کرائسٹ چرچ مسجد حملہ: برینٹن ٹیرنٹ پر پہلی مرتبہ لگا دَہشت گردی کا الزام

11:54AM Tue 21 May, 2019

نیوزی لینڈ واقع کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں اندھا دھند فائرنگ کر درجنوں لوگوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے والے برینٹن ٹیرنٹ پر بالآخر دہشت گردی کا الزام عائد ہو ہی گیا۔ اس تعلق سے پولس نے بتایا کہ ٹیرنٹ پر دہشت گردی کے الزام کے علاوہ 51 لوگوں کے قتل اور 40 لوگوں کے قتل کی کوشش کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔
کرائسٹ چرچ کی پولس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فرد جرم میں یہ لکھا گیا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں اس دن انجام دی گئی واردات ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی۔ اب تک ٹیرنٹ کے خلاف جو الزامات عائد کیے گئے تھے وہ کم تھے کیونکہ نیوزی لینڈ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ سال 2002 میں پیش کیا گیا تھا اور عدالتوں میں ان کا تجربہ ابھی تک نہیں کیا گیا ہے۔ پولس نے کہا کہ پرازیکیوٹرس اور سرکاری قانونی ماہر کے مشورہ کے بعد دہشت گردی پر مبنی الزام عائد کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔
قابل غور ہے کہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے مسجد میں کیے گئے قتل عام کو ایک منصوبہ بند ’دہشت گردانہ حملہ‘ قرار دیا تھا کیونکہ مبینہ طور پر ایک سفید فام برینٹن نے مبینہ طور پر انھیں انجام دیا تھا۔ 28 سالہ آسٹریلیائی شہری برینٹن ٹیرنٹ اس وقت ایک سخت سیکورٹی والی جیل میں بند ہے۔ یہاں اس کی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ذہنی طور پر صحت مند ہے اور مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ کرائسٹ چرچ کی مسجدوں میں کی گئی اندھا دھند فائرنگ سے متعلق آئندہ سماعت 14 جون کو ہونی ہے اور اس دن برینٹن ٹیرنٹ کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس دہشت گردانہ حملہ کے بعد پوری دنیا میں ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا تھا اور برینٹن ٹیرنٹ کے عمل کی بڑی ہستیوں نے پرزور الفاظ میں مذمت کی تھی۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے خود آگے آ کر مسلم طبقہ کے غم میں خود کو شریک بتایا تھا اور شہید ہوئے اشخاص کی فیملی سے مل کر انھیں تعزیت پیش کی تھی۔