ملک میں ڈرخوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے حالات سے گھبرانے کی بجائے حالات کا سا منا کیا جائے: رحمن خان
03:30PM Sun 20 Aug, 2017
بنگلور:( (بھٹکلیس نیوز)) ملک میں ایک طرح کشیدگی ڈر خوف کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے انکم ٹیکس ، ین آئی اے، سی بی اے جیسے سرکاری اداروں اور سرکاری مشنری کو استعمال کرکے لوگوں کو خوف زدی کیا جارہا ہے اور ان اداروں کی خود مختاری ختم کی جارہی ہے یہ بات رکن پارلیمان ڈاکٹر کے رحمن خان نے آج یہاں اُردو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی اور بتایا کہ اس ملک کے مسلمان بھی گھٹن محسوس کررہے ہیں مسلمانوں کی قومیت پر سوال کیا جارہا ہے دینی مدارس کو شک کی نظر سے دیکھا جارہا ہے اتر پردیش کے مدارس میں قومی جھنڈا لہرانے اور فوٹو ریکا رڈنگ کرنے کیلئے ایج سرکیولر جاری کیا گیا۔ جناب رحمن خان نے بتایا کہ کوئی آزادی کا حق استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم یا حکمران پارٹی پر تنقید کرتا ہے تو اس کی قومییت پر شک کیا جارہا ہے انہوں نے بتایا کہ ملک کے موجودہ حالات اور کشیدگی کے ماحول پر سابق نائب صدر ہند جناب حامد انصاری نے تبصرہ کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ اس ملک میں مسلمان اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھ رہا ہے ان کے بے باک اظہار خیال پر وزیر اعظم اور نائب صدر ہند نے تنقید کی حا لانکہ اس بیاں پر تنقید نہیں ہونی چاہئے تھی ۔ جناب رحمن خان نے بتایا کہ دیکا جائے تو ین ڈی اے حکومت کے تین سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو حکومت بری طرح ناکام ہے اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔رحمن خان نے بتایا کہ ان حالات میں اپوزیشن کو جو رول ادا کرنا چاہئے تھا بد قسمتی سے وہ رول ادا نہیں کر پارہی ہے کہیں نہ کہیں سیاسی پارٹیوں اور اپوزیشن کو خامیوں کرنے کیلئے حکومت کو ئی نہ کوئی ہتھیات استعمال کررہی ہے نتیش کمار کی مثال موجود ہے سکیولرزم کا علمبردار کہلانے والا شخص حکومت کے شکنجے میں آگیا ۔ جناب رحمن خان نے بتایا کہ ان حا لا ت میں ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اس سے پہلے بھی اس طرح کے حالات پیدا ہوئے تھے آج ملک کے سکیو لرزم اور آئین کو بچانے کیلئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے آج بی جے پی کا سامنا کرنے کیلئے ایک متبادل پارٹی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے بی جے پی کا متبادلصرف کانگریس ہی ہے علاقوئی پارٹیوں کا منشا صرف اقتدار حاصل کرنا ہے انہیں جمہوریت اور سکیولرزم کی کوئی پرواہ نہیں وہ کبھی بھی اپنا موقف بدل سکتی ہیں۔ اس لئے کانگریس کو مضبوط اور طاقتور بنا یا جان چاہئے ۔ آنے والے دنوں میں مسلمانوں کو اہم رول ادا کرنا ہے مسلمانوں کو جذبات دلانے والی پارٹیوں سے ہوشیار رہنا ہے یہ پارٹیاں مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کررہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم قایدین کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی غرضی کو بھلاکر ملک کے سامنے جو چیلنج ہے اس کا سامنا کرنے کیلئے ایک جٹ ہوجائیں حالات سے گھبرانے کی بجائے حالات کا سامنا کریں۔