گانگریس اقلیتوں کے زبانوں سے کھلواڑ کر رہی ہے: محمد یوسف

12:39PM Thu 15 Jan, 2015

بھٹکلیس نیوز/15جنوری،14 بیدر۔ (پریس ریلیز )اخبارات کی اطلاعات کے بموجب آرروشن بیگ وزیر حج، اطلاعات اور انفراسٹرکچرحکومت کرناٹک نے اردو مدارس کو کنڑا مدارس میں ضم کرتے ہوئے اردو کا صرف ایک مضمون رکھنے کامشورہ دیاہے۔وہ انڈی (ضلع بیجاپور) کے سرکاری اردو ہائرپرائمری اسکول کے بھون کی سنگ بنیادرکھنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔ ممتاز شاعر، ادیب ، افسانہ نویس ، مترجم اور نقاد محمدیوسف رحیم بیدری نے روشن بیگ کے اس بیان اور مشورہ کی مذمت کرتے ہوئے ریاست کی کانگریس حکومت پر الزام لگایاہیکہ وہ اقلیتوں کے ووٹوں سے جیت کر برسراقتدار آکر بھی اقلیتوں کو ستانے اور اس کی زبان سے کھلواڑ کرنے سے باز نہیں آرہی ہے جس کا انجام اقتدار سے ہاتھ دھونے کی شکل میں سامنے آئے گا۔ اس سے قبل میسور کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر تنویر سیٹھ نے وزیرتعلیم کمنے رتناکر کو ایک دستخطی مکتوب روانہ کرتے ہوئے اردو مدارس کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنے کی سازش سے کام لیاتھاجس کی اردو تنظیموں اور دانشوروں نے خوب مذمت کی تھی۔ یوسف رحیم بیدری نے روشن بیگ کو صلاح دی ہے کہ وہ کنڑا اسکول کے ضمن میں بھی اپنی رائے پیش کریں تو سمجھاجائے کہ ان کی رائے سیاسی پینتروں سے آلودہ نہیں ہے۔ کیا ان میں اتنی ہمت ہے کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ جتنے میڈیم کے مدارس مثلاًاردو ، کنڑا ، مراٹھی ، تیلگو اور ملیالم ہیں ان تمام میں بطور زبان صرف ایک زبان پڑھائی جائے ، باقی مضامین انگریزی میں ہوں تاکہ پوری ریاست ترقی کی طرف گامزن ہوسکے لیکن وہ ایسا نہیں بیان نہیں دے سکیں گے۔ ہماری ان سے اپیل ہے کہ وہ جس طرح اردو کی ترقی کے لئے مشاعروں اور دیگر تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں اس کو جاری وساری رکھیں ۔ان کے اس طرح کے خیالات سے اقلیتوں میں بے چینی توبڑھے گی ہی ان کے خلاف نفر ت میں اضافہ ہوگا۔ واضح رہے کہ مذکورہ تقریب کی صدارت کرنے والے رکن اسمبلی یشونت گائیگوڈا پاٹل نے کہا تھاکہ سچر کمیٹی کے مطابق اقلیتی طبقہ تعلیمی لحاظ سے پچھڑا ہواطبقہ ہے۔ حکومت کو اقلیتوں کی تعلیم پر زوردینے کی ضرورت ہے۔اعلیٰ تعلیم تک اردو میڈیم میں پڑھائی کرنے کی سہولت کے بارے میں حکومت کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔کاش! ہمارے قائدین دیگر طبقات کے قائدین سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے ہی گھر کو آگ لگانے سے باز آئیں ۔یوسف رحیم بیدری نے وزیر اعلیٰ سدرامیا سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کے غیرغلط مشوروں پر کان نہ دھریں ۔ اور ریاستی کانگریس کے صدر کو چاہئیے کہ اپنی پارٹی کے قائدین کو اس طرح کے بیانات سے روکیں ورنہ کانگریس زوال کا منہ ضرور دیکھے گی ۔ ع،ح،خ