اقلیتوں کے دستوری حقوق کی پاس داری جمہوری نظام کا تقاضا
01:55PM Fri 27 Jan, 2017
نوری مشن نے یوم جمہوریہ پر ملک میں قیام امن و سلامتی کیلئے دعا کا اہتمام کیا
مالیگاؤں۔(بھٹکلیس نیوز) ہندوستان کو انگریز کے جبر و استبداد سے آزاد کرانے میں علمائے کرام کی بے مثال قربانیاں رہی ہیں۔ سرفروشی کی ایک عظیم تاریخ مسلمانوں نے مرتب کی اور انگریزی تسلط کو لرزہ براندام کیا۔ دلی کی زمین پر جو فتویٰ انگریز کے خلاف جاری کیا گیا جس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوئے اس کے سرخیل ہمارے اکابر میں علامہ فضل حق چشتی خیرآبادی تھے جو ایک واسطے سے اعلیٰ حضرت محدث بریلوی کے استاذ ہیں۔ جنھیں کالا پانی میں شہید کیا گیا۔ اس طرح کا اظہار خیال یوم جمہوریہ کی صبح نوری مشن کی جانب سے رضا لائبریری پر محمد سعید رضا نے کیا۔ غلام مصطفی رضوی نے اپنے تاثر میں کہا کہ جمہوری ملک میں دستور میں اقلیتوں کو جو حقوق دیے گئے ان کی پاس داری ہی یوم جمہوریہ کے انعقاد کا تقاضا ہے۔ آج اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پایا جا رہا ہے۔ حکومت وقت کو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اقلیتوں کے دستوری حقوق کی جانب توجہ دے کر آزاد ہندوستان کی تعمیر کا خواب شرمندۂ تعبیر کرنا چاہیے۔ اس موقع پر وسیم احمد رضوی و عتیق الرحمن رضوی نے ملک کے تئیں علمائے اہلسنّت کی قربانیاں اجاگر کیں اور ہندوستان کی تزئین میں اسلاف کی خدمات کو واضح کیا۔ دیانت و انصاف کے اصولوں کو پروان چڑھا کر ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور رواداری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ آج انصاف کو اگر بالا دستی حاصل ہو گئی تو سمجھ لیجئے کہ آزادی و جمہوریت کی سلامتی کی فضا ہموار ہو جائے گی۔ اس موقع پر ملک میں قیام امن و سلامتی اور فرقہ پرستوں کی سازشوں کی ناکامی کے لیے دعا بھی کی گئی۔ ایسی رپورٹ فرید رضوی نوری مشن نے ارسال کی۔