ہرتال ہالپا عصمت دری کے الزام سے بری
04:10PM Sat 19 Aug, 2017
حکومت نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی
بنگلور(بھٹکلیس نیوز ):۔ وزیر برائے مالگذاری اور شیموگہ ضلع کے نگران کار وزیر کاگوڑو تمپا نے کہا کہ سابق وزیر ہرتال ہالپا کو عصمت دری کے معاملہ میں بری کردئے جانے کے معاملہ کو لیکر نچلی عدالت کے ذریعہ دئے گئے فیصلہ کو چیلنج کیا جائے گا۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ شیموگہ کے دوسرے ڈسرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ہرتال ہالپا کو ایک خانہ دار خاتون چتراونی کی عصمت دری کے معاملہ میں باعزت بری کرنے کا فیصلہ سنایا ہے ۔حکومت نے اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیا ہے اور شیموگہ عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ سی آئی ڈی نے اس معاملہ کی جانچ کرکے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی اور ہالپا کے خلاف تمام ثبوت اور گواہ پیش کئے گئے تھے پھر بھی ہالپا کو باعزت بری کیا گیا ہے۔ 26نومبر 2009 کو ہالپا نے اپنے عزیز دوست کرشنا مورتی کی بیوی چتراوتی کو سرکاری ملازمت کا جھانسہ دے کر اس کی عصمت دری کی تھی اور اس سلسلہ میں مظلوم عورت نے ہالپا کے خلاف پولیس تھانہ میں شکایت درج کرائی تھی۔ اس سلسلہ میں زنانہ پولیس اہلکاروں نے بھی جانچ کی تھی اور پھر اس معاملہ کی جانچ کی ذمہ داری سی آئی ڈی کو سونپی گئی تھی۔ دوسری طرف بنگلور میں واقع فورینسک سائنس لیباریٹری ( ایف ایس ایل ) کی رپورٹ میں بھی اس بات کا خلاصہ ہوا تھا کہ ہالپا نے چتراوتی کی عصمت دری کی تھی۔ کئی مرتبہ عدالت سے بھی غلطی ہوسکتی ہے اس لئے نچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جارہا ہے۔