پروفیسرسیف الدین سوزنے افسپاپرپی چدمبرسے بات کی

03:18PM Sun 26 Feb, 2017

جموں(بھٹکلیس نیوز)سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ، پروفیسر سیف الدین سوزؔ نے آج میڈیا کے نام مندرجہ ذیل بیان جاری کیاہے۔انہوں نے کہاکہ ’’آج مجھے قومی سطح کی کچھ ٹی وی چینلوں نے پی چدمبرم کے اُس بیان پر تبصرہ کرنے کو کہا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر مودی سرکار کا رویہ کشمیر کی طرف کوئی دھیا ن نہ دینے کا ہی رہا تو کشمیر ہاتھ سے باہر جا سکتا ہے۔ میں نے اپنی رائے کھل کے ظاہرکی ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ بی جے پی کے ترجمان وینکیا نائیڈو (مرکزی وزیر )نے اپنے جواب میں چدمبرم کو حب الوطنی کا سبق دیا ہے تب میں نے سوچاکہ مجھے اس کے رد عمل میں بیان جاری کرناچاہئے۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ میں شری پی چدمبرم کو پچھلے تین دہائیوں سے جانتاہوں اورمجھے معلوم ہے کہ وہ ان لیڈروں میں سے نہیں ہیں جوسستی شہرت چاہتے ہیں۔ وہ بہت ہی سنجیدہ سیاست دان ہیں اور حیدر آباد میں انہوں نے صحیح بات کی ہے۔ سابق مرکزی وزیرکاکہناتھاکہ آج کشمیر میں فورسز کو دور دور تک اس طرح پہچانا جاتا ہے کہ وہ کشمیر میں بہت ہی ناراض لوگوں،خصوصاًنوجوانوں کے سامنے صف آرا ہیں۔اسی لئے جنرل راوت اور دوسرے لوگوں کو اس بات کی کھوج لگانی چاہئے کہ یہ غصے کا ہمالہ کیسے وجود میں آیا ہے جس کی ترجمانی پچھلے برس پانچ مہینے کے انتفادہ میں حریت کانفرنس نے کی ۔اُن کوجان لیناچاہئے کہ اس وقت بلاضرورت کشمیر میں افسپا ء کا قانون برسوں سے موجود ہے جس میں فورسز کسی حد تک بھی جاسکتے ہیں اور قانون میں کوئی گرفت نہیں ہے۔ اسلئے مژھل فرضی جھڑپ عمل میںآئی تھی جس میں فورسز نے بے گناہ لوگوں کوقتل کیا تھا(اور آرمی نے تسلیم کیا تھا کہ قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی) اور ایسے ہی حالات کے بعد غصہ پنپتا رہا جس کاجواب کسی صورت میں گولی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے یاددلایاکہ پی چدمبرم نے بحیثیت ہوم منسٹر اپنے کابینہ کے ساتھیوں کوسمجھایا تھا کہ افسپاء ہندوستانی جمہوریت کو ضرورت نہیں ہے اور اِس کو ہٹایا جانا چاہئے۔ لیکن اُ ن کو اس میں کامیاب نہیں ہوئی کیونکہ اس وقت کا ڈیفنس منسٹر فوجی جنرلنوں کی رائے کوہی اچھی سیاست سمجھتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہمجھے یقین ہے کہ جلدیابدیر (sooner or later)پی چدمبرم کی بات حکومت ہندکو سمجھ میں آ جائے گی !۔دریں اثناء انہوں نے نے آج پی چدمبرم کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی او ر اُن کو اور باتوں کے علاوہ بتایا کہ کشمیر سے متعلق اُن کے بیانات سے کشمیر میں راحت محسوس کی جاتی ہے اورمیں اُن کی کشمیر سے متعلق دانشمندانہ رائے اور جرات کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘‘