عدالت نے سابق وزیر اعلیٰ پل کی موت کی جانچ والی مفاد عامہ کی عرضی پر فوری سماعت سے کیاانکار
02:58PM Fri 3 Mar, 2017
نئی دہلی، (بھٹکلیس نیوز)اروناچل پردیش کے سابق وزیر اعلی کلیکھو پل کی مبینہ خودکشی کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی مفاد عامہ کی ایک تازہ عرضی پر فوری سماعت سے سپریم کورٹ نے آج انکار کر دیا۔چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ڈی وائی چند ر چوڑ اور جسٹس ایس کے کول نے کہاکہ معاف کیجئے گا، یہ درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ذاتی طور پر مفاد عامہ کی عرضی دائر کرنے والے وکیل ایم ایل شرما نے اس درخواست کو فوری طور پر درج کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کی عدالت عظمی کی توہین کرنے کی ایک مجرمانہ سازش چل رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ پل کے مبینہ سوسائڈ نوٹ اور موت کی آزاد جانچ ہونی چاہیے ۔اس درخواست میں ان وکلاء کے کردار کی بھی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ، جو پل کی بیوی دانگی و مسائی پل کی بات کی حمایت کر رہے ہیں۔گزشتہ 23؍فروری کو پل کی بیوی نے اپنے شوہر کے مبینہ سوسائڈ نوٹ میں کچھ پہلے اور موجودہ لیڈروں اور آئینی عہدوں پر بیٹھے لوگوں کے خلاف لگائے گئے الزامات کی سی بی آئی یا این آئی اے سے جانچ کے لیے دائر اپنی درخواست واپس لے لی تھی ۔پل نے گزشتہ سال 9؍ اگست کو خود کشی کر لی تھی،ان کی لاش ایٹانگر میں وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ میں لٹکا ہوا پائی گئی تھی ۔ڈرامائی سیاسی تبدیلیوں کے درمیان پل نے 19؍فروری 2016میں ایک مختصر مدت کے لیے اروناچل پردیش کے وزیر اعلی کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن جولائی میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ان کو یہ عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔