اننت کمار کے انتقال پر وزیر اعلیٰ سمیت متعدد اقلیتی لیڈروں نے کیا اپنے رنج و غم کا اظہار

04:08PM Mon 12 Nov, 2018

مرکزی وزیر اننت کمار کے انتقال پر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی اور دیگر متعدد سیاسی رہنماوں سمیت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات نے اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا ہے۔ سابق مرکزی وزیر کے رحمن خان، ریاستی اقلیتی وزیر ضمیراحمد خان، این اے حارث اور دیگر مسلم لیڈران اور سماجی کارکنان نے  بنگلورو میں واقع ان کے گھر جا کر ان کا آخری دیدار کیا۔ اس موقع پر سابق مرکزی وزیر اور سینئر کانگریس لیڈر کے رحمن خان نے میڈیا کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نظریاتی اختلافات کے باوجود اننت کمار نے کبھی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ پریوار سے وابستہ ہونے کے باوجود اننت کمار اقلیتوں کے بھی ہمدرد تھے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ان کا انتقال ملک اور ریاست کے لئے بڑا نقصان ہے۔ خیال رہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر اننت کمار کا بنگلورومیں کل رات دو بجےانتقال ہو گیا۔ کینسر کے مرض میں مبتلا اننت کمار کے اچانک انتقال پرملک بھر میں سوگ منایا جا رہا ہے ۔ کرناٹک میں بی جے پی کو اقتدار تک لانے والے،سنگھ پریوارکی نمائندہ شخصیت، اٹل بہاری واجپائی کے بعد مودی کی کابینہ کے اہم وزیر 59سالہ اننت کمارگزشتہ چند دنوں سے علیل تھے۔ ان کے اچانک انتقال کے بعد سیاسی، سماجی اور تعلیمی حلقوں میں گہرے دکھ اور درد کا اظہارکیا جا رہا ہے۔ بنگلورو میں ان کی رہائش گاہ پرعوام اور خواص کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ بی جے پی کا اقلیتی مورچہ بھی سوگ میں مبتلا ہے۔ بنگلورو ساؤتھ پارلیمانی حلقہ کی نمائندگی کرنے والےاننت کمار6مرتبہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے۔ برہمن سماج میں پیدا ہوئے اننت کمار اے بی وی پی،آرایس ایس اور بی جے پی میں سرگرم رہے۔ انہوں نے سافٹ ہندوتو لیڈرکےطورپر اپنی پہچان بنائی۔ مسلم سماج سے بھی انکے اچھے تعلقات رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کی خبرسنتے ہی بڑی تعداد میں مسلم طبقہ کے لوگوں نے ان کی رہائش گاہ پہونچ کر ان کا آخری دیدارکیا۔ وزیراعلی ایچ ڈی کمار سوامی سمیت کئی اہم سیاسی لیڈروں نے اننت کمارکی رہائش گاہ پہونچ کر اُن کا آخری دیدارکیا۔ کل دوپہر ایک بجے سرکاری اعزاز کے ساتھ اننت کمار کو وداع کیا جائے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی سمیت مرکز کے کئی اہم لیڈران آخری رسوم میں شرکت کریں گے۔