فضائی آلودگی کی وجہ سے شہریوں کی زندگی کو خطرہ،حالات تشویشناک شہر بعض علاقوں کی فضاء انتہائی مکدر ، گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں سب سے زیادہ متاثرکن CITY
01:59PM Mon 1 Jan, 2018
بنگلورو: یکم جنوری،2018(سالارنیوز) شہر کے کئی علاقوں میں پرانی گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھواں کی وجہ سے پیدا شدہ فضائی آلودگی کی سطح دہلی سے بھی زیادہ ہے۔ شہر کے 20؍سے زیادہ علاقوں میں آلودگی کی سطح انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ اگر شہر میں فضائی آلودگی اسی طرح بڑھتی رہی تو آنے والے دنوں میں سانس لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار بروہت بنگلور مہانگر پالیکے (بی بی ایم پی) کے صدر منجوناتھ پرساد نے کیا۔ حالیہ دنوں دہلی میں آلودگی کی سطح تشویشناک ہونے کی وجہ سے اسکولوں کو غیرمعینہ مدت کے لئے بند کرنے کی نوبت آئی تھی۔ انہوں نے بتایاکہ آنے والے دنوں میں یہاں بھی ایسے حالات پید اہوسکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں شہر میں آلودگی کی سطح کم کرنے کے سلسلہ میں کی جارہی کوششوں کا جائزہ لینے کے لئے بی بی ایم پی، محکمہ بنگلور شہری ترقیات ، بیسکام، کرناٹک پالوشن کنٹرول بورڈ، محکمہ سیلم ترقیات اور ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے صدور اور اہم عہدہ داروں کی ایک نشست منعقد ہوئی جس میں حصہ لیتے ہوئے منجوناتھ پرساد نے کہاکہ حکومت کے کئی محکموں کے درمیان بات چیت کی جارہی ہے اور اس بات کی کوشش ہورہی ہے کہ آلودگی کی سطح کم کرنے کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کیاجائے۔ انہوں نے بتایاکہ شہر میں سڑکوں کی لمبائی تقریباً 14؍ہزار کلومیٹر ہے جن پر روزانہ لاکھوں گاڑیاں دوڑتی ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں سے خارج ہورہے دھواں فضا میں منتشر ہوتاہے اور اس سے فضا مکدر ہوجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ روز بروز آلودگی کی سطح بڑھتی جارہی ہے۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی جانب سے چلائی جارہی موروثی ایندھن پر چل رہی بسوں کے بدلے سی این جی یا بجلی سے چلنے والی بسوں کو چلانا ہوگا اور ایسی بسوں کو نقل وحمل کے استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایاکہ حال ہی میں شہر کے کئی علاقوں کا جائزہ لیا گیا اور آلودگی کی سطح معلوم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس جائزہ رپورٹ نے جس بات کا انکشاف کیا ہے وہ انتہائی چونکا دینے والی ہے۔ اس جائزہ کے مطابق ان علاقوں کی ہوا میں سلور ڈائی آکسائڈ، نائیٹروجن ڈائی آکسائڈ جیسی گیس کی مقدار معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ نائیٹروجن ڈائی آکسائڈ کی مقدار بھی بہت زیادہ پایا گیا۔
ہرسال7؍لاکھ گاڑیاں :۔ صدر منجوناتھ نے بتایاکہ شہر میں گاڑیوں کی تعداد 72؍لاکھ 66؍ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے۔ ہر سال شہر میں 7؍لاکھ نئی گاڑیاں سڑکوں پر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ کرناٹکا اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن(کے ایس آرٹی سی) اور بنگلور میٹروپالیٹین ٹرانسپورٹ کارپوریشن (بی ایم ٹی سی) کے ذریعہ چلائی جارہی بسوں اور نقل وحمل کی سواریوں سے بھی آلودگی بڑھ رہی ہے۔ شہرکیبلاری روڈ، بنرگٹہ روڈ، اولڈ مدراس روڈ، کنکاپورہ روڈ، میسور روڈ، ٹمکور روڈ، ایم جی روڈ، کورمنگلا، مڑیوالا ، ماگڑی روڈ، ہسور روڈ، اولڈ ایر پورٹ روڈ، پینیا انڈسٹریل ایریا، ٹینری روڈ، آئی ٹی پی ایل، یلہنکا، سلک بورڈ جنکشن، کے آر سرکل، بانسواڑی جیسے علاقوں میں آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔
گاڑیوں سے سب سے زیادہ آلودگی:۔ شہر میں گاڑیوں سے سب سے زیادہ آلودگی 42؍فیصد، انڈسٹریل شعبوں سے 14؍فیصد بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ پرائیویٹ گاڑیوں کو کم کرنے کے لئے ہمیں عوامی نقل وحمل کے ذرائع میں وسعت دینی ہوگی اور اس سلسلہ میں مضبوط قدم اٹھانا ہوگا۔ تبھی شہر میں دوپہیہ اور چارپہیہ گاڑیوں کی تعداد کم ہوسکتی ہے۔ پرانی عمارتوں کو منہدم کرنے اور نئی عمارتوں کی تعمیر سے بھی آلودگی میں اضافہ ہورہاہے۔ بی بی ایم پی کے تمام 198؍وارڈوں میں آلودگی کی سطح معلوم کرنے کے لئے ایل ای ڈی اطلاعاتی آلہ نصب کیا جائے گا۔ سمپت راج نے کہاکہ کچھ گاڑیوں کو شہر میں داخلہ پر پابندی کی تجویز بھی حکومت کو بھیجی جائے گی۔