کچھ اخبارات کے ذریعے بھٹکل کے خلاف خبریں شائع کرنے پر بھٹکل میں ٹوئٹر پر چڑھا ٹرینڈ؛ ایک مشہور اخبار نے کیا معذرت کا وعدہ

03:57PM Mon 18 May, 2020

بھٹکل: 18 مئی،20(بھٹکلیس نیوز بیورو) ریاست کے کچھ کنڑا اور انگریزی اخبارات نے گذشتہ روز بھٹکل میں ایک لڑکی کے مینگلورو اسپتال میں علاج کو لے کر غلط خبریں شائع کرتے ہوئے بھٹکل کو بدنام کرنے کی کوشش کی تھی۔ دراصل کچھ دنوں پہلے بھٹکل میں ایک چھوٹی بچی کا ہاتھ فریکچر ہوگیا تھا جس کے بعد ایمرجنسی ہونے کی وجہ سے انتظامیہ کی اجازت لے کر اہل خانہ مینگلور علاج کے لیے روانہ ہوئے تھے اور وہاں کے ایک نجی اسپتال میں علاج کرایا تھا۔ لیکن اس معاملہ کو دوسرا رنگ دیتے ہوئے ریاست کے چند اخباروں نے غلط خبریں پھیلائی تھیں اور کہا تھا کہ لڑکی کے گھر والوں نے اسپتال والوں کو جو اپنی تفصیلات دیں ہیں وہ غلط ہیں۔ اخبارات کا کہنا تھا کہ بھٹکل والوں نے اسپتال میں خود کو کنداپور کا مقیم بتا کر لڑکی کو اسپتال میں بھرتی کیا تھا اور بھٹکل کورونا کا ہاٹ اسپاٹ ہونے کی وجہ سے اسپتال کو بند کیا گیا تھا۔ تاہم چند دنوں بعد خود اسپتال والوں نے اخباری نمائندوں کے سامنے صاف کیا تھا کہ بھٹکل والوں نے آدھار کارڈ دکھا کر اپنی صحیح معلومات دی تھی، اس لیے اخبارات جھوٹی خبریں شائع نہ کریں۔ اس سلسلہ میں بھٹکل کے نوجوانوں نے آج ٹوئٹر پر مہم چھیڑ دی اور اخبار سے معافی کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس مہم کے بعد ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #Stopdefamingbhatkal   اور #DeccanHeraldlies ٹرینڈ کرنے لگے ہیں اور ساحلی کرناٹک کے کئی لوگ اس میں شامل ہوکر اپنے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نتیجہ میں چند ہی گھنٹوں میں اس ٹیگ پر ہزاروں کی تعداد میں ٹویٹ کیے جاچکے ہیں۔   ایک بڑے اخبار نے معذرت کا وعدہ کیا: اس دوران ایک مشہور انگریزی اخبار نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اس خبر پر معذرت کا وعدہ کیا ہے اور غلط خبر دینے پر اپنے نمائندے پر بھی کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ سوشیل میڈیا کا صحیح استعمال کیا جائے تو بہت ہی آسانی کے ساتھ بہت سی بدنامیوں کو دور کیا جاسکتا ہے اور بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ (بشکریہ: اسماعیل ضوریز/معاون مدیر وارتھا بھارتی انگریزی ایڈیشن)