نمازعید پر پابندی ناقابل معافی اقدام، کشمیر کی تاریخ میں اس جبری پابندی کا کوئی ثانی نہیں: عمر عبداللہ
03:17PM Sat 17 Sep, 2016
سری نگر : جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے 13 ستمبر کو عید الضحیٰ کی مقدس تقریب سعید کے موقعے پر وادی کے عیدگاہوں، مساجد اور درگاہوں میں اجتماعی طور پر نمازِ عید پر قدغن لگانے کی کارروائی پر وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی تاریخ میں اس جبری پابندی کا کوئی ثانی نہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تاریخ کشمیر میں عید کے روز درگاہوں اور جامع مساجد پر تالے چڑھانے کی کوئی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی سال کے اس مقدس اور بابرکت دن پر کبھی عام لوگوں پر اس قدر طاقت کا بے تحاشہ استعمال کیا گیا ہے۔
یہاں جاری ایک بیان میں مسٹر عبداللہ نے کہا ’عید کے مقدس موقعے پر کشمیری لوگوں کو دبانے کے لئے محبوبہ مفتی کے غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ اقدامات شرمناک اور تشویشناک ہیں‘۔وادی میں قیمتی جانوں کے مسلسل ہوتے اتلاف پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اپنی نااہلی ،ناعاقبت اندیشی اور بے تکی بیان بازی کے ذریعے پہلے سے ہی خراب حالات کو مزید ابدتر کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں، جو جمہوری اصولوں سے میل نہیں کھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیلٹ گنوں پر پابندی کی مسلسل اپیلوں کو توہین سمجھ کر مسترد کیا جارہا ہے، ریاستی حکومت انتظامی اور سیاسی سطح پر حالات سے نمٹنے کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ فورسز اور طاقت کا استعمال بڑھارہی ہے۔حکومت اس دھوکے میں ہے کہ وسیع پیمانے پر گرفتاریاں، سیفٹی ایکٹ کا اطلاق اور عید نماز پر قدغن لگانے سے حالات پٹری پر آجائیں گے۔
ایسا محسوس ہورہاہے کہ حکومت جان بوجھ کر پہلے سے ہی مشکلات سے دوچار کشمیری لوگوں پر مشکلات کے مزید پہاڑ ڈھا رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس کارگذار صدر نے کہا کہ نئی دلی کی ہٹ دھرمی نے وزیر اعظم کے بلند بانگ بیان بازی سے ہوا نکال دی اور ساتھ ہی ایسے فریقوں اور جماعتوں کے اُس موقف کو صحیح ثابت کیا ہے جو انہوں نے آل پارٹی ڈیلی گیشن سے نہ ملنے کیلئے اختیار کیا تھا ۔ نئی دلی ایک ساتھ مصالحت اور رجعت پسندانہ باتیں نہ کریں، یہ طریقہ کار وادی کے حالات بہتر بنانے کے بجائے ابدتری کا سامان بن سکتا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ نئی دلی نے کشمیر میں زمینی سطح پر بچھا کچھا اعتماد بھی کھو دیا ہے اور یہ اعتماد فوجی فتوحات اور کھوکھلی بیان بازی سے لوٹنے والا نہیں۔
انہوں نے کہاکہ جب آپ ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست پر عید کے روز سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لاکر لوگوں کو نمازِ سے روکتے ہیں ، تو آپ خود ہی اُن سوالات کو صحیح ثابت کرتے ہیں جو کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کے بارے میں وقتاً فوقتاً اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ کشمیر میں پیلٹ گن کی قہرسامانیوں کے باوجود بھی جب آپ اس پر پابندی عائد نہیں کرتے ہیں تو آپ اس بات کا برملا اعلان کرتے ہیں کہ کشمیر کے بارے میں آپ کے ضمیر بھی مردہ ہیں۔ جب آپ ایک جی حضور وزیرا علیٰ کی کرسی کو بچانے کیلئے کشمیر کی انتہائی کشیدہ سیاسی صورتحال کو نظرانداز کرتے ہیں تو آپ تاریخ سے سیکھے ہوئے ہر ایک سبق کی توہین کرتے ہیں‘۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر محبوبہ مفتی سے استعفے کا مطالبہ نہیں کررہی ہے، باوجودیکہ موصوفہ کی غیر ذمہ داری، غیر دانشمندی، نااہلی اور ناسمجھی کشمیریوں کیلئے دکھ اور درد کا باعث بنی ہے۔ محبوبہ مفتی اور اُن کی حکومت کو اپنی ہی پارٹی کے اندر سے سب سے زیادہ نکتہ چینی سننے کو مل رہی ہیں۔ موصوفہ کو استعفیٰ دینے کے اشارے بھی انہیں اپنی پارٹی کے اندر سے ہی مل رہے ہیں ۔ نیشنل کانفرنس نے نہ تو موصوفہ سے استعفیٰ طلب کیا ہے اور نہ ہی کرے گی۔ وہ کتنی دیر تک ظلم اور جبر کا چہرہ بنے رہنا چاہتی ہیں وہ اُن کے ضمیر تک ہی چھوڑا جاسکتا ہے۔موصوفہ کے غیر سنجیدہ، غیر ذمہ دارانہ اور حقیقت سے بعید ریمارکس نے کشمیری نوجوانوں کے غصے میں مزید اضافہ کیا۔ موصوفہ کی 5فیصدی اور 95فیصدی منطق عوام سے اُن کی دوری کا ثبوت ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ نئی دہلی کو عزت اور تدبر کے ساتھ اس بات کو تسلیم کرنا چاہئے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے ، جو ایک سیاسی حل کا متقاضی ہے۔