پونا میں دلت مراٹھا تشدد ایک ہلاک
02:42PM Tue 2 Jan, 2018
کچھ علاقوں میں دفعہ 144 نافذ، ٹرین سروس متاثر، بسوں میں توڑپھوڑ ، پولس پر پتھراؤ
بھٹکلیس نیوز / 02 جنوری،2017
ممبئی / (بی این ایس) مہاراشٹر کے پونے ضلع میں سوموار یکم جنوری کو بھیم کورے گائوں کی لڑائی کی دوسویں برسی منانے کے لیے جٹے لاکھوں دلتوں کے ساتھ مراٹھی تنظیموں کی پرتشددجھڑپ میں ایک شخص کی موت ہوگئی اور کئی زخمی ہوگئے تھے۔ ممبئی کے کئی علاقوں میں بھی دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ اس معاملے پر مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دیپک کوسکار نے کہا کہ حالات قابو میں ہیں، ریاست میں کوئی بھی غلط افواہ نہیں پھیلنی چاہئے۔
انہوں نے کہاکہ میں سبھی سے پرامن رہنے کی اپیل کرتا ہوں۔ املاک کو نقصان پہنچا ہے اور ایک شخص کی موت ہوگئی ہے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی داغے گئے۔ اس سے قبل سینکڑوں کی تعداد میں مشتعل افراد نے ممبئی کے ملنڈ، چیمبور، بھانڈوپ، وکھرولی کے رما بائی نگر اور کرلا کے نہرو نگر میں ٹرینوں کو روک دیا۔ پونے کے ہڑپسر اور فرسنگ میں بسوں میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے احتیاطی طور پر احمد نگر اور اورنگ آباد جانے والی بسوں کو رد کردیاگیا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے مہلوک کے اہل خانہ کو دس لاکھ روپئے معاوضہ دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس معاملے میں مرکزی وزیر رام داس اٹھائولے نے کہا ہے کہ انہوں نے مورے گائوں تشدد کو لے کر فڈنویس سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے ان سے تشدد کی جانچ کرانے کی مانگ کی ہے اور اس کے ذمہ دار وں کے خلاف ایکشن لئے جانے کے لیے بھی کہا ہے تاکہ ایسی واردات بار بار رونما نہ ہوں۔ دوسری جانب پولس افسر لکشمی گوتم نے کہا کہ یہاں پروگرام میں لوگ موجود ہیں جو راستہ روکنے کی کوشش کررہے ہیں، پولس اب تک انہیں ہٹانے میں کامیاب رہی ہے۔ آج صبح این سی پی لیڈر شرد پوار نے ٹوئٹ کرکے مقامی انتظامیہ پر جم کر پھٹکار لگائی، انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ کو معلوم تھا کہ اتنے لوگ پروگرام میں موجود رہیں لیکن وہ پھر بھی حالات قابو نہیں کرپائے۔ چیمبوں میں شیوسینا شاخ آفس کے دروازے کو بھی مظاہرین نے توڑ دیا ہے۔
پولس اطلاع کے مطابق پونے کے پروگرام میں پانچ لاکھ سے زائد بھیم کورے گائوں لڑائی کی دوصدی منانے کے لیے افراد جمع ہوئے تھے، اس لڑائی میں برٹش فوجیوں نے یکم جنوری 1818 کوپیشوائوں کی فوج کو شکست دی تھی ہرسال یکم جنوری کو ہزاروں دلت یہاں مارچ کرتے ہیں گزشتہ سالوں پر نظر دوڑائیں تو کبھی بھی کوئی تشدد ریکارڈ نہیں کی گئی ہے اس سال کسی دوسرے جھگڑے کیوجہ سے بھیم کورے گائوں کے آس پاس کے علاقوں میں تنائو ہوا تھا۔ پولس نے بتایا کہ کسی انہونی سے نپٹنے کے لیے پہلے ہی وردھ بردرک گائوں میں سیکوریٹی فورسیز کو تعینات کیاگیاتھا لیکن صوموار کی صبح سینکڑوں (زیادہ تر مراٹھی) وردھ بردرک گاؤں میں جمع ہوگئے تھے۔ گمان لگایا جارہا ہے کہ زیادہ تر لوگ سوشل میڈیا پر افواہ کی وجہ سے وہاں جمع ہوئے تھے۔ ایک مقامی کے مطابق صبح تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا لیکن دوپہر کو کورے گائوں بھیم اور آس پاس کے سنساوڑیٹ شکار پور اور دیگر جگہوں سے تشدد کی خبریں آنے لگیں ، پولس کی گاڑیاں اور فائر بریگیڈ سمیت سینکڑوں گاڑیوں کو نذرآتش کردیاگیا اس کے بعد موقع واردات پر کثیر تعداد میں پولس فورس کو تعینات کردیاگیا ہے۔ آج بروز منگل پونہ تشدد کو لے کر ممبئی کے کئی علاقوں میں مظاہرہ ہورہا ہے، رپورٹ کے مطابق ممبئی کے تھانے، چیمبور، ملنڈ، سائن کولی واڑہ، ماٹونگا، کرلا وغیرہ میں سڑکوں پر اتر کر مظاہرہ کیا گیا یہاں کی دکانیں بند کرادی گئی ہیں ، ٹرین سروس کے متاثر ہونے کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں۔ اس واردات سے یہاں کے امن پسند شہریوں میں عجیب سا خوف پیدا ہوگیا ہے۔ ممبئی پولس کی جانب سے امن وامان کی برقراری کے لیے اپیل کی گئی ہے۔ حالات سنگین نہ ہوں اس کے لیے کچھ علاقوں میں دفعہ 144 کا نفاذ بھی کردیاگیا ہے۔ ڈی این اے کی رپورٹ کے مطابق چیمبور اسٹیشن پر پتھرائو اور پرتیکشا نگر میں گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کی اطلاع موصول ہورئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پوئی، مانخورد،گوونڈی، سوان اور ملنڈ میں دکان بند رکھنے کو کہاگیا ہے۔ ڈی این اے سے بات چیت میں ایڈیشنل پولس افسر (مشرقی زون) نے کہاکہ چیمبور اور گوونڈی میں پولس اور گاڑیوں پر پتھرائو کیاگیا ہے جس میں پولس افسران بھی زخمی ہوئے ہیں۔ پتھر بازوں پر کارروائی کی جائے گی۔فی الحال علاقے میں تنائو اور کشیدگی ہے لیکن حالات پرامن ہیں۔