کرنل پروہت کواین آئی اے کی کلین چٹ پرمولانا ارشد مدنی حیرت زدہ ، گہری سازش کا اندیشہ کیا ظاہر

05:31AM Fri 22 Apr, 2016

نئی دہلی : جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے سمجھوتہ ایکسپریس، مالیگاؤں اور دیگر مقامات پر ہوئے بم دھماکوں کے کلیدی ملزم کرنل پروہت کو این آئی اے کی ٹیم کے ذریعہ کلین چٹ دیئے جانے پر انتہائی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قراردیا اور اس کے پیچھے کسی گہری سازش اوردباؤ کاخدشہ ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی ایماندار اور فرض سناش این آئی اے آفیسر ہیمنت کرکرے کی قیادت میں اس بھگوا دہشت گردی کانہ صرف انکشاف کیا گیا تھا بلکہ اس تعلق سے تمام اہم ثبوت عدالت کے سامنے پیش کئے گئے اس کے بعد سوامی اسیمانند کا عدالت کے سامنے اعتراف جرم نے تمام معاملے کو واضح کردیا تھا جس کی بنا پر این آئی اے کی خصوصی عدالت نے کرنل پروہت، ٹھاکرپرگیہ اور سوامی اسیمانند سمیت دیگر ملزمان کی ضمانتوں کی درخواست باربارمستردہوئی، ایسے میں این آئی اے کا یہ نیا رویہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ حکومت یا اس سے متعلق تنظیمیں اپنا دباؤ بناکر مقدمے کو ایک نیا رخ دینے اور اصل راہ سے بھٹکانے کی کوشش کررہی ہے ‘ لہٰذا نئی حکومت بننے کے بعد این آئی اے کا یہ کہنا کہ ملزمین کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے انصاف کے ساتھ کھلا مذاق ہے ۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ کرنل پروہیت ، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور میجر اپادھیائے سمیت دیگر بھگوا ملزمین کی ضمانت کی عرضداشتیں نچلی عدالت سے لیکر عدالت عظمی تک رد کرانے کے لئے جمعیۃ علماء ہند نے مداخلت کار کا کردار ادا کیا تھا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ آنجہانی ہیمنت کرکرے کی تفتیش کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ سب سے پہلے ہیمنت کرکرے نے ہی بھگوا دہشت گردوں کے تعلق سے عوام میں ثبوت و شواہد پیش کے تھے اور پھر مالیگاؤں2008بم دھماکہ معاملے میں ان کی گرفتاری عمل میںآئی تھی ۔ مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ بھگوا دہشت گردوں کو راحت پہنچانے کا ایک بڑا ثبوت اس وقت سامنے آیا تھا جب مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملے کی سرکاری وکیل روہنی سالیان نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا کہ حکومت اور این آئی اے ان پر دباؤ بنا رہی تھی کہ وہ ہندو ملزمین کے خلاف نرمی برتیں تاکہ جلد از جلد ان کی رہائی ممکن ہوسکے ۔ مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ بھلے ہی سمجھوتا ایکسپریس بم دھماکہ معاملے سے ملزم کرنل پروہیت کو راحت ملتی دیکھائی دے رہی ہے لیکن مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملے میں ملزمین کے خلاف پختہ ثبوت و شواہد موجود ہیں اور جمعیۃ علماء ہند اس معاملے میں بطور مداخلت کار یہ کوشش کرے گی کہ بھگوا ملزمین کو کسی بھی طرح کی راحت نہ ملے اور ان لوگوں کو ان کے گناہوں کی سزا ملے ۔