خاتون نے کہا "شادی نہیں پیسوں میں ہے دلچسپی، عدالت نے شوہرسے کہا ایک کروڑ دے دو"۔

09:56AM Tue 9 Oct, 2018

سپریم کورٹ نے ایک شخص کی بیوی کے بیان کے مد نظرحکم دیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ایک کروڑروپئے دے۔ مذکورہ شخص کی بیوی نے کہا تھا کہ اسے شادی میں نہیں پیسوں میں دلچسپی ہے۔ جسٹس جوسف کورین کی صدارت والی بنچ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ شخص 16 ماہ کے اندرہرچارماہ میں 25 لاکھ روپئے ادا کرے گا۔ بینچ نے کہا "بیوی نے جواب داخل کیا ہے کہ وہ صرف اپنے پیسے واپس چاہتی ہے۔ شوہرنے بھی جواب دیا ہے کہ وہ بھی پورا معاملہ حل کرلینا چاہتا ہے۔ ایسے حالات میں ہم یہ سمجھنے میں قاصررہے کہ وہ کس لئے لڑ رہے تھے"۔
بیوی نے بھی عدالت میں کہا تھا کہ اب ان کے رشتے میں کوئی سدھارنہیں آسکتا۔ اب وہ شوہر اوربیوی کی طرح ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس پرعدالت نے کہا کہ اگرپیسہ ہی واحد چیزتھی، جس کے سب الگ الگ عدالت گئے، تو اب اسے بند کردینا چاہئے۔ بیوی نے الزام لگایا تھا کہ اس کے شوہراورسسرال والے مسلسل جہیزکا مطالبہ کررہے تھے اوران کے والد کو سسرال والوں کی لالچ کوپورا کرنے کے لئے مجبورہونا پڑا تھا۔ اس نے الزام لگایا کہ مبینہ طورپراس کے ساتھ زیادتی کی گئی اورزبردستی طلاق کے کاغذات پردستخط کرائے۔ اس جوڑے کے بیچ  دہلی سے فریدآباد تک کئی معاملے عدالتوں میں زیرالتوا ہیں۔ شروعات میں خاتون نے مکمل اورحتمی حل کے طورپر1.25 کروڑ روپئے کا مطالبہ کیا، لیکن شوہرکے والد کی موت کی وجہ سے  ایک کروڑ روپئے تک اتفاق رائے ہوا۔ ایک بار شوہرکے ذریعہ پوری ادائیگی کے بعد عدالت نے کہا کہ یہ جوڑا اس سے پہلے آپسی اتفاق سےطلاق کے لئے درخوست دے سکتا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ جوڑے کے درمیان کوئی اورکارروائی نہیں ہوگی۔ بینچ نے حکم دیا "ہندوستان کے سبھی عدالتوں میں پارٹیوں اوران کی فیملی کے ممبران کے درمیان سبھی معاملوں میں آگے کی کارروائی پرروک جاری رہے گی۔ پارٹیوں کو ایک دوسرے اوران کے خاندان کے ارکان کے خلاف تازہ مقدمہ چلانے سے بھی روکا جاتا ہے۔ شوہرامریکہ میں کام کرتا ہے، عدالت نے اسے بھی بغیراجازت کے ملک چھوڑ کرجانے سے منع کیا ہے۔ دونوں کی شادی سال 2000 میں ہوئی تھی اوروہ امریکہ چلے گئے تھے، جہاں خاتون نے میڈیکل ایجوکیشن کی تعلیم حاصل کی اور کام کرنا شروع کیا۔