نوٹ بندی کو لے کر وزیر اعظم مودی کا اپوزیشن پر نشانہ

03:43PM Fri 16 Dec, 2016

کہا کانگریس کیلئے ملک سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود وہ کالے دھن کے ساتھ ہے نئی دہلی۔(بھٹکلیس نیوز) وزیراعظم مودی نے نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر اپوزیشن کی مخالفت پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پہلے اپوزیشن برسراقتدار پارٹی کے ساتھ گھوٹالوں کا انتشاب کرنے کیلئے ایمانداری کے حق میں احتجاج کرتا تھا لیکن آج برسراقتدار پارٹی ملک کی خاطر بدعنوان اور کالے دھن کیخلاف مہم چلارہی ہے اور اپوزیشن اس کے خلاف کھڑا ہے۔یو این این کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی پارلیمانی ٹیم کی میٹنگ میں پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کو خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کے رویہ پر طنز بھی کیا۔انہوں نے ملک کے عوام سے ڈیجیٹل معیشت کو اپنانے کی اپیل کی اور کہا کہ لوگ اسے اپنی طرز زندگی کا حصہ بنائیں۔ا س سے کالا دھن ہمیشہ کیلئے ختم ہوگا اور شفافیت آئے گی۔میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیراننت کمار نے بتایا کہ میٹنگ میں وزیراعظم نے کہا کہ 16دسمبر کو بنگلہ دیش وموچن دیوس ہے۔تب اپوزیشن نے کوئی ثبوت نہیں مانگا تھا ۔آج اتنی گراوٹ آگئی ہے کہ اپوزیشن فوج کی قدرت کے ثبوت مانگ رہا ہے۔واضح رہے کہ کمار نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے معاملے پر وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں تقریباً 45 سال پہلے وانگچو کمیٹی نے نوٹوں کی منسوخی کی سفارش کی تھی اور کہا تھا کہ ابھی نوٹوں کی منسوخی کی جائے توملک کو فائدہ ہوگا۔اس وقت محترمہ اندرا گاندھی وزیر اعظم تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سفارش کو 45 سال بعد ہم نے قبول کیا۔اسی طرح سے 1988 میں راجیو گاندھی حکومت گمنام جائیداد کے خلاف قانون لے کر آئی لیکن 25 سال تک اس بارے میں مطلع نہیں کیا اور نہ ہی اصول بنائے۔وزیر اعظم نے کہا کہ 2014 میں سپریم کورٹ نے مرکز کی منموہن سنگھ حکومت پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تین سال پہلے یعنی 2011 میں اس نے حکومت کو کالے دھن کو ختم کرنے کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیم قائم کرنے کیلئے کہا تھا لیکن تین سال میں ایک بھی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 1971۔72 میں وانگچو کمیٹی نے جب نوٹوں کی منسوخی کی سفارش کی تھی تو کمیونسٹ پارٹی کے اس وقت کے رہنما ج?وترمیباسو نے کہا تھا کہ یہ فوری طور پر کیا جانا چاہیے۔