ممتابنرجی نے ہیلتھ کنٹرولر کمیشن تشکیل دیا،نجی اسپتالوں پر لگام لگانے کی تیاری 

02:32PM Sat 18 Mar, 2017

کولکا تہ، (بھٹکلیس نیوز)ریاست بھر میں نجی اسپتا لوں کی من مانی کے خلاف وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ایک اور بڑا قدم اٹھایا ہے۔اب ریاست کے اسپتالوں پر نظر رکھنے کے لیے ہیلتھ کنٹرولر کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔جمعہ کو نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے بتایا کہ ریاستی ہیلتھ محکمہ نے ایک 11رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، اس کمیٹی کی قیادت جج اسیم کمار رائے کریں گے، حالانکہ وزیر اعلی نے یہ بھی کہا کہ اگر اسیم کمار رائے اس کے لیے تیار نہیں ہوئے تو انیل ورما کو اس کی ذمہ داری دی جائے گی۔وزیر اعلی نے بتایا کہ اس کمیشن میں ایک بھی سیاسی شخصیت کو نہیں رکھا گیا ہے ،ریاستی حکومت کلینکل اسٹیبلشمنٹ بل کو ریاست بھر میں جلد سے جلد لاگو کرنے کی خواہش مند ہے، اس کے لیے ضلع میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی قیادت میں کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔انہوں نے اسپتالوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدمت کی جگہ ہے لیکن کچھ لوگوں نے اسے کاروبار بنا لیا ہے۔وزیر اعلی نے صاف کیا کہ من مانی کے معاملے میں ڈاکٹروں پر کوئی الزام نہیں ہے، لیکن اسپتال انتظامیہ نے لوٹ کا راستہ بنا رکھا ہے۔انہوں نے مریضوں کے اہل خانہ سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صورت میں قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے، کسی بھی طرح کے واقعہ کی شکایت کمیشن میں یا تھانے میں درج کروائیں، مناسب کارروائی ہوگی۔وزیر اعلی نے کہا کہ بنگال میں جیسا صحت سے متعلق نظام ہے ،ویسا پورے ملک میں کہیں نہیں ہے، یہاں گردے اور دل کا آپریشن بھی مفت کیا جاتا ہے۔ریاست کے 6کروڑ لوگوں کو سرکاری اسپتالوں سے مناسب طبی ملتی ہے۔بچوں کی شرح اموات میں نمایاں کمی آئی ہے ساتھ ہی نوزائیدہ بچے کی پیدائش کی تعداد بھی بڑھی ہے،ہماری حکومت ریاست بھر میں بہتر طبی خدمات مہیا کروا رہی ہے، ایسے میں علاج کے نام پر ریاست میں لوٹ کو بالکل برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اسپتال بلیک میلنگ کی جگہ نہیں ہے، یہاں بہتر انتظامات ہونے چاہیے۔اپو لو اسپتال کے بارے میں وزیر اعلی نے بتایا کہ اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ملاقات کے لیے وقت مانگا گیا ہے،خط کے ذریعے انہوں نے ملنے کی درخواست کی ہے، ہم لوگ ان سے ملاقات کرکے دیکھیں گے کہ ان کا کیا کہنا ہے۔ اس دوران وزیر اعلی کے ساتھ ہیلتھ سکریٹری ڈاکٹر آر ایس شکلا بھی موجود تھے۔