سرکاری اسکیمات سے واقف کروانے کے لئے اصغر چلبل کی قیادت میں ا قلیتی طبقات کا مشترکہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ 

02:24PM Sun 14 May, 2017

گلبرگہ میں وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام سے متعلق اجلاس میں قرارداد منظور  گلبرگہ (بھٹکلیس نیوز)وزیر اعظم کے نئے 15نکاتی پروگرام کا اجلاس 12مئی کو ڈپٹی کمشنر گلبرگہ کے اجلاس ہال میں مسٹر اجول کمار گھوش ڈپٹی کمشنر گلبرگہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس موقع پر ریاستی رکن پندرہ نکاتی پروگرام و صدر نشین کلبرگی اربن ڈیولوپمینٹ بورڈ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل اور چیف ایکزیکیوٹیو آفیسر ضلع پنچایت گلبرگہ محترمہ ہیپشیبا رانی کورلاپتی بھی اجلاس میں شریک تھیں ۔ ان تینوں عہدہ داران نے مرکز اور ریاست کے تحت آنے والے تمام اقلیتی طبقات سے متعلق اسکیمات کاجائیزہ لیا۔ ڈاکٹرمحمداصغر چلبل نے کہا کہ مولانا آزاد کے نام سے شہر میں دو مدارس ،تین ہاسٹلس، اور ایک ورکنگ وومین ہاسٹل اس طرح ا تمام کے لئے چھ سائیٹس درکار ہیں۔ ڈاکٹر محمد اصغر چلبل نے تمام چھ سائیٹس کلبرگی اربن ڈیولوپمینٹ کی جانب سے دینے کے لئے ڈپٹی کمشنر سے درخواست طلب کی ۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ IDMI اور SPEQMو عربی مدارس کے لئے اقلیتی ادارے آگے نہیں آرہے ہیں اور اسکیمات سے استفادہ نہکرنے پر افسوس کا اظہار کیا ۔ انھوں نے محکمہ تعلیمات کے ڈپٹی ڈائیریکٹر اور اقلیتی بہبود کے ضلعی آفیسر کی کلاس لیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کی لاپرواہی کے سبب صحیح معلومات اقلیتی اداروں تک نہیں پہنچ سکی ہیں ۔ اس سلسلہ میں ڈپٹی کمشنرنے ڈاکٹر اصغر چلبل کی بات کو اٹھاتے ہوئے ایک قررارداد منظور کرتے ہوئے کہا کہ ضلع گلبرگہ کے تمام اقلیتی اداروں کا ایک اجلاس ڈاکٹر اصغر چلبل کی قیادت میں طلب کیا جائے اور وہاں پر اقلیتی طبقات کو مذکورہ بالا اسکیموں سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں ۔پھر ان اقلیتی اداروں کے نمائیندوں سے تجاویز بھی حاصل کی جائیں ۔ محترمہ ہیپشیبا رانی کورلاپتی نے ڈاکٹر محمد اصغر چلبل کی رائے کو بہت پسند کرتے ہوئے جلد از جلد اقلیتی اداروں کا ایک مشترکہ اجلاس طلب کرنے پر زور دیا ۔ اجلاس کو اس بات سے واقف کروایا گیاکہ شہر گلبرگہ میں آنگن واڑی مدارس کے لئے ابھی 25مقامات کی نشان دہی باقی ہیں ۔ اس پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور ڈاکٹر اصغر چلبل نے ڈپٹی ڈائیریکٹروومین اینڈ چائیلڈ ویلفیر کو ہدایت دی کہفوری طور پر شہر گلبرگہ کے دونوں ارکان اسمبلی شمال و جنوب، سٹی میونسپل کارپوریشن،کلبرگی اربن ڈیولوپمینٹ اتھارٹی اور محکمہ مال گزاری کا ایک مشترکہ اجلاس طلب کیاجائے تاکہ مذکورہ بالا آنگن واڑی مدارس کے قیام کے لئے مقامات کی نشان دہی ہوسکے۔ ڈپٹی ڈائیریکٹر آیوش نے کہا کہ ایمایس کیملس جیلانآباد میں ایک یونانی دواخانہ ڈاکٹر قمر السلام صاحب نے منظور کروایا ہے اور اس کیلئے جگہ درکار ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وہ اور ڈاکٹر اصغر چلبل جلد سے جلد اس علاقہ میں ایک موزوں جگہ کی نشان دہی کرکے اسے یونانی دؤواخانہ کے لئے الاٹ کروادیں گے ۔ اجلاس کے دوران ضلعی اقلیتی بہبود کے عہدہ دار مسٹر محبوب علی کارٹگی اور ڈپٹی ڈائیریکٹر محکمہ تعلیمات و تعلیمی کو آڑڈینیٹر نے تفصیلی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کرناٹک200مولانا آزاد اسکول قائم کئے جانے والے ہیں ۔ اسی تعلیمی سال سے ساری ریاست میں 100اسکول قائم ہوجائیں گے۔ جن میں سے ضلع گلبرگہ میں 12بشمول 2مدارس گلبرگہ شہر میں قائم کئے جائیں گے۔ یہ مدارس مخلوط تعلیم کے مدارس ہوں گے۔چھٹویں جماعت سے دسویں تک انگریزی میڈئیم کے ہوں گے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے اقلیتوں کے لئے دو مرارجی دیسائی رہائیشی مدارس اس سال افضل پور اور جیورگی میں قائم کئے جائیں گے۔ اس کے لئے دس ایکڑ اراضی درکا ر ہوگی ۔گلبرگہ ضلع میں جملہ 8مرارجی دسائی رہائیشی مدارس پہلے ہی سے چالئے جارہے ہیں اوریاک اور ایک پری یونیورسٹئ مرارجی دیسائی ررہائیشی کالج بھی چلایا جارہا ہے۔ مرارجی دیسائی رہائیشی اسکول کیقیام کے لئے اور نئے پری یونیورسٹی مرارجی دیسائی رہائیشی کالج کے لئے ؤ دنڈوتی میں چھایکڑ اراضی کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ چیتا پور میں آدرش ڈے اسکول اقلیتوں کے لئے منظور ہوا ہے اس کے لئیایک اراضی کی ضرورت ہے ۔ چیتا پور کے لئے ایک سدھ بھاؤ منٹپ بھی منظور ہوا ہے اس کے لئے 100x100اراضی کی ضرورت ہے ۔ جملہ 4 پوسٹ میٹرک ہاسٹلس انمیں سے تین گلبرگہ شہر میں تکنیکی نصابوں کی تعلیم حاسل کرنے والی ل؛ڑکیوں کے لئے اس سال قائم کئے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ ایک ہاسٹل چیتا پور میں قائم ہوگا ۔ یہ لڑکوں کے لئے ہوگا۔ گلبرگہ میں سٹی کارپوریشن ہونے کے سبب شہر میں ایک مائیناریٹی وومین ہاسٹل (برائے سرکاری ملازم خواتین) اسی سال قائم ہوگا۔ نوؤ دیا ماڈل اسکول بھی اسی سال گلبرگہ میں قائم ہوگا اس کے لئے 19ایکڑ اراضی کی نشاندہی ہوچکی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سب سے پہلے اقلیتی بہبود کے لئے 40ہاسٹلس ضلع گلبرگہ میں قائم کئے جاچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ 8مرارجی دیسائی رہائیشی مدارس اور ایک رہائشی پری یونیورسٹی کالج برائے اناث پہلے ہی سے گلبرگہ میں موجود ہیں۔ ؤیہاں دو گرانٹ انایڈ امدادی ہاسٹلس بھی ہیں ۔ سارے کرناٹک میں سب سے زیادہ اقلیتی ہاسٹلس گلبرگہ ضلع میں ہی ہیں ۔ انھیں مزید ترقی دینے کے لئے الحاج قمر الا سلاؤم اور ڈاکٹر محمد اصغر چلبل بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2016-17کے لئے ایک نئی اسکیم Modernisation of Madarsasشروع کردی گئی ہے۔ مدرسوں میں پہلے صرف دینی تعلیم اور روایتی تعلیم دی جاتی تھیؤ ۔ اب ان مدارس میں حکومت بچوں کو قوم و ملت کی ترقی کے لئے اور عصری تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے ان مدرسوں میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ ریاضٰی، انگلش، سائینس اور ککنڑا اور کمپیوٹرکی تعلیم بھی دی جائیگی۔ ۔اس کجے ساتھ ساتھ مدارس میں انفرا اسٹرکچر کی سہولت بھی فراہم کی جائیگی ۔ اس ضمن میں مختلف مدارس کی جانب سے 27درخواستیں وصول ہوچکی ہیں اندرخواستوں کی تصدیق جاری ہے۔ ہر ٹیچر کو 6000روپئے تنخواہ دی جائیگی۔ ہر مدرسہ کی تجدید کے لئے 12لاکھ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انفرا اسٹرکچر ڈیولوپمینٹ اسکیم IDMIاسکیم ومحکمہ تعلیمات کی جانب سے امدادی و غیر امدادی مدارس کے لئے شروع کی گئی ہے ۔ اس ضمن میں دس درخواستیں وصول ہوئی تھیں لیکن انکی دستاویزات برابر نہیں تھیں ۔ لہٰذا دوبارہ درخواستیں طلب کی جائیں گی ۔