پروفیسر کلبرگی کے قتل کی ہندوتوا تنظیمیں کررہی ہیں کل کر تائید

04:18PM Tue 1 Sep, 2015

مکہ مسجد و سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کے جیسے ہی ملوث ہوسکتے ہیں قتل میں سنگھی شیموگہ:قومی انعام یافتہ ڈاکٹر یو آر اننت مورتی کے انتقال کے بعد ریاست بھر کے مختلف علاقوں میں سنگھ پریوار کے کارکنوں نے پٹاخے پھوڑ کر جشن منایا تھا ،اب انہیں سنگھی تنظیموں کے کارکنوں نے مشہور مصنف و ہمپی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ایم ایم کلبرگی کے قتل کی کھل کر تائید کررہے ہیں اور انہوں نے اس بات کی بھی پیشن گوئی کی ہے کہ اگلا نشانہ سماجی مفکرپروفیسر بھگوان ہونگے،سنگھیوں کی اس پیشن گوئی کونظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس سے قبل بھی آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے کارکنان دہشت گردی کے مختلف وارداتوں میں ملوث ہیں اوریہ کارکنان حکومت کے نرم رویہ سے اب تک قانون کے ہاتھوں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب رہے ہیں۔پروفیسر کلبرگی کے قتل کے بعد بجرنگ د سے جڑے ہوئے کارکنوں نے فیس بک اور ٹوئٹر پرجو تبصرے کئے ہیں اس میں صاف ظاہر ہورہا ہے کہ اس قتل کے تار سنگھ پریوار سے جڑے ہوئے ہیں۔بھویت شیٹی نامی ایک بجرنگی نے لکھا ہے کہ پہلے اننت مورتی اور اب ایم ایم کلبرگی،ہندویزم کے تعلق سے خاموشی اختیار کرنے والے مفکرین کی موت اسی طرح سے کتوں جیسی ہوگی اور اب اگلا نشانہ کے ایس بھگوان ہیں۔اسی طرح سے دوسرے ایک بجرنگی نے لکھا ہے کہ ہندو دیوی دیوتاؤں پر خاموش رہنے والے ایسے مصنفین کی موت ایسی ہونی چاہیے جس نے بھی کلبرگی کا قتل کیا ہے وہ مبارکباد کے حقدار ہیں۔نرسمہیا نامی ایک بجرنگی نے لکھا ہے کہ چور میرا بیٹا مرگیا اچھا ہی ہوا۔شنکر نائک بھٹکل نامی شخص نے لکھا ہے کہ ہندو مذہب کے خلاف آواز اٹھانے والے دانشوروں کو سزا ملی ہے یہ اچھا ہی ہوا۔ایسے مذہب دشمن لوگوں کا قتل کررہے جانثاروں کو میں سلام کرتا ہوں جئے شری رام جئے ہندوراشٹر۔اس طرح کی زہر فشانی کرنے والے شر انگیزوں کے خلاف ریاستی حکومت نے اب تک کوئی مضبوط قدم نہیں اٹھایا ہے اور نہ ہی کسی کی گرفتار ی ہوئی ہے۔یہ بات بھی ممکن ہے کہ ریاستی حکومت ان فرقہ پرستوں کو ماضی کی طرح نظر انداز کریگی۔پروفیسر ایم ایم کلبرگی کے قتل کے تعلق سے جہاں ریاست میں عوام برہمی کا اظہا رکررہی ہے وہیں فرقہ پرست بجرنگ دل کے کارکنان ایک دوسرے مبارکبادی پیش کررہے ہیں۔ممکن ہے کہ فرقہ پرستوں کا یہ رویہ اس قتل سے جڑا ہوا ہے۔حالانکہ ماضی میں بھی کئی معاملات ان شرپسندوں کے خلاف واضح ہوچکے ہیں لیکن حکومتوں کی عدم توجہی کی وجہ سے معاملات ٹھنڈے بستے میں چلے گئے ہیں۔اگر یہی کام کسی مسلمان نے کیا ہوتا تو اب تک اسے لشکر طیبہ یا انڈین مجاہدین سے جوڑ کرکتنے ہی نوجوانوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا ہوتا اور اب تک ریاست میں خون کی ندیاں بہنی شروع ہوجاتی۔