آمدنی سے زیادہ جائیداد معاملے میں چوٹالہ کے خلاف سی بی آئی کو اضافی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت
03:48PM Fri 10 Feb, 2017
نئی دہلی،(بھٹکلیس نیوز)ہریانہ کے سابق وزیر اعلی اوم پرکاش چوٹالہ کے خلاف آمدنی سے زیادہ جائیداد کے معاملے میں دہلی کی تیس ہزاری کورٹ نے سی بی آئی کی اس عرضی کو قبول کر لیا ہے کہ اس معاملے میں ثبوت کے طور پر اضافی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ اسپیشل جج سنجے گرگ کی عدالت سے سی بی آئی نے کہا تھا کہ انکم ٹیکس محکمہ کی گواہی کے لئے چوٹالہ اور ان کی بیوی کے انکم ٹیکس ریٹرن کی کاپی چاہئے جس کاموازنہ حقیقی انکم ٹیکس ریٹرن سے کیا جا سکے۔ سی بی آئی کی اس دلیل کی چوٹالہ کے وکیل نے یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ سی بی آئی کے پاس ابتدائی تحقیقات کے وقت سے ہی تمام دستاویزات موجود ہیں اور یہ صاف نہیں ہو پا رہا ہے کہ سی بی آئی اضافی گواہ کیوں لانا چاہتی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ ہریانہ کے کانگریس لیڈر شمسیر سنگھ سرجیوالا کی شکایت پر سی بی آئی نے اوم پرکاش چوٹالہ، ان کے بیٹوں اجے چوٹالہ اور ابھے چوٹالہ کے خلاف تین الگ الگ آمدنی سے زیادہ جائیداد کے معاملے درج کئے ہیں۔ سی بی آئی نے 26 مارچ، 2010 کو چوٹالہ کو قریب 6 کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد حاصل کرنے کے معاملے میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سی بی آئی کا الزام ہے کہ یہ 1993 سے 2006 کے درمیان ان کی اعلان شدہ آمدنی سے زیادہ ہے۔ ان سالوں کے درمیان ان کی آمدنی تین کروڑ بائیس لاکھ روپے کی بتائی گئی ہے۔