شمالی کنڑا ضلع میں اپریل سے راشن لے جانے والی لاریوں کو جی پی ایس لازمی ۔ڈپٹی کمشنر

03:53PM Sun 29 Mar, 2015

بھٹکلیس نیوز/29مارچ،15 کاروار(نامہ نگار)شمالی کنڑا ضلع کے ڈپٹی کمشنر  اجول کمار گھوش  نے کہا  ہے کہ  راشن  کی تقسیم  کے عمل  کو  اور شفاف  بنانے  کے لئے گودام سے  راشن  کا سامان لے جانے  والی لاریوں  کو اپریل کے مہینے سے لازمی طور پر  جی پی ایس  لگانا ہو گا  ،موصوف  یہاں  ڈپٹی کمشنر  کے دفتر  عوامی تقسیم  کے نظام  کی کارکردگی کا جائزہ لینے  کے لئے  منعقدہ ویجلنس  کمیٹی  کی میٹنگ  میں خطاب  کررہے تھے  ،انہوں نے  کہا کہ گودام  سے نقل و حمل  کی جانے والی  اشیاء  صحیح دستاویزات  کا مناسب  انتظام ہو نا چاہیئے  ،گودام سے اٹھائی  گئی اشیاء  کی تفصیلات  این آئی سی  ویب سائٹ  پر ظاہر  کئے جائیں  اور  تعلقہ سطح  پر  تشکیل  دی گئیں  ریجلینس  کمیٹی  کے اراکین  کو اس کے بارے میں  SMSبھیجنے کا انتظام کیا جانا چاہیئے  ،لوگوں  سے جمع  کی گئی  ٹیکس کی رقم سے رعایتی  قیمت پر راشن  کی تقسیم کی جا رہی  ہے ،لہذا  یہ ہر شہری  کا فرض  ہے کہ  وہ اس بات  کو  یقینی بنائے کہ اس رقم کا غلط  استعمال نہ ہو  ،حکومت  نے احکامات  جاری  کئے ہیں کہ مئی  کے مہینے سے  (بی پی ایل ) کارڈ والوں  کو چاول  مفت تقسیم کئے  جائیں گے  ،انہوں نے  کہا کہ اس پس منظر میں  تقسیم  کے عمل کو  اور مضبوط  بنانا چاہیئے  ،انہوں نے کہا  کہ اس بات  کی شکایات موصول ہو رہی ہے کہ چند نااہل  لو گوں  نے بی پی ایل کارڈز  حاصل کئے ہیں  ،اس کے  لئے جانچ  کی تحریک شروع  کی جائے گی  اگر نااہل  لو گوں نے بی پی ایل  لارڈ حاصل کئے ہیں  تو ان  کو فوراًلو ٹا دینا چاہیئے  اچھے گھراور دیگر سہو لتیں  رکھنے والے  لو گ اگر بی پی ایل کارڈ رکھنے کے بارے میں  تحریک کے دوران پتہ چلا تو ایسے لوگوں  کے خلاف  مجرمانہ  مقدمے  دائر کئے جائیں  گے ،  انہوں نے  خبردار  کیا کہ راشن کارڈ  والوں  کو مقررہ  عرصہ میں  راشن  ملنے  کے اس عمل کو یقینی بنانا چاہیئے ،  ضلع میں  488راشن دکانیں  ہیں ،راشن کی دکان والوں کو  دو مہینے  میں ایک مرتبہ احوال  کے بارے میں میٹنگ کرنا چاہیئے  ،راشن کے دکانداروں کے مسائل  حل کرنا  چاہیئے  ،راشن  کی تقسیم  کے سلسلے میں  اگر عوامی  شکایات موصول  ہو ں تو  فوراًان  مسائل  کو حل کرنا چاہیئے  ،میٹنگ میں  ضلع پنچایت کی صدر  سرسوتی گوڈااور فوڈ اینڈ سیول  سپلائز محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائر کٹر  دیویا اور کمیٹی  کے اراکین  موجود تھے ۔ ع،ح،خ