کسان مفت میں تحفہ نہیں، حق مانگ رہا ہے: راہل گاندھی
04:05PM Fri 30 Nov, 2018
Share:
قرض معافی اور کم از کم امدادی قیمت میں اضافہ کی مانگ کو لے کر ’کسان‘ دہلی کی سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ سرمائی اجلاس سے ٹھیک قبل پارلیمنٹ تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے ہزاروں کسانوں نے جمعہ کے روز میگا ریلی کی۔ ’کسان مکتی مارچ‘ کے زیر اہتمام ہزاروں کسان رام لیلا میدان سے سنسد مارگ پہنچے، لیکن دہلی پولیس نے انہیں پارلیمنٹ ہاوس کی جانب جانے سے روک دیا۔ پارلیمنٹ کے آس پاس تقریباََ 3500 پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ کسانوں کو واپس لوٹنے کے لئے کہا جا رہا ہے۔
کسانوں کا دہلی پہنچے کا سلسلہ بدھ کی رات سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ جمعرات کے روز رام لیلا میدان میں ہزاروں کی تعداد میں کسان جمع ہو گئے تھے۔ جمعرات کے روز تمل ناڈو سے آئے کسانوں نے خودکشی کر چکے کسانوں کے سر کے ساتھ مظاہرہ کیا۔ انہوں نے دھمکی بھی دی کہ اگر جمعہ کے روز کسانوں کو پارلیمنٹ جانے سے روکا گیا، تو وہ بغیر کپڑوں کے مظاہرہ کریں گے۔
دہلی میں کسان مارچ کے دوران حذب محالف کی تقریباََ تمام جماعتیں ایک منچ پر نظر آئیں۔ منچ پر کانگریس صدر راہل گاندھی، سی پی ایم لیڈر سیتا رام یچوری، عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کیجریوال، این سی پی سربراہ شرد پوار ، شرد یادو موجود تھے۔
راہل گاندھی نے منچ سے کسانوں کو خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی پر کسان مخالف ہونے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا کسان حکومت سے کوئی تحفہ یا مفت میں کچھ نہیں مانگ رہا ہے بلکہ اپنا حق مانگ رہا ہے۔