سید حامد ایک عہد ساز شخصیت تھے،انکے ادھورے خوابوں کی تکمیل سے ہندوستانی مسلمانوں کی تقدیر بدل سکتی ہے- انڈیا اسلامک کلچرل سینڑ، سعودی عرب کے کنوینر مرشد کمال کا اظہارِ خیال
04:05PM Sat 3 Jan, 2015
غائبانہ نمازِ جنازہ میں بڑی تعداد میں معززین شہر کی شرکت، ایصال ِ ثواب کے لئے اجتماعی دعاء کا اہتمام
ریاض: معروف تعلیم دان سید حامد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں اںڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، سعودی عرب کی جانب سے ایک تعزیتی جلسے کا اہتمام کیا گیا، جلسے میں بڑی تعداد میں معززین شہر، علماء کرام اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہندوستانی کمینوٹی کے سرکردہ افراد نے شرکت کی۔
سید حامد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے معروف سماجی کارکن اور سعودی عرب میں انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کےکنوینر مرشد کمال نے کہا کہ سید حامدکی وفات قوم کے لئے کسی سانحہ عظیم سے کم نہیں، حامد صاحب جیسی بے لوث اور نابغہ روزگار شخصیت تاریخ میں بار بار جنم نہیں لیتیں۔ آپ نے مسلمانوں میں تعلیمی انقلاب برپا کرنے کے لئے جو راہ دکھائی ہے اس پر چل کرمسلمان اپنی کھوئے ہوے وقاراور تشخص کو دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں، مرشد کمال نے کہاکہ آج کا یہ جلسہ کوئی رسمی تعذیتی جلسہ محض نہیں بلکہ اس بات کی کوشش ہے کہ سیدحامد صآحب کے ادھورے خواب کوپایہ تکمیل تک پہنچانےکے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔ مرشد کمال نے کہا کہ جلد ہی انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدرسراج الدین قریش کی سرپرستی میں دہلی میں مسلمانوں کی بین الاقوامی تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے طویل مدتی منصوبہ پیش کیا جائے گا، انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی جانب سے سید حامد صاحب کو یہی سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا۔
مشہور ہندوستانی تاجر اور دہلی پبلک اسکول، ریاض اور ڈیونس پبلک اسکول دمام کے ڈائرکٹر انجینیر ندیم ترین نے سید حامد سے اپنے دیرینہ روابط کا ذکر کرتے ہوے کہا کہ سید حامد ایک شفیق استاد اور ایک سچے معمار قوم تھے ، آپکا دل قوم کے لئے دھڑکتا تھا ، آپ ہر لمحہ اس ادھیر بن میں رہتے تھے کہ کس طرح مسلمانوں کے درد کا مداوا کیا جا ئے ، ندیم ترین نے کہا کہ سید حامد ایک انگریزی روزنامہ کی اشاعت کے لئے کوشا ں تھے جس کے لئےانھوں نے کافی جدو جہد کی لیکن ان کی وہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی، اسی طرح سائینس اور ٹکنالوجی یونیورسٹی کے قیام کا انکا منصوبہ بھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا، ندیم ترین نے کہا کہ اب ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم انکے ادھورے خوابوں میں حقیقت کا رنگ بھریں۔
معروف تعلیم داں اور ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ کے سابق ڈپٹی ڈائرکٹرحسین زوالقرنین نےسید حامد سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حامد صآحب روشن خیال اسلام پسند اور اعلیٰ اخلاق و کردار کےمالک ایک عملی انسان تھے، حسین ذوالقرنین نے کہا کہ سرسید کی طرح سید حامد بھی عصری علوم کے ساتھ ساتھ اسلامی ذہن وفکر کی آبیاری پرزور دیتے تھے۔
سینئر علیگ اورسعودی عرب میں مقیم ہندوستانی تاجرانجینئر طارق مسعود نےکہاکہ سید حامد سرسید کے فکر کےحقیقی وارث تھے
تنظیم بسواس کے چیرمین اخترالاسلام صدیقی نے کہا کہ سیدحامد ایک مردِقلندر تھے اورایسی شخصیات تاریخ میں کثرت سے نہیں پیدا ہوتیں۔
جلسے کے اختتام پر غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئ اور مرحوم کی مغفرت کے لئے اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا۔