ واقعات سامنے آئے تھے۔ سری سینا کے یونائیٹڈ پیپلز فریڈم الائنس (يوپي ایف ا ے) نے وكرم سنگھے کی یونائیٹڈ نیشنل پارٹی (يواین پي) سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ یو پی ایف اے کے اہم حلیف سری لنکا فریڈم پارٹی (ایس ایل ایف پی) کے صدر میتري پالا سری سینا اور وكرم سنگھے کی یونائیٹڈ نیشنل پارٹی (يواین پي) نے عام انتخابات کے بعد اگست 2015 میں ملی جلی حکومت بنائی تھی۔