کشمیر کے حالات کو جارحیت سے نہیں بلکہ گفت و شنید سے قابومیں کیا جائے : مولانا ارشد مدنی
01:52PM Sat 27 Aug, 2016
نئی دہلی ۔ جمعیۃ علماء ہند نے کشمیر کے حالات پرریاستی اور مرکزی حکومت کی ناکامی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی ، کشمیر میں روز افزوں بے قابو ہوتے حالات، اوقاف کی بد حالی اور سرکار ی اداروں کے ناجائز قبضوں، دہشت گردی ، مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں اور بے قصور مسلمانوں کے مقدمات کی تاخیر کے تعلق سے اپنی گہری تشویش کا اظہارکیا ہے ۔ صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے اختتام کے بعد ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ مقامی رہنماؤں اور تمام سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لے کر اب سے پہلے کشمیر کا دورہ کرلئے ہوتے تو حالات اتنے خراب نہ ہوتے ۔
مولانا مدنی نے کہا کہ مجلس عاملہ نے مختلف مسائل پر غوروفکرکیا اور تجویزیں منظورکیں ، مسئلہ کشمیر کے تعلق سے تجویز میں کہا گیا ہے کہ ریاست میں تقریبا ڈیڑھ ماہ سے صورت حال انتہائی تشویشناک ہے ، وادی میں احتجاج کر رہے نوجوانوں اور عوام کا غصہ دور کرنے اور حالات کومعمول پر لانے کے لئے ظلم و جارحیت نہیں بلکہ گفت و شنید کو ترجیح دی جائے ۔احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گن کا استعمال انتہائی تشویشناک ہے ۔ مظاہرین پر اس طرح کے ہتھیار کا استعمال شرمناک اورانسانیت کے خلاف ہے ۔مظاہرین جن میں معصوم بچے ، خواتین اور بوڑھے بھی شامل ہیں ، ان کے خلاف پیلٹ گن کااستعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں مظاہرین اپنی آنکھوں کی روشنی گنوا چکے ہیں ۔ بین الا قوامی برادری بھی یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہے کہ اپنے ہی ملک کے باشندوں کے ساتھ کیسا ظلم کیا جا رہا ہے ۔حکومت احتجاج کرنے والوں کے خلاف تشدد سے کام لے رہی ہے۔ جب سے مظاہرین کے خلاف پیلٹ کا استعمال کیا گیا ہے تب سے حالات اور خراب ہو گئے ہیں اور لوگوں میں زبردست غصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل کرفیو کی وجہ سے لوگوں کو خوردنی اشیا، بچوں کو دودھ اور بیماروں کو دوائی تک نہیں مل پا رہی ہیں ۔ ریاستی اور مرکزی حکومت ابھی تک حالات پر قابو پانے میں ناکام ہے،حکومت کو چاہئے کہ وہ اس سنگین مسئلہ کو ظلم اور سختی سے نہیں بلکہ بات چیت اور محبت سے حل کرنے کی کوشش کرے ۔ اس کے لئے کشمیر کے نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اقدامات کرے ، کشمیر کے ساتھ ساتھ کشمیریوں سے بھی پیار کرنے اور ان کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے ۔