چندرا شیکھر راؤنے اسمبلی میں اُردو کو ریاست بھر میں دوسری سرکاری زبان کا اعلان کیا ہے
12:41PM Mon 6 Feb, 2017
۔ مگر اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے سرکاری اور نیم سرکاری محکمہ جات کو احکامات جاری نہیں کئے۔۔صوفی رؤف اعظمی
نظام آباد(بھٹکلیس نیوز)صوفی رؤف اعظمی نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا ھیکہ ریاستی حکومت نے مسلم اقلیتی طبقہ کیلئے بہت سے ترقیاتی پروگراموں کو شروع کرنے کے دعوے تو کر رہی ہے، اُردو کو روز گار سے جوڑنے کے اعلانات ، مسلمانوں کو 12تحفظات کے ذریعہ تعلیمی صورتحال کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمتوں میں تقررات وغیرہ شامل ہیں حال ہی میں ریاستی وزیر اعلیٰ کے ۔چندرا شیکھر راؤنے اسمبلی میں اُردو کو ریاست بھر میں دوسری سرکاری زبان کا اعلان کیا ہے۔ مگر اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے سرکاری اور نیم سرکاری محکمہ جات کو احکامات جاری نہیں کئے گئے ۔محکمہ تعلقات عامہ کے دفاتر میں حیدرآباد اور اضلا ع میں مترجمین کے تقررات عمل میں نہیں لائے گئے جس کے باعث اُردو اخبار میں شائع ہونے والے خبروں کو ترجمہ کرتے ہوئے جو مسلم اقلیت سے متعلق ہوتی ہیں انکا ترجمہ کرتے ہوئے حکومت کے اعلیٰ حکام بالخصوص ریاستی وزیر اعلی اور وزرا کے علم میں آنے سے قاصر ہیں، اگر حکومت ہی مسلم اقلیت کے مسائل سے ہی بے خبر ہو تو انکے مسائل کس طرح حل ہو سکے ہیں انہوں نے بتا یا کہ ماضی کی حکومتوں نے بھی اُردو کے ساتھ انصاف کرنے کے اعلانات کئے تھے تا حال اس ضمن میں پیش رفت نہ ہو سکی، 1982ء کے بعد سے ریاست میں اُردو کے ساتھ مسلسل نا انصافی ہو رہی ہے،زبانیں ایک دوسرے کے درمیان رابطہ کا کام انجام دیتی ہے چاہے وہ کسی بھی ملک کی زبان ہو لیکن اُردو کو ملک میں حکومتیں ایک ہی طبقہ کے ساتھ جوڑتے ہوئے تعصبیت کا مظاہرہ کر رہی ہے، جو سراسر اُردو کے ساتھ نا انصافی کا سبب بنی ہوئی ہے واضح رہے کہ عروس البلاد شہر حیدرآباد کے بعد شہر نظام آباد ایک گنجان آبادی والا علاقہ ہے جہاں دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ اُردو بولنے والوں کی کثیر تعدآباد دورے عثمانی میں یہاں قائم کتب خانہ آصفیہ جو آج باپو جی واچنا لیا کے نام سے جانا جاتا ہے اس کتب خانہ سے اُردو کے تاریخی اور قیمتی کتب کے ذخیرے کو ذائع کردیا گیا ہے یہاں شہر میں قائم اکیڈیمی کی خستہ حالی کا شکار ہے تاریخی ،اور معلوماتی کتب موجود نہیں صرف بارئے ریات کے چند اُردو اخبارات ٹیبل پر پڑے ہوئے رہتے ہیں،اطراف گوشت کی مارکٹ قائم ہے، جو تعفن کا سبب بنی ہوئی صفائی کا کوئی نظم نہیں اور نہ بیت الخلاء اور نہ پانی کا نظم کتب خانہ میں وقت کی پابندی نہیں رات کے اوقات میں یہا ں باؤنڈری میں شراب نوشی دیگر برائی کے کام انجام دءئے جاتے ہیں،رؤف اعظمی نے کہا کہ بعض فرقہ پرست تنظمیں مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی مخالفت کر رہے ہیں،جبکہ مسلمانوں موجودہ صورتحال دیگر کمزور طبقات سے ابتر ہے۔ نوجوانوں کا تعلیم یافتہ ایک کثیر تعداد روز گار سے محرو م ہیں۔ چھوٹے کاروبار کرتے ہوئے گزر بسر کر رہے ہیں یا پھر اپنوں سے دور بیرونی ممالک کا روزگار کے حصول کے لئے صفر کر رہے ہیں۔ حکومت نے سدھیر کمیٹی کا قیام عمل میں لاتے ہوئے مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی ،سرکاری ملازمتوں میں پسماندگی کا جائزہ تو لیا ہے۔ اور اسمبلی کو منظور کروانے کا بھی وعدہ کیا ۔مگر کیا وزیر اعلیٰ مرکزمیں اس کو منظور کرو پاتے ہیں، انہوں نے اپنے انتخابی منشور میں مسلمانوں کو اندرون چھ ماہ 12فیصد تحفظات کا اعلان تو کیا ۔لیکن تیس ماہ کا عرصہ بیت چکا مگر آج تک 12فیصد تو دور چار فیصد جو کانگریس کے دورے اقتدار میں دئے گئے تھو اس پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ نہ ہی اُردو زبان کے ساتھ انصاف کی اُمید باقی رہ جاتی ہے۔انہوں نے اپنے کئے وعدوں کو سنجدیگی کے ساتھ عمل آواری کے اقدامات کریں جس طرح سے مسلم طبقہ کو نوازشات کی بارش تو کردی ہے مگر ٹھوص اقدامات ہونے چاہے اُردو اکیڈیمی کے اعلی عہدیدار عبدالشکور صاحب کو بھی چاہئے کہ وہ ریاست کے اضلا ع میں اُردو اکیڈیمی کیجانب سے قائم کتب خانہ و کمپیوٹرس سنٹرس کا دورہ کرتے ہوئے جائیزہ لیں اور ان کتب خانوں کی کارکردگی کو بہتر بنا ئیں تاکہ اُردو داں طبقہ زیادہ سے زیادہ ان سنٹروں اور کتب خانوں سے مستفید ہو سکے ۔مختلف سیاسی ،و فلاحی تنظیموں کے قائدین پر بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت سے نمائیندگیاں کرتے ہوئے اُردو کو جائز مقام دلوائیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اُردو صرف بول چال کی زبان بن کر رہ جائے؟اُردو داں طبقہ یوں اُردو کے ساتھ نا انصافی کا رونا روتا رہے،ہمارا ملک ایک سیکولر ملک ہے حق کی مانگ کوئی جرم نہیں ہمارے ملک کا عظیم ملک کا دستور ملک کے تمام طبقات کے انصاف کی بات کہی ہے،کسی بھی طبقہ کے ساتھ نا انصافی نہیں کی گئی ہے۔ہمیں بھی چاہئے کہ ہم حق کی لڑائی لڑیں طب ہی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں گھر بیٹھے تو انصاف ملنے والا نہیں۔