شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں سے ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک
02:45AM Thu 22 Aug, 2013
شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں سے ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک
دمشق ۔21اگست (رائٹر‘ایجنسیز)شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں بشار الاسد کی وفادار فوج نے میزائل حملے کئے ہیں جن سے مہلک گیس کے اخراج سے بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں۔شامی قومی اتحاد نے کہا ہے کہ صدر اسد کی حامی افواج نے کارروائی میں کیمیاوی ہتھیاراستعمال کیے ہیں، جس کے نتیجے میں 650افراد مارے گئے ہیں۔ دمشق حکومت نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔آج صبح سے شامی صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے دمشق کے نواحی علاقے غوطہ میں اپنی فضائی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیاہے۔ شامی تنظیم کے مطابق فوج کی طرف سے علی الصبح شروع کی گئی اس کارروائی میں باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا، جن کے نتیجے میں کم ازکم 100 افراد ہلاک جب کہ درجنوں دیگر زخمی بھی ہو گئے۔ بتایا گیا ہے بمباری جاری ہے اور ہلاکتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کی اطلاع ہے کہ مہلک گیس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی علاقوں سے زمینی اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں اور گیس وہاں بھی پھیل چکی ہے۔"سانا الثورہ" نے طبی ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ دمشق اور اس کے مضافات میں باغیوں کے خلاف میزائل حملوں میں مہلک سیرین گیس استعمال کی گئی ہے۔ دمشق کے ایک فیلڈ استپال میں لائے گئے زخمیوں اورنعشوں کو اسی گیس سے متاثر بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسدی فوج کی تازہ کارروائی میں مارے جانے والے زیادہ تر عام شہری خاص طور پر کم عمر بچے شامل ہیں۔شام میں حکومت مخالف سماجی کارکنوں نے ویب سائٹ پرایک ویڈیو فوٹیج اپ لوڈ کی ہے جس میں عین ترما، زملکا اور جوبر میں زہریلی گیس سے متاثرہ بڑی تعداد میں بچوں اور خواتین کوبے ہوش دکھایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ مہلک گیس سے لیس میزائل حملوں کا ہدف بنائے گئے یہ تینوں قصبے دمشق کے جنوب میں واقع ہیں اور جغرافیائی طور پر باہم مربوط ہیں۔زملکا میں ایک سماجی کارکن نے بتایا کہ مہلک گیس پھیلانے والے بم حملوں کے نتیجے میں علاقے میں خوفناک انسانی المیہ رونما ہوچکا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں زہریلی گیس سے متاثرہ سیکڑوں بچے اور خواتین بے یارو مددگار سسک سسک کر مر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکن کا کہنا تھا کہ اب تک اسپتالوں میں لائی جانے والی نعشیں اور تمام زخمی عام شہری ہیں۔ سڑکوں اور گلیوں میں اب بھی بڑی تعداد میں نعشیں اور زخمی پڑے ہوئے ہیں۔زملکا کے موبائل اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ چند گھنٹوں کے دوران اسپتال میں کم سے کم 200 متاثرین کو لایا گیا ہے جن میں بیشتر بچے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زملکا قصبے میں صرف دو موبائل اسپتال ہیں، جن کے پاس ادویہ، ڈاکٹر اور ایمبولینس سروسز کی شدید قلت ہے، جس کے باعث وہ زخمیوں کا مناسب علاج نہیں کر پار ہے ہیں۔ ڈاکٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ مہلک گیس سے متاثرہ شہریوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اسپتال میں مسلسل زخمیوں کو لایا جا رہا ہے۔نیوز ایجنسی رائٹر کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 494 ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہلاک شدگان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔تاہم دمشق حکومت نے ایسی خبروں کے منظر عام پر آنے کے فوری بعد ہی ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ سرکاری نیوز ایجنسی ثناء نے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، غوطہ(کے نواحی علاقوں) میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کی خبریں مکمل طور پر غلط ہیں۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسی بے بنیاد خبروں سے اقوام متحدہ کے مشن کی انکوائری میں خلل ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ امر اہم ہے کہ غوطہ میں اسد حکومت کی طرف سے کیمیاوی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کا یہ واقعہ اس وقت رونما ہوا ہے، جب اقوام متحدہ کی معائنہ کار ٹیم شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے تحقیقات کرنے وہاں پہنچی ہوئی ہے۔ادھر عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی نے شام میں موجود اقوام متحدہ کے خصوصی معائنہ کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مقام کا فوری طور پر دورہ کریں، جہاں مبینہ طور پر کیمیاوی ہتھیاراستعمال کیے گئے ہیں۔ شامی اپوزیشن نے اس صورتحال میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس پر زور دیا ہے۔اسی دوران دمشق حکومت کے ایک سکیورٹی اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا ہے کہ کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کی خبریں جھوٹی ہیں، وہاں روزانہ کی بنیاد پر جھڑپیں ہو رہی ہے اور اس کے علاوہ وہاں کچھ بھی نیا نہیں ہوا ہے۔ تمام علاقوں میں مسلح گروپوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ جاری ہے۔ شام کے قومی اتحاد نے فوری طور پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانیہ کے وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ ان کا ملک بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے اپوزیشن کے الزام کو سلامتی کونسل سے رجوع کرے گا۔