گلبرگہ میں فیملی کونسلسنگ سنٹر کا افتتاح

06:56AM Mon 8 May, 2017

عائلی تنازعات کی یکسوئی کے لئے رجوع کرنے عارف علی منیار صدر رابطہ ملت کی اپیل گلبرگہ (بھٹکلیس نیوز)مسلمانوں کے عائلی مسائل کو حل کرنے کے لئے جماعت اسلامی ہند گلبرگہ کی جانب سے قائم کیاجارہا فیملی کونسلنگ سنٹر کے ذریعہ بہت سارے مسائل بالکل ابتدا ہی میں نمٹائے جاسکتے ہیں ۔ اس سنٹر سے مسلمان استفادہ کرنا چاہئے۔ ان خیلات کو آج بروز اتوار ہدایت سنٹر میں فیملی کونسلسنگ سنٹر کا افتتاح کرنے کے بعد عارف علی منیار ضلعی صدر رابطہ ملت نے کہا۔ اختتامی خطاب کرتے ہوئے ذاکر حسین امیر مقامی جماعت اسلامی ہند نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند کی جانب سے پورے ملک میں منائی گئی مسلم پرسنل لا بیداری مہم کے ذریعہ عام مسلمانوں میں عائلی نظام کے ضمن میں بیداری لانا تھا۔ آپ نے کہا کہ اگر حکومت واقع مسلمانوں کے عائلی مسائل کے سلسلے میں سنجیدہ ہے تو عدالتوں میں مسلمانون کے عائلی مسائل کو نپٹانے کے لئے علمائے کرام کا تقرر کرے۔ آپ نے کہ مسلمانوں میں طلاق و تعداد ازدواج کے واقعات نہیں کے برابر ہونے کے باوجود ملک میں اس کو ایک سنگین مسلہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جبکہ ہمارے ملک میں روزانہ آٹھ ہزار خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے اس کے سلسلے میں زیادہ نہیں کہا جاتا ۔ اسی طرح دیگر بہت سارے مسائل ہیں جن کی طرف حکومتوں کی توجہ نہیں ہے۔ اجتماع کا آغاز محمد عظمت اللہ خان کے درس قرآن سے ہوا۔ سورۃ المومنون کی ابتدائی آیات کی روشنی میں مسلم ومومن کا فرق بتاتے ہوئے کہا کہ مسلم وہ ہے جو اللہ کو مانتا ہے جبکہ مومن وہ ہے جو اللہ کی مانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو مومن بندے پسند ہیں۔ سید ساجد سلیم ، ناظم مہم اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ مسلمانوں میں عائلی قوانیں کو سلسلے میں آخرت کی فکر کرنا چاہئے۔ ورنہ بہت ساری عبادتوں کے باوجود معاملات بالخصوص عائلی قوانین کے سلسلے میں ناکام ہوسکتے ہیں۔ ’’فیملی کونسلنگ سنٹر:اہمیت وضرورت‘‘ عنوان پر تقریر کرتے ہوئے سید تنویر ہاشمی نے کہا کہ کونسلنگ ایک ا نگریزی لفظ ہے جس کے معنی ہیں کہ وہ طریقہ جس کے ذریعہ کسی فرد کو جب کسی معاملے میں الجھا ہوا رہتا ہے اور اس کے پاس کئی ایک متبادل ہوتے ہیں تو صحیح رہنمائی کرنے کا نام ہے۔ اس میں متاثرہ فرد سے راست بات چیت کرتیہوے اس کی سوچ، برتاؤ اور کردار کا جائزہ لیتے ہوئے رہنمائی کی جاتی ہے۔ تنویر ہاشمی نے کہا کہ ہمارے یہاں جو سنٹر قائم کیا جارہا ہے اس کا مقصد مسلمانوں کے عائلی معاملات کو قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی کرنا ہے۔ آپ نے کہا کہ کسی بھی مسلہ کو حل کرنے کا ابتدائی طرقہ کونسلنگ ہی ہوتا ہے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ کی زندگی سے ثابت ہے۔ آپ نے کہا کہ حضرت عمرؓ کے دور حکومت میں عائلی مسائل کو دارالاقضاء میں روجوع ہونے سے پہلے ہی اپنے اپنے گھر والوں کو لے کر نپٹانے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ بعد کے خلفائے راشدین کے دور میں گھروں میں جو لوگ اس طرح کے معاملات کو حل کرتے ہیں تو انہیں مزید اختیارات دئے گئے تھے جو دارالاقضاء میں ہوا کرتے۔ آپ نے کہا کہ ہمارے ملک میں بھی جب سے مسلمان یہاں آئے ہیں دارالالقضاء کا نظم قائم ہے۔ لیکن انگریزوں نے اس کو باقی رہنے نہیں دیا۔ آپ نے کہا کہ آج بھی دستور ہند میں اس بات کی گنجائش ہے کہ عدالتوں کے ذریعہ اسلامی شریعت کے مطابق ہی فیصلے ہوں۔ لیکن عدالتوں میں ان معاملات کو نمٹنے کے لئے کافی وقت لگتا ہے اس لئے قرآن مجید کے حکم مطابق اس کو جلد از جلد سلجھانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ سید تنویر ہاشمی نے کہا مسلمانوں کے درمیان کسی معاملہ پر تنازعات پیدا ہوتے ہیں تو انکو حل کرنا واجب ہوتا ہے۔ اس کے لئے فریقین پر سماجی دباؤ کی ضرورت ہوتو ڈالنا چاہئے اور جب وہ پلٹ کر اپنی اصلاح کرنا چاہیں تو ان کے ساتھ عدل کرنا چاہئے۔ شہر میں منائی گئی مسلم پرسنل لا بیداری مہم کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے محمد ضیاء اللہ نے کہا کہ جماعت کی جانب سے اس مہم کو اپنے چار سالہ منصوبہ کے تحتمنایاگیا ہے نہ کہ حالات سے متاثر ہوکر اس کو لیا گیا ہو۔ آپ نے کہا اس طرح کی مہمیں اس سے پہلے بھی منائی گئی ہیں۔ شہر کے ہر فرد تک یہ پیغام پہنچانے کے لئے جہاں خطاب عام مرد و خواتین کے الگ الگ منعقد کئے گئے وہیں پر عام لوگوں تک پیغام پہنچانے کے لئے شہر کے ان مقامات پر جہاں لوگ زیادہ جمع رہتے ہیں کانر میٹنگز کے ذریعہ مخاطب کیا گیا اور مختلف محلوں میں عصرانے و ٹی پارٹیوں کا اہتمام کیا گیا۔ خواتین کی جانب سے بھی غریب و کم خواندہ محلوں میں جا کر وہاں خواتین کو جمع کرکے پیغام کو پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ وکلاء حضرات اور علمائے کرام کے لئے خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا گیا۔ عبد الصمد سلطانپوری نے اجتماع کی کاروائی چلائی۔ مرد و خواتین کی بڑی تعداد اس اجتماع میں موجود تھی۔