محکمۂ پولیس کی جانب سے آرڈرلی نظام جاری کردہ ضبوابط کی خلاف ورزی۔ کئی کانسٹیبلوں کی شکایت
03:44PM Tue 11 Jul, 2017
بنگلور(بھٹکلیس نیوز):۔ محکمۂ پولیس کی جانب سے پولیس کانسٹیبلوں کے لئے آرڈرلی نظام جاری کیا گیا تھا۔ جس کے تحت کوئی بھی پولیس کانسٹیبل اعلیٰ افسران کے گھر پر نوکروں کی طرح کام نہیں کرے گا اور ان پولیس کانسٹیبلوں کی جگہ ڈی گروپ کے ملازمین کو مقرر کرنے کا فیصلہ لیکر کئی ضبوابط اور شرائط جاری کئے گئے تھے۔ اب اعلیٰ افسران کی جانب سے اس نظام کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیکر کرناٹک انفارمیشن کمیشن کے محکمۂ پولیس کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔اس نظام کی خلاف ورزی کرنے کے تعلق سے شیموگہ ضلع کے پولیس کانسٹیبل انیل کمار سمیت پانچ پولیس کانسٹیبلوں نے اس سلسلہ میں کمیشن سے شکایت کی تھی کہ آرڈرلی نظام کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور انہیں آج بھی اعلیٰ پولیس افسران کے مکانوں میں باروچی۔ کپڑے دھونے۔بچوں کو اسکول چھوڑنے اور لانے۔ ٹیلی فون کال آنے پر اسے ریسو کرنے اور پھر پولیس افسران کوٹیلی فون دینے۔ بازار سے سامان لانے اور باغبانی کی رکھوالی کے علاوہ کئی گھریلو کام کرنے پڑتے ہیں۔ اس سلسلہ میں کمیشن کے کمشنر ایل کرشنا مورتی نے محکمۂ داخلہ کے سکریٹری اور اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے پی گرگ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ڈسپلن کے لئے مشہور محکمۂ پولیس ریکارڈس بیوریو شعبہ کے کتنے پولیس کانسٹیبلوں کو آرڈرلی کے طور پر کام کرایا جارہا ہے اس کی تفصیلات فراہم کرانے کا حکم دیا۔ آرڈرلی عہدے کا نام۔ سیریل نمبر اور کتنے سالوں سے کام کررہے ہیں۔ اس تعلق سے تفصیلات فراہم کرانے کا حکم دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی جی پی کے گھر پر تین پولیس کانسٹیبل اس کے علاوہ کئی اعلیٰ افسران کے پاس21ہیڈ کانسٹیبل اور18پولیس کانسٹیبل کام کرہے ہیں کے ایس آر پی آٹھویں بنالیں کے چار کانسٹیبل۔نویں بنالین کے پانچ کانسٹیبل اور تین ہیڈ کانسٹیبل کام کررہے ہیں۔