تقاریب میں ججس کے ساتھ سیاسی لیڈروں کے نہ بیٹھنے کا سرکلر، اسمبلی میں عوامی نمائندوں کا احتجاج

02:08PM Thu 9 Feb, 2017

بنگلورو، (بھٹکلیس نیوز)عدلیہ اور مقننہ کے درمیان برتری کا سوال آج اس وقت سامنے آیا جب کرناٹک اسمبلی کے ارکان نے پارٹی خطوط سے بالاتر ہوکر ہائی کورٹ کے حالیہ سرکلر کے خلاف احتجاج کیا،جس میں کہا گیا تھا کہ سیاسی لیڈروں کو عوامی تقاریب میں ججس کے سا تھ ڈائس پر بیٹھنے سے دور رکھا جائے ۔مدھوگری کے رکن اسمبلی کے این راجنا نے گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث کے دوران اس مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی کی عدلیہ نے بے عزتی کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حالیہ عدالت کی عمارت کے افتتاح کے موقع پر تقریب میں منتخب ارکان کی موجودگی کو ججس نے روکا تھا۔ حکومت عدالتوں کی عمارتوں ' ججس کے لئے رہائشی کوارٹرس کی تعمیر کیلئے فنڈس فراہم کرتی ہے اور پی ڈبلیو ڈی ان کی تعمیر عمل میں لاتی ہے ۔ ہم ایسے اثاثہ جات کے ٹرسٹی کی طرح ہیں ۔منتخب عوامی نمائندوں سے اس طرح کا رویہ اختیار کرنا کیا منصفانہ ہے ؟ سابق وزیر قانون و بی جے پی لیڈر سریش کمار نے اس سرکلر پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ منتخب نمائندوں کے بنیادی حق کا یہ سوال ہے ۔ جب جج ڈائس پر بیٹھے ہوں تو وہاں نہ آنے اور مدعوئین کے سامنے کی نشستوں پر بیٹھنے سے متعلق بات منصفانہ نہیں ہے ۔ جے ڈی ایس کے رکن کونا ریڈی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لے اور مناسب فیصلہ کرے ۔ اسپیکر کے بی کولی واڈ نے اس مباحث پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ ایوان نے اس سرکلر پر اپنے خیالات کا ا ظہار کیا ہے اور ارکان کو چاہئے کہ وہ حکومت کے ردعمل کا انتظار کرے ۔