حکومت کرناٹک اُردو اسکولوں کو بند کرنے کے حق میں نہیں
12:03PM Fri 25 Jul, 2014
یکم جماعت سے کنڑا کا لزوم حکومت کے زیر غور: قمرالاسلام
بھٹکلیس نیو ز / 25 جولائی،2014
گلبرگہ/ ( اعتماد نیوز) اُردو اسکولوں کو کنڑا اسکولوں میں ضم کرنے کی اطلاعات پر ریاست بھر میں جاری زبردست احتجاج کے دوران وزیر اقلیتی بہبود حکومت کرناٹک الحاج قمرالاسلام نے واضح کیاہے کہ حکومت کرناٹک اُردواسکولوں کو بند کرنے کے حق میں نہیں ہے ۔ وہ دورۂ گلبرگہ کے موقع پر ایوان شاہی میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ اُنہوں نے کانگریس کے ارکان اسمبلی تنویر سیٹھ ، فیروز سیٹھ اور این اے حارث کی جانب سے اُردو اسکولوں کو کنڑا اسکولوں میں ضم کرنے ریاستی وزیر پرائمری و سکنڈری تعلیم کمنے رتنا کر سے کی گئی نمائندگی سے متعلق استفسار پر کہا کہ فیروز سیٹھ نے وضاحت کر دی ہے کہ اُردو اسکولوں کو کنڑا اسکولوں میں ضم کی گئی نمائندگی سے اُن کا کوئی تعلق نہیں ،اور نہ ہی وہ اس بات سے متفق ہیں ۔ الحاج قمرالاسلام نے مزید کہا کہ اُردو اسکولوں کو کنڑا اسکولوں میں ضم کرنے کی کوئی تجویز حکومت کرناٹک کے زیر غور نہیں ہے ۔ یہ تنویر سیٹھ کا اپنا شخصی موقف ہوسکتا ہے اس سے حکومت یا کانگریس پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ہے ، کانگریس اور حکومت اُردو اسکولوں کو بند کرنے کے حق میں نہیں ہے اُنہوں نے کہا کہ حکومت کے اُردو دشمن ہونے کی غیر ضروری بیان بازی کی جارہی ہے ۔ الحاج قمرالاسلام وزیر بلدی نظم و نسق پبلک انٹر پرائزس وقف و اقلیتی بہبود حکومت کرناٹک چیرمن حیدرآباد کرناٹک ریجن ڈیولپمنٹ بورڈ و نگران وزیر گلبرگہ ضلع نے مزید کہا کہ ریاست کے اُدوداں عوام کو اُردو اسکولوں کے مستقبل کو لیکر فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، ریاستی حکومت اُردو اسکولوں کا موقف جوں کا توں باقی رکھے گی۔ الحاج قمرالاسلام نے مزید کہا کہ وہ پرائمری تعلیم مادری زبان میں دینے کے حامی ہیں اور سپریم کورٹ میں بھی اس بات کی تائید کی ہے لیکن وہ اقلیتوں کے کنڑا زبان سیکھنے کے حق میں بھی کنڑا چونکہ ریاست کی سرکاری زبان ہے ۔ اسلئے اقلیتوں کو اُردو کے ساتھ ساتھ کنڑا پر بھی عبور حاصل کرنا چاہئے ۔ تاکہ سرکاری ملازمتوں کے حصول میں آسانی ہو، الحاج قمرالاسلام نے مزید کہا کہ اُنہوں نے اور مرحوم عزیز سیٹھ نے 1984میں ریاست کے اُردو اسکولوں میں کنڑا ٹیچرس کے تقرر کے لئے زبردست مہم چلائی تھی جو بیحد کامیاب رہی۔ الحاج قمرالاسلام نے مزید کہا کہ سابقہ بی جے پی حکومت میں بھی اُنہوں نے اُردو اسکولوں میں 1+7کنڑا ٹیچرس کی جائیدادوں میں کٹوتی کرنے کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا اور 1+7کے موقف کو بحال کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت کرناٹک سہ لسانی تعلیمی پالیسی کی پابند ہے ، اُن اسکولوں میں سہ لسانی فارمولے کہ تحت اُردو کنڑا اور انگریزی کی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے ۔ فی الحال اُردو اسکولوں میں سوم جماعت سے کنڑا پڑھائی جارہی ہے جبکہ حکومت کنڑا کو پہلی جماعت سے پڑھانے کے حق میں ہے اور اس سلسلہ میں فیصلہ لینے سے قبل حکومت اُردو تنظیموں ، تعلیمی اداروں اور ادبا و شعراء ٹیچرس کو اعتماد میں لینے کی بھر پور کوشش کریگی۔