پیلیٹ گن پر روک لگی تو اور زیادہ اموات ہوں گی، ہائی کورٹ میں سی آر پی ایف نے دیا جواب

02:13PM Fri 19 Aug, 2016

سرینگر : سی آر پی ایف نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ بھیڑ پر کنٹرول کے اقدامات کے طور پر اگر پیلیٹ گن پر روک لگائی جاتی ہے ، تو مشکل حالات میں جوانوں کو مجبورا گولیاں چلانی پڑیں گی ، جس کی وجہ سے اور زیادہ اموات ہو سکتی ہیں۔ ہائی کورٹ میں داخل حلف نامے میں سی آر پی ایف نے کہا ہے کہ 'سی آر پی ایف کے پاس موجود اختیارات میں سے اگر پیلیٹ گن ہٹا لیا جاتا ہے ، تو مشکل حالات میں سی آر پی ایف کے جوانوں کو رائفل سے گولی چلانی پڑے گی، جس سے اور زیادہ اموات کا خدشہ ہے۔ 'نیم فوجی فورس کا یہ حلف نامہ عدالت میں دائر اس درخواست کے جواب میں داخل کیا گیا ہے ، جس میں وادی میں بھیڑ کنٹرول کے اقدامات کے طور پر پیلیٹ گن کے استعمال پر روک کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔
فورس کا کہنا ہے کہ پیلیٹ گن کا استعمال سال 2010 میں شروع کیا گیا تھا اور فساد پر قابو پانے کیلئے یہ ایک قابل قبول ہتھیار ہے۔ بے قابو صورتحال میں بھیڑ پر کنٹرول کے ایس او پی کے مطابق ہتھیار کا نشانہ کمر کے نیچے کا حصہ ہونا چاہئے۔