استاد اور طالب علم تعلیمی قوت کے دوسرچشمے ہیں ؛ پروفیسر مظفر علی شہ میری 

01:52PM Wed 17 May, 2017

شبلی انٹرنیشنل ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کے زیر اہتمام جامعہ رشیدیہ موضع بمہور میں ’’قوت تعلیم ‘‘پر سمینارکا انعقاد  بھٹکلیس نیوز / 17 مئی،2017 اعظم گڑھ (است) استاد اور طالب علم کے درمیان ایک گہرا رشتہ ہونا چاہیے کیونکہ بہتر رشتہ ہونے کی وجہ سے ہی طلبہ کی بہت سی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انھیں پروان چڑھانے میں مدد ملتی ہے اور یہ دراصل تعلمی قوت کے دوسرچشمے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر عبدالحق یونی ورسٹی کرنول (آندھرا پردیش )کے وائس چانسلر اور اردو کے ممتاز ادیب اور استاد پروفیسر مظفر علی شہ میری نے شبلی انٹرنیشنل ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کے زیر اہتمام جامعہ رشیدیہ موضع بمہور میں گزشتہ شب تعلیم کی قوت کے عنوان سے ایک بین الاقوامی سمینار میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے کیا ۔سمینار کی صدارت مولانا محمد رضوان قاسمی نے فرمائی اور نظامت کا فریضہ ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی نے انجام دیا اور حافظ محمد ابراہیم نے کلام پاک کی تلاوت کی۔محمد حفیظ مبارک پوری نے اقبال سہیل کا نعتیہ کلام پڑھا ۔ اس موقع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر مظفر علی شہ میری نے مزید کہا کہ استاد اور طالب علم دونوں کے الگ الگ دائرے ضرور ہیں مگر علمی قوت کو پروان چڑھانے کے لیے خلوص اور عمل پیہم کی ضرورت ہے ۔ابتدا میں ڈاکٹر محامد ہلال جو کہ اس کانفرنس کے کنوینر تھے انھوں نے مہمانوں کاخیر مقدم کیا اور بتایا کہ یہ تعلیمی کانفرنس دراصل اپنی بازیافت ہے اوراس ٹرسٹ کے ذریعے لوگوں میں تعلیم کے تئیں بیداری پیداکرنی ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ علمی کارواں کو مہمیز کرنے کے لیے ہی ہم نے ممتاز علمی اور ادبی شخصیات کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔پروگرام کے دوران پروفیسر اشتیاق احمد ظلی (سید سلیمان ندوی ایوارڈ )پروفیسر مظفر علی شہ میری (افتخار اردو ایوارڈ )ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی(افتخار شبلی ایوارڈ)مولانا قمر الزماں مبارک پوری (افتخار اعظم گڑھ ایوارڈ )اور مولانا محمد ابصار الحق قاسمی (افتخار علما ایوارڈ )پیش کیا گیا ۔پروفیسر اشتیاق احمد ظلی کسی وجہ تشریف نہیں لاسکے تھے اس لیے ان کا ایوارڈ مولانا محمد عمیر الصدیق ندوی نے قبول کیا ۔ پروفیسر مظفر علی شہ میری کی شال پوشی صدر محترم مولانا محمد رضوان قاسمی صاحب نے کی اور انھیں ایوارڈ و سرٹیفکٹ سے نوازا جبکہ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی،مولانا قمر الزماں مبارک پوری اور مولانا محمد ابصار الحق قاسمی کو پروفیسر مظفر علی شہ میری کے دست مبارک سے ایوارڈ پیش کیے گئے ۔ حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے مطالعہ پر زور دیا اور کہا کہ علم کی قوت کا راز قوت مطالعہ ہے اس سے نہ صرف یہ کہ دماغی کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ایک نئی بصیرت ملتی ہے ۔مولانا محمد عمیر الصدیق ندوی نے اس موقع پر اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے جہاں منتظمین کو مبارک باد دی وہیں یہ بھی کہاکہ علم طاقت اور قوت کا ایک سرچشمہ ہے ہمیں اس سرچشمے سے سیراب ہونا بھول گئے ہیں ۔اس موقع پر انھوں نے علامہ شبلی کی تعلیمی عبقریت پر بھی روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر تعلیم سے متعلق مختلف موضوعات پر مقالے پڑھے گئے اور بتایاگیا کہ تعلیم کے گونا گوں پہلے ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا سکتا اور ترقی و برتری علمی طاقت کے سبب ہی ہے ۔اس موقع پر مدارس اور جدید دانش گاہوں کے نصابات اور معیار تعلیم پر بھی گفتگو ہوئی اور یہ بات بھی سامنے آئی کہ شبلی نے صدی پہلے جس تعلیمی نظام کا آغازکیا تھا اور جس طرح مدارس میں انگریزی اور سنسکرت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید سائنس کو نصاب کا حصہ بنایا تھا ضرورت ہے کہ اس کی روشنی میں موجودہ منظرنامہ کو سامنے رکھ کر نصاب ترتیب دیاجائے ۔تعلیم کے بارے میں مغربی و مشرقی مفکرین کی آرا اور موجودہ تعلیمی صورت پر بھی روشنی ڈالی گئی ۔اس موقع پر ڈ اکٹر محمود مرزا،ڈاکٹر عبدالقدوس،مولانا عبدالمنان مظہر ،ڈاکٹر عبدالقیوم شمسی ،ڈاکٹر سراج احمد انصاری ،ڈاکٹر عمیر منظر ،مولانا مفتی محمد صادق،مفتی محمد یاسر قاسمی ،مولانا نسیم ظہیر اصلاحی ،مولانا ابو ہریرہ یوسفی ،مفتی جمیل احمد نذیری ڈاکٹر ایم نسیم اعظمی ،ڈاکٹر حمران احمد معروفی ،مولانا ارشاد الحق وغیرہ نے مقالے پڑھے ۔