’اسرائیلی کمپنی سے فون کی جاسوسی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘

02:54PM Fri 1 Nov, 2019

نئی دہلی: کانگریس کی سینیئر رہنما پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ فون کی جاسوسی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس کا قومی سلامتی پر برا اثر پڑے گا۔ ادھر اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھی جمعہ کے روز کہا کہ غیر ملکی کمپنی کے ذریعہ پرائیویسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گستاخانہ کوشش میں مرکز کی بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جےپی )حکومت کے رول کی جانچ ہونی چاہئے۔
 پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کیا، ’’اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یا حکومت نے اسرائیلی اداروں کو صحافیوں، وکلاء، سماجی کارکنان اور سیاسی رہنماؤں کے فون کی جاسوسی کرنے کا کام سونپا ہے تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا قومی سلامتی پر غلط اثر پڑے گا ۔ اس پر حکومت کی کاروائی کا انتظار ہے۔‘‘
 پرینکا گاندھی نے ٹویٹ کیا، ’’اگر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یا حکومت نے اسرائیلی اداروں کو صحافیوں، وکلاء، سماجی کارکنان اور سیاسی رہنماؤں کے فون کی جاسوسی کرنے کا کام سونپا ہے تو یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس کا قومی سلامتی پر غلط اثر پڑے گا ۔ اس پر حکومت کی کاروائی کا انتظار ہے۔‘‘
ادھر اکھلیش یادو نے ٹویٹ کیا، ’’ وہاٹس ایپ کے ذریعہ غیر ملکی کمپنی کے ذریعہ جاسوسی کیے جانے کی خبر انتہائی حساس اور قومی سلامتی کےلیے چیلنج ہے ۔یہ لوگوں کی ذاتی زندگی میں دخل دینے کی گستاخی ہے ۔اس بارے میں بی جے پی حکومت کے رول کا پتہ لگایاجاناچاہئے ۔بی جےپی کے حامیوں تک اس کے خلاف ہیں ۔‘‘ یادو نے ٹویٹ میں ایک انگریزی روزنامہ کا حوالہ بھی دیا۔
مائیکرو ویب سائٹ واٹس ایپ پر پیغامات کو پڑھنے اور فون کال سننے کا معاملہ سامنے آیا ہے جس پرکانگریس پارٹی نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ الزام ہے کہ حکومت نے اس کام کا ذمہ اسرائیلی کمپنی کو سونپا تھا۔
واضح رہے کہ وہاٹس ایپ نے جمعرات کو کہاتھا کہ اسرائیلی اسپائی ویئر ’پوگاسس ‘کے عالمی سطح پر جاسوسی کی جارہی ہے ۔ہندستان کےکچھ صحافی اور سماجی کارکن بھی اس جاسوسی کا شکار بنے ہیں ۔اس کے بعد لوگوں کی پرائیویسی کے تعلق سے نئے سرے سے بحث چھڑ گئی ہے ۔اس انکشاف کے بعد مرکزی حکومت نے کمپنی سے پوچھا ہے کہ اس نے کروڑوں ہندستانیوں کی پرائیویسی کے تحفظ کےلیے کیاقدم اٹھائے ہیں۔