ایران اور سعودی عرب میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر بھی نظر آئی تلخی ، حسن روحانی نے سادھا نشانہ

03:49PM Fri 23 Sep, 2016

اقوام متحدہ : ایران کے صدر حسن روحانی نے اپنے حریف ملک سعودی عرب سے علاقائی امن اور سلامتی برقرار رکھنے کےلئے پھوٹ ڈالنے کی پالیسیوں کو ختم کرنے کی اپیل کی۔ مسٹر روحانی نے اقوامی متحدہ کی جنرل اسمبلی کو خطاب کرتے ہوئےیہ اپیل کی۔اس سے ایک دن پہلے سعودی عرب کے شہزادے محمد بن نائف نے ایران کو مشورہ دیا تھا کہ اسے اس علاقے میں ایک بہتر پڑوسی ہونا چاہیے اوردیگر ملکوں کے معاملے میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔ شیعہ مسلم اکثریت کے اقتدار والا ایران اور سنی اکثریت پر مبنی بادشاہت والاسعودی عرب دونوں ہی سنی دہشت گردی اکثریت اسلامک اسٹیٹ(آئی ایس) کے خلاف لڑ رہے ہیں۔آئی ایس کا شام اور عراق کےکچھ حصوں پر قبضہ ہے لیکن اس کے حامی دنیا بھرمیں ہیں۔ مسٹر روحانی نے کہا کہ اگر سعودی حکومت ترقی اور علاقائی سکیورٹی کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے تقسیم پالیسیوں اور نفرت کے نظریہ کو ختم کرکے پڑوسیوں کے حقوق کے تئیں محتاط ہوجانا چاہیے۔ سعودی عرب ایران کو مشرق وسطی کے استحکام کےلئے سنگین خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔کیونکہ ایران کی حمایت شیعہ لڑاکوں میں ہے اور سعودی کاخیال ہےکہ شیعہ فرقہ وارانہ تشدد میں شامل ہیں۔
گزشتہ جنوری میں سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں تخفیف کردی تھی۔ریاض میں ایک اہم شیعہ عالم کی پھانسی کے بعد ایرانی مظاہرین نے تہران اور مسدمیں سعودی سفارتی مشنوں پر حملہ کردیا تھاجس کی وجہ سے سعودی نے ایران سے فاصلہ بڑھا لیا تھا۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق گزشتہ بدھ کو سعودی شہزادے نے کہا ،’’ایرانی حکام بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق مناسب سکیورتی فراہم کرانے کےلئے اپنے پرعزم فرائض پر کھرے اتریں۔