مساجد کے کے ذریعہ ملی اتحاد،ملت کی رہنمائی اور مثبت اور تعمیر کام ہونا چاہئے
03:22PM Mon 28 Aug, 2017
رابطہ ملت گلبرگہ کی جانب سے مساجد کے صدور و معتمدین کے لئے منعقدہ اجلاس میں علمائے کرام و دانشواران کا خطاب
گلبرگہ اگست:( بھٹکلیس نیوز )ہماری مساجد کے ممبروں کو مثبت و تعمیری کام کا ذریعہ بننا چاہئے۔ ان کے ذریعہ انسانیت کو فائدہ پہنچانے والا اور ملت کو ررہنمائی کرنے والا پیغام دینا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہارکل رابطہ ملت گلبرگہ کی جانب سے شاداب فنکشن ہال میں شہر کی مساجد کے صدور و معتمدین کے لئے منعقد کئے گئے خصوصی اجلاس میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے مولانا وصی اللہ رحمانی نائب صدر رابطہ ملت گلبرگہ نے کیا۔ آپ نے کہا کہ حالات کی مناسبت سے ملت کی ذمہ داریوں کیسلسلہمیں رہنمائی ہونی چاہئے۔ آپ نے کہا کہ مسجد کے ذریعہ کئی ایک کام جیسے مکاتب، تعلیم بالغان، محلہ کے مسائل کا حل جیسے کام بھی کر سکتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات آپ نے کہی کہ یہاں سے ملت کے اندر اتحاد پیداکرنے انتشار سے بچنے کا درس دیا جائے۔ ’’اتحاد ملت کی اہمیت و ضرورت ‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالصبور سلفی نے کہا کہ اسلام جامد دین نہیں ہے۔ وہ اختلاف جس کی بنیاد انا، خواہشات ہو تو وہ پسندیدہ نہیں ہے۔ آپ نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جب کبھی دشمن سے مدبھیڑ کا موقع آئے ایسے میں مسلمانوں کو اللہ کی محبت و توکل کے ساتھ رہتے ہوئے آپس میں اختلاف کا معاملہ نہیں رہنا چاہئے ورنہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور اس سے دشمن کو فائدہ پہنچے گا۔ آپ نے صحابہؓ کی زندگیوں سے مثالیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے درمیان کئی ایک معاملات میں اختلاف تو تھا لیکن وہ اان کے درمیان دشمنی کا موجب نہ بنا۔ ملت میں اتحاد کیتدابیر پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا عبد لاصبور نے کہا کہ صرف اللہ کی عبادت کی جاے، اس کے ساتھ کسی کوعملا و اعتقاداََ شریک نہ کیا جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم ثابت قدمی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں۔ ’’ مساجد ککمیٹیاں اور ذمہ داران کی ذمہ داریاں‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبد الحمید اکبر، نے کہا کہ ملت اسلامیہ ملت واحدہ ہے ۔ اس کے اتحاد میں وہ تاثیر ہے کہ اگر وہ حقیقی معنی میں اس پرقولاََ و عملاََ عمل کرے تو دیگر ملتوں پر اثرا انداز ہوسکتی ہے۔ آپ نے کہا کہ آج جتنے انسان ہیں وہ دراصل نبی کریم ﷺ کی امت ہی ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ ایک امت اجابت ہے اور دوسری امت دعوت۔ امت اجابت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ امت دعوت کو اپنے مثالی اخلاق و کرادرسے اس طرح متاثر کر ے کہ وہ دین حق کو قبول کرنے والے بن جائیں۔ ہندوستانی تاریخ کے حوالے سے آپ نے کہا کہ ملت کے اندر انتشار اس وقت رونما ہوا جب ملت میں اتحاد کا فقدان پیدا ہوا اور وہ اپنے ہی لوگوں کی سازشوں کا شکار ہوئی۔ آپ نے کہا کہ مساجد کی تعمیر کا مقصد دراصل تعمیر انسانیت ہے۔ اختلاف امت در اصل اس کے لئے رحمت ہے اس کو زحمت کا موجب بننے نہیں دینا چاہئے۔ مولانا جاوید عالم قاسمی ’’عائلی نظام کو مستحکم کرنے کی تدابیر‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے نزدیک اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو پسندیدہ ہے اور جو کوئی اس کو چھوڑ کر کوئی اور دین یعنی طریقہ زندگی اختیار کرے گا وہ ناکام و نامراد ہوگا۔آپ نے کہا کہ آج جبکہ اسلام کے عائلی نظام پر چو طرفہ حملے ہو رہے ہیں اس لئے ہمیں اسلام کی مکمل بالخصوص عائلی معاملات میں دین اسلام کی رہنمائی قبول کرتے ہوئیصرف اسی کے مطابق زندگی گزارنا ہوگا۔ مولانا موصوف نے اس بات پر بے حد تشویش کا اظہار کیا کہ ملت میں عائلی نظام اور موجودہ حالات کے ضمن میں بے شعوری کی کیفیت انتہا کو پہنچی ہوئی نظر آتی ہے۔ مساجد کے مقام و مرتبہ پر روشن ڈالتے ہوئے آپ نے کہا کہ مساجد ملت کے تمام معاملات کے مراکز ہونا چاہئے جہاں پر ایسا نظم ہو کہملت کے ایک ایک فردسے وابستہ ہر مسلہ کا حل مل سکے۔ مسجد سیاسی، سماجی، روحانی، اخلاقی تمام چیزوں میں لوگوں کی رہنمائی کرنے والی بنیں۔ آپ نے کہا کہ ملت کی نصف آبادی جو خواتین پر مشتمل ہے کی رہنمائی کا کام ہونا چاہئے۔ ہمارے مسائل کو عدالتوں میں لے جانے کے بجائے دارلقضاء و دارالافتاء میں لیجانے کی ترغیب ملت اسلامیہ کو دینے کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ بہت سارے مسائل کا حل مل سکتا ہے۔ اجتماع کا آغاز حافظ مولانا محمد عظمت علی فاروقی کے تلاوات قرآن مجید اور اس کی ترجمانی سے ہوا۔ افتتاحی کلمات محمد ضیاء اللہ ، سیکریٹری رابطہ ملت گلبرگہ نے پیش کیا۔ آپ نے رابطہ ملت کے قیا م کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملی اتحاد، تحفظ ملت اور برادران وطن سے بہترین تعلقات کے ضمن میں رابطہ ملت کے ذریعہ کام ہوگا۔ آپ نے کہاکہ اس میں تمام مکاتب فکر ، تمام جماعتوں اور دانشروں کے ذمہ دار شامل ہیں۔ اس کا ایک نمونہ یہ جسلہ خود گواہی دے رہا ہے۔ آپ نے کہا کہ ریاست کرناٹک میں اب تک19 اضلاع میں انہیں مقاصد کے تحت رابطہ ملت کو قائم کیا گیا ہے۔ اس کے قیام بعد سے اب تک کی کارکردگی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا تعرفی جلسہ بڑے پیمانے پر کیا گیا، تعلقہ جات میں اس کے نظم کو قائم کیا گیا، برادران وطن کے لئے رمضان کی منابت سے عید ملن کا پروگرام منعقد کیا گیا، شہر میں ہوئی ظلم و زیادتی کے واقعہ کے سلسلے میں انتظامیہ کو توجہ دلائی گئی۔ اس کے مقاصد بالخصوص ملی اتحاد ، اس کے تحفظ اور عائلی نظام کو منظم کرنے میں مساجد کے رول کی اہمیت کے پیش نظر یہ اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں چند ایک شرکاء اپنے تاثرات و مشورے بھی پیش کئے۔ جناب بابا نظر محمد خان، نائب صدر رابطہ ملت نے کلمات تشکر پیش کئے۔ شہ نشین پر رابطہ ملت کے صدرجناب عارف علی منیار، مولانا نذیر احمد رشادی تشریف فرما تھے۔ شہرکی بہت ساری مساجد کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کے صدور و سیکریٹریز نے اس اجلاس میں شرکت کی اور رابطہ ملت کی اس پہل کو بہت پسند کیا۔