فدائے ملت کے خلیفہ قاری صالح کا انتقال،پوراماحول سوگوار،آبائی قبرستان کوروڈیہیہ میں تدفین،
11:55AM Sun 7 Aug, 2016
(پٹنہ ،۷؍اگست)
مدنی خاندان سے خصوصی وابستگی رہنے والے ، فدائے ملت مولاناسید اسعد مدنیؒ سابق صدر جمعیۃ علماء ہند کے خلیفہ،شیخ الادب ؒ کے خادم خاص،اور جناب مولانامحمدقاسم صاحب سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کے چچامحترم، جناب قاری صالح صاحب کا آج بارہ بجے شب طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے ،اناللہ واناالیہ راجعون،ان کی عمر 90؍سال تھی،1989میں بھاگلپور فساد کے موقع پر اپنے پیرومرشدفدائے ملت کی ہدایت پر ریلیف اور بازآبادکاری میں جنگی پیمانے پر انہوں نے کام کیاتھا،بھاگلپوراور قرب وجوار میں جمعیۃ علماء ہند کی جس طرح انہوں نے ممبرسازی کی ،اس کا نتیجہ ہے کہ عام طور پر لوگ وہاں جمعیۃ اور فدائے ملت کے شیدائی ہیں،کوروڈیہیہ بھاگلپور میں وہ فدائے ملت کے سب سے پہلے خلیفہ ہیں ،ان کے انتقال کی خبر سے پوراماحول سوگوار ہوگیا،جمعیۃ علماء ہند کے صدرمحترم جناب مولاناقاری سیدمحمدعثمان صاحب منصورپوری،اور ناظم عمومی جناب مولانا سید محمود اسعد مدنی ، جامعہ مدنیہ سبل پورکے بانی جناب مولانامحمدقاسم،مولانامحمدناظم ،مولانامرغوب الرحمن ،جمعیۃ علماء بہار کے اراکین ،جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ کے اساتذہ وعملہ نے مسجدوں کے ائمہ ،مکاتب کے ذمہ داران سے دعائے مغفرت اور ترقی درجات کی اپیل کی۔
جامعہ مدنیہ سبل پورمیں دعائے مغفرت کی گئی،اور تعزیتی نشست کا انعقاد ہوا،جناب مولانامحمدقاسم صاحب کہنے لگے :جب ریاستی دینی تعلیمی بورڈ کے زیراہتمام شہر پٹنہ میں ایک معیاری آزادمدرسہ کے قیام کی تجویز پاس ہوئی ،توزمین کی تلاش کے لئے کبھی پیدل ،کبھی رکشہ سے جاتے تو چچامحترم جناب قاری صالح بھی ساتھ ہوتے اور باربارکہتے تھے:پیسہ ندارد،اور چلے ہیں ،مدرسہ کھولنے،25؍سال انہوں نے مدرسہ اعزازیہ پتھنہ میں تدریسی خدمات انجام دیں،جامع مسجد کوروڈیہیہ میں عیدین کے وہ امام رہے،رعب کا حال یہ تھاکہ ان کے سامنے کسی کے جانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی ،فدائے ملت ؒ کا ایک بارقیام رمضان شاہ جنگی بھاگلپورمیں ہوا،تو میں نے دیکھاہے کی بڑابڑادیگ وہ اپنے سروں پر لیجاتے اور حاجی حکیم فداحسین کے گھرپر پہونچاتے ،دربھنگہ اور مدھوبنی کے فساد کے موقع پر وہ ریلیف کے لئے سامان لے کر جارہے تھے ، بلوائیوں نے انہیں پکڑلیا،ایک غیرمسلم چائے کی دکان والے کے ذریعہ اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی ۔ جناب مولانامرغوب الرحمن صاحب نے کہا:وہ شیخ الادب مولانااعزاز علی صاحب ؒ کے خادم خاص تھے ،جناب مولاناعبد الخالق صاحب سہارنپوری ؒ کی انہوں نے اتنی خدمت کی وہ کہتے تھے :اللہ اگر ہم سے قیامت کے دن پوچھے گا تو نے کیالایامیں کہوں گا:میں صالح کو لے کر آیاہوں،فدائے ملت ؒ کا جب جب سفر بہارکی طرف ہوتاتو قاری صالح ان کے ساتھ ضرور نظر آتے،جناب مولانامحمدناظم ناظم جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ وجنرل سکریٹری جمعیۃ علماء بہار نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہارکرتے ہوئے کہا:ان کی وابستگی جمعیۃ علماء ہند سے خصوصی تھی ،صدرمحترم جناب مولاناقاری سیدمحمدعثمان صاحب ان کی عیادت کے لئے دیوبند سے بھاگلپورکئی بار تشریف لائے ،وہ جب چلمل سے واپس بھاگلپورجارہے تھے ،ان کی جیب ان پر الٹ گئی ، کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئی ،مگر وہ زندہ اور صحیح سالم رہے،وہ صرف نام کے صالح نہیں،حقیقت میں صالح اور نیک تھے ،ان کی پچاس سالہ قوم وملت کے اتنی زیادہ قربانیاں ہیں اس کا شما رنہیں کیاجاسکتاہے،اللہ انہیں دنیاہی میں بدلہ دیاکہ ان کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ،اور سبھی حافظ اور عالم ہیں ،ان کی موت سے یقیناایک خلاہوگیاہے،جامعہ مدنیہ سبل پورپٹنہ کے اساتذہ اور طلبہ نے ان کی مغفرت اور ترقی درجات کے لئے دعاء فرمائی ، آبائی قبرستان کوروڈیہیہ میں تدفیں عمل میں آئی اور ان کے صاحبزادے جناب مولانامصلح الدین صاحب استاذ جامعہ حسینیہ جونپورنے پڑھائی ۔یہ اطلاع خالد انور پورنوی المظاہری نے دی ہے۔