فٹ پاتھ پر سونے والوں ، مسافروں اور ضرورت مندوں میں یاران ادب بیدر نے تیسری دفعہ رضائیاں تقسیم کیں

01:14PM Thu 5 Jan, 2017

بیدر۔(بھٹکلیس نیوز)یاران ادب بیدر کے زیراہتمام فٹ پاتھ پر سونے والوں ، مسافروں اور ضرورت مندوں میں کل شب تیسری دفعہ رضائیوں کی تقسیم عمل میں آئی جس کی قیادت جناب سخاوت علی سخاوت ؔ صدر یاران ادب بیدر نے کی۔رہنمائی کافریضہ محمدیوسف رحیم بیدری سکریڑی یاران ادب بیدر نے انجام دیا۔ اس دفعہ قدیم شہر کے مختلف محلہ جات کو رضائیوں کی تقسیم کے لئے منتخب کیاگیاتھا۔ گاوان چوک پررات ساڑھے دس بجے کے قریب ایک نیم پاگل شخص کھڑا بھیک مانگ رہاتھا، اس کو رضائی دینے کی یاران ادب کی ٹیم نے کوشش کی لیکن وہ بھاگ کھڑا ہواکسی طرح ٹیم کے ہاتھ نہیں آیا۔بہمنی روڈ پر ایک دوکان کے سامنے چکٹ بالوں والا شخص سویاہواتھا،اس کے پاؤں بھی گندگی میں اٹ کر سوکھ چکے تھے۔ بھائی اظہر خان ، سخاوت علی سخاوت ، سراج الحسن شادمان اورمحمد ابرارالدین نے آگے بڑھ کر اس پر رضائی اوڑھائی اور کھانے کے لئے بسکٹ دیا ۔ پانی کی پیاکٹ بھی دی اس نے ان پیاکٹوں کولے کر لیٹے لیٹے ہی تناول کرناشروع کردیاتھا۔ کچھ ہی دوری پر ایک ادھیڑ عمر کے صاحب بغیر پاجامہ پہنے نظر گھومتے نظر آئے ۔ انہیں رضائی اوڑھائی گئی۔ جب یہ ٹیم عثمان گنج میں مستحق افراد کو تلاش کرکے ترکاری مارکیٹ کے قریب پہنچی تو گاوان چوک والا نیم پاگل شخص وہاں بھیک مانگتا نظر آیا۔سراج الحسن شادمان نے جاکر اس کو رضائی دینے اوراس پر اوڑھانے کی کوشش کی ، وہ چیخیں مار کر بھاگ نکلا۔ وہاں سے یہ ٹیم درگاہ حضرت ملتانی بادشاہ ؒ آئی لیکن وہاں مستحقین نظر نہیں آئے ۔ جبکہ یہاں مستحق افراد کا جمگٹھا ہوتاہے۔اسی درمیان میں جناب محمداسمعیل تیلی کامنااکھیلی سے فون آیاکہ گاؤں میں بھی ضرورت مند لوگ سردی میں اکٹر رہے ہیں ، اگر تعاون فرمائیں تو مناسب رہے گا۔انہیں بتایاگیاکہ فی الحال سڑکوں پر سونے والے یا مسافر ین میں ہی بلانکٹ تقسیم کئے جارہے ہیں۔ پھریہ ٹیم ٹسکر روڈ سے ہوتے ہوئے جب جنواڑہ روڈ پہنچی توسنڑل لائبریری سے کچھ دوری پر ایک شخص دوکان کے پاس سویا ہواپڑاتھا بلکہ سرد ی میں ٹھٹھراپڑاتھا۔ محمدیوسف رحیم بیدری نے آگے بڑھ کر اس کو رضائی اوڑھائی۔ شادمان اور ابرار نے پانی اور بسکٹ پیش کئے ۔ وہ احسان مندی کے احساس تلے ہاتھ جوڑنے لگا، قدموں کو چھونے کی کوشش کی ، اس کو روک دیاگیا۔ امبیڈکرسرکل ، کری اپا سرکل ، اور اندرامارکیٹ کے پاس اس ٹیم کو کوئی نہیں ملا لیکن سی ایم سی کامپلکس کے پاس ایک نوجوان چھوٹا ساالاؤ جلائے بیٹھا تھااس کورضائی اوڑھائی گئی ۔ وہاں سے یہ ٹیم سید ھا ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ ریلوے گیٹ کے دائیں طرف ایک نوجوان سردی میں ٹھٹھرا بیٹھا تھا۔ دریافت کرنے پر پتہ چلاکہ بیدر ہی کا رہنے والا ہے۔ اس کو رضائی دی گئی۔ ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں امبیڈکر کی مورتی نصب ہے وہاں پر ایک نوجوان سردی میں اکٹراہواتھا۔ اس پررضائی اوڑھائی گئی۔ریلوے اسٹیشن میں داخل ہونے سے پہلے ہی سامنے کے حصہ میں ایک اپٹ ٹو ڈیٹ نوجوان اپنے گھٹنوں میں سردئے سویاپڑاتھا ، اس پریاران ادب کی ٹیم نے رضائی اوڑھائی ۔ ٹکٹ کاؤنٹر والے حصہ میں دوسرے نوجوان کا یہی حال تھا۔ اس کو رضائی اوڑھائی جارہی تھی کہ سخاوت صاحب نے اسی دیوار سے متصل لیٹے ہوئے شخص کی طرف اشارہ کیاکہ اس کو بھی اوڑھایاجائے۔ دیواروالے شخص کو رضائی اوڑھانے اور کھانے کے لئے بسکٹ اور پانی دے رہے تھے کہ ایک صاحب نے چھوٹے سے بچے کے ساتھ آکر انہیں رضائی دینے کا مطالبہ کیاجو ٹیم نے پوراکردیا۔ یاران ادب کے ان ساتھیوں نے ان صاحب کے ساتھ تصویر بھی اتارلی۔ایک برقعہ پوش بزرگ خاتون نے اظہر بھائی سے رضائی مانگی، رضائی دے دی گئی ۔ ٹکٹ کاؤنٹرکے سامنے ڈالی گئی کرسیوں کے پاس ایک نوجوان اپنے پاؤں پیٹ میں لئے سورہاتھا اس نوجوان پر بھی رضائی اوڑھائی گئی۔اس تعلق سے سخاوت صاحب کی تیزی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ دھوتی پہنے ہوا ادھیڑ عمر شخص زمین پر بیٹھا کانپ رہاتھا ،یوسف رحیم بیدر ی نے پوچھا بلانکٹ چاہیے ، اس نے اثبات میں سرہلایا۔ اس کو رضائی اوڑھائی گئی۔ ریلوے اسٹیشن کے اندرونی حصہ میںیہ ٹیم پہنچی توساڑی زیب تن کی ہوئی دوخواتین اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ زمین پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہیں ایک رضائی دی گئی۔ تمام مسافروں کو معلوم ہوگیاکہ سردی سے بچاؤ کے لئے یہاں بلانکٹ تقسیم کی جارہی ہیں تو بہت سے لوگ بلانکٹ طلب کرنے چلے آئے ۔ شادمان نے ایک بزرگ خاتون پر رضائی اوڑھائی۔ ایک ادھیڑ عمر خاتون سوئٹر میں ملبوس تھی لیکن بلانکٹ مانگ رہی تھی ،اس کو بھی تھوڑسے سے استفسار کے بعد بلانکٹ دے دی گئی۔ اس ٹیم کے ساتھ ایک آٹو ڈرائیور نوجوان آشامل ہواتھا اور بڑی تیز رفتاری سے مدد کررہاتھا۔ اس نے ٹیم کے ساتھ چائے بھی پی ۔ چائے نوشی کے دوران اوپر ذکرکردہ دوخواتین میں سے ایک خاتون اپنے بچے کو گود میں لئے ٹیم تک پہنچی اور رضائی طلب کرنے لگی ۔ پوچھاگیاکہاں جارہی ہو؟ اس نے حیدرآباد بتایا۔ انہوں نے چائے پینے کوکہا ۔ اس نے منع کردیا۔ ٹیم نے اس کو بتایاکہ رضائیاں کم ہیں ، دی نہیں جاسکتیں۔ وہ چلی گئی ۔ اسی درمیان میں ایک لمباتڑنگا نوجوان ہاتھ باندھے رضائی طلب کرنے لگا۔اور خود کو داونگیرے کا باشندہ بتارہاتھا۔ یاران ادب کے ساتھیوں نے اسے چائے پلائی اور رضائی بھی اس کے حوالے کی ۔و ہ احسان مندی سے پاؤں چھونے کی کوشش کرنے لگا اسے روک دیاگیا۔ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے کچھ دیگرافراد میں رضائیاں دوبارہ تقسیم کی گئیں۔ اپنی اپنی موٹرسائیکلوں کے قریب ٹیم پہنچی تو شادمان نے کہاکہ ایک برقعہ پوش خاتون اندراسٹیشن میں اکڑی ہوئی بیٹھی ہیں ان کے ساتھ بچہ بھی ہے لیکن سردی سے بچاؤ کاکوئی ذریعہ نہیں ہے۔ میں انہیں رضائی دے کر آتاہوں۔وہ انہیں رضائی دینے گئے تھے کہ وہیں کی دوسری ایک اور خاتون نے رضائی کا مطالبہ کیا۔ رضائیاں ختم ہوچکی تھیں، ایک رضائی اظہر احمد خان کسی سنجو نامی شخص کو دینے کے لئے اپنے پاس رکھ چکے تھے ۔ٹیم کے تمام افراد واپس چلنے لگے تو دیکھا کہ امبیڈکر کے مجسمہ کے پاس لیٹاہوانوجوان سردی میں بدستور لیٹاہواتھااور اس کے جسم پر رضائی موجودتھی، ٹیم نے اطمینان کاسانس لیا،یہ بھی ممکن تھاکہ اس سونے والے شخص پر سے کوئی بلانکٹ اپنے لئے نکال لے۔ جناب محمدیوسف رحیم بیدری سکریڑی یاران ادب نے صحافت کے حوالے مذکورہ روداد کرتے ہوئے بتایاکہ تینوں دفعہ سڑکوں پر سونے کی کوشش کرنے والے یامسافروں میں ہی بلانکٹ تقسیم کی گئی ہیں جبکہ گھریلوضرورت مند افراد بھی شہر میں کافی بڑی تعداد میں ہیں ، انہیں بھی بلانکٹ عطیہ کرنے کاتقاضہ بار بار ٹیلی فون کی شکل میں یاپھر بہ نفس نفیس دفتریاران ادب پہنچ کر کیاجاتاہے۔لہٰذا اہل خیر حضرات سے گھریلو ضرورت مندوں کے لئے بلانکٹ عطیہ کرنے کی گذارش کی جاتی ہے ، یہ عطیہ بھی باعث اجرو ثواب ہوگا ۔اہل خیر حضرات تعاون کے لئے 9141815923 / 9019998178پر رابطہ کرسکتے ہیں۔