کرناٹک فلور ٹیسٹ: اسمبلی کی کارروائی ملتوی، اسپیکر کا پیر کو ووٹنگ کرانے کا فیصلہ

04:16PM Fri 19 Jul, 2019

کرناٹک میں ایچ ڈی کمار سوامی کی مخلوط حکومت کے تعلق سے جاری اٹھاپٹک کے بیچ ریاست کے کانگریس صدر دنیش گنڈو راؤ نے کانگریس اور جنتادل ایس کے 15ارکان اسمبلی کے استعفے کے پیچھے مرکزی وزیر داخلہ اور بھارتیہ جتناپارٹی کے صدر امت شاہ کا ہاتھ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے اسکی جانچ کرانے کا مطالبہ کیاہے ۔ کرناٹک میں حکمراں کانگریس ۔جنتادل ایس کے استعفے پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے گنڈوراؤ نے ارکان کے استعفے کے پیچھے شاہ کا ہاتھ ہونے کاالزام لگایا۔انھوں نے کہاکہ شاہ یہ سب ریاست میں آئینی بحران اور صدرراج نافذ کرنے کے ارادے سے کررہے ہیں ۔ بی جے پی کے رکن سی ٹی روی نے راؤ کے الزامات کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسمبلی اسپیکر سے شاہ پر ایوان میں کیے گئے تبصرے کو کارروائی سے نکالنے کی درخواست کی ۔انھوں نے کہا،’’ کانگریس کے رکن بے بنیاد الزام لگارہے ہیں ۔‘‘ اس دوران کانگریس اور اپوزیشن کے ارکان کے ایک دوسرے کے سامنے آنے پر اسپیکر کے آر رمیش کمارنے مداخلت کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایوان کی کارروائی دیکھیں گے اور شاہ کے خلاف کیے گے تبصرے کو کارروائی سے نکلوادیں گے ۔
 کرناٹک کے اسپیکرکے آررمیش نے کہا ہے کہ میں سپریم کورٹ، لوگوں اورایوان کو مطلع کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بھی اراکین اسمبلی نے مجھے سیکورٹی کے لئے خط نہیں لکھا ہے اورمجھے نہیں معلوم کہ کیا انہوں نے اس بارے میں حکومت کو لکھا ہے۔ اگرانہوں نے کسی بھی اراکین کو مطلع کیا ہے کہ وہ سیکورٹی وجوہات سے ایوان سے دورہیں تو وہ لوگوں کوخوفزدہ کررہے ہیں۔اسپیکرنے کہا کہ اگراراکین اسمبلی نے کہا ہے کہ وہ سیکورٹی کے موضوعات کے اسباب یہاں نہیں آرہے ہیں تو یہ بدقسمتی ہے۔ اگرآپ اپنے کچھ غلط کاموں کو چھپانے کے لئے یہ بیان دے رہے ہیں، تومیں اس کے حق میں نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع کوپھر سے نہ اٹھائیں۔ میں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اسپیکرکے آررمیش کمارنے کہا کہ مجھے ابھی تک کسی بھی اراکین اسمبلی نے تحریری طورپرسیکورٹی نہیں مانگی ہے۔ ایسی حالت میں میں کسی کوسیکورٹی نہیں دے سکتا۔ مجھے نہیں پتہ کہ انہوں نے حکومت کو لکھا ہے یا نہیں۔ میں کسی کو باندھ کریہاں نہیں لاسکتا۔
 اس سے قبل کرناٹک میں سیاسی رشہ کشی کا دورجاری رہا۔ برسراقتداراوراپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کی جانب سے ایک دوسرے پرمسلسل الزام تراشی کی جارہی ہے۔ اس دوران فلورٹسٹ معاملے میں نیا موڑآگیا ہے۔ کانگریس نے گورنروجوبھائی والا کے ذریعہ وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی کو لکھے گئے خط کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ وہیں گورنروجوبھائی والا نے وزیراعلیٰ کو خط لکھ کرشام 6 بجے تک فلورٹیسٹ کی ہدایت دی ہے۔
 وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی نے اسمبلی اسپیکرسے کہا- میں آپ کے اوپرفلورٹیسٹ پر فیصلہ چھوڑدیتا ہوں۔ یہ دہلی کے ذریعہ  ہدایت نہیں کی جائے گی۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ گورنرکے بھیجے گئے خط سے میری حفاظت کریں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گورنرکے تئیں میرے دل میں احترام ہے، لیکن گورنرکے دوسرے ' لو لیٹر' نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے۔ انہیں صرف 10 دن پہلے ہارس ٹریڈنگ کے بارے میں پتہ چلا۔ (انہوں نے ایوان میں بی ایس یدی یورپا کے سکریٹری سنتوش کی تصویریں دکھائیں، جوکہ مبینہ طورپرآزاد رکن اسمبلی ایچ ناگیش کے ساتھ ایک طیارہ میں سوار ہوئے تھے)۔ کانگریس لیڈرسدا رمیا نے برسراقتداراتحاد کے مطالبے کو دوہراتے ہوئے کہا 'چرچا ابھی بھی پوری نہیں ہوئی ہے اور20 اراکین کو حصہ لینا باقی ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ آج پورا ہوگا، یہ پیرکو بھی جاری رہے گا'۔ اس سے قبل کرناٹک میں ایوان کی کارروائی لنچ بریک تک کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔ اس سے قبل اسمبلی اسپیکر کے آر رمیش کمارنے واضح طورپرکہا ہے کہ وہ گورنرکے احکامات کونہیں مانیں گے۔ انہوں نےکہا ہے کہ پہلے بحث ہوگی، اس کے بعد ہی ووٹنگ کرائی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بحث پوری نہیں ہوجاتی، تب تک ووٹنگ کے لئے دباو نہیں ڈالا جاسکتا۔
اس سے قبل کرناٹک کے گورنر وجوبھائی والانے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی کو آج دوپہر 1:30 بجے تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی تھی۔اس سے پہلے گورنرنے وجوبھائی والا نے اسپیکرآرکے رمیش کمارکو پیغام بھیجاتھا کہ وزیراعلیٰ کی تجویزتحریک اعتماد پر کاروائی جمعرات تک ہی پوری کرلیں۔ اس کے باوجود اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کرشن کمارریڈی نے ہنگامے اور برسراقتدار پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کے ذریعے بی جےپی پرگورنر کے غلط استعمال کا الزام عائد کرتے ہوئے نعرے بازی کرنے کی وجہ سے اسمبلی کی کاروائی جمعہ تک کے لیے ملتوی کردی۔ اب گورنرنے وزیراعلیٰ کو ہدایت دی ہے کہ جمعہ کو1:30 بجے تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کریں۔ اس طرح سے 14 ماہ پرانی کانگریس۔ جے ڈی ایس کے اتحاد کی حکومت کی قسمت کا آج فیصلہ ہوگا۔کرناٹک میں پارلیمانی امور کے وزیرکرشنا بايریگوڑا نے اس معاملے میں کہا کہ موصوف گورنر کی ہدایت کے پیچھے ان اپوزیشن بی جے پی اراکین اسمبلی کا مطالبہ کارفرماہے۔ جنہوں نے گورنرسے ملاقات کرکے مداخلت کرنے کی گزارش کی تھی۔وہیں سابق وزیر ایچ کے پاٹل (کانگریس) نے گورنر کی ہدایت پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گورنر اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتے ہيں۔ اس پر بی جے پی ارکان باسوراج بومئي اورسریش کمار نے مخالفت جتاتے ہوئے کہا کہ گورنر کو ایوان کے اسپیکرکو ہدایات دینے کا مکمل اختیارہے۔ کرناٹک اسمبلی میں متعلقہ پارٹیوں کے وہپ جاری کئے جانے کے باوجود کانگریس کے 12 اورجنتادل (ایس) کےتین اراکین سمیت کم از کم 15اراکین اسمبلی کےجمعرات کو ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیاہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تمام 15باغی اراکین اسمبلی نے وہپ جاری ہونے کے باوجود ایوان کی کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔ باغی اراکین اسمبلی کے ایوان کی کارروائی میں شامل نہیں ہونے سے مخلوط حکومت اقلیت میں نظر آرہی ہے۔