فسادات تو ملائم سنگھ کے ایجنڈے کاایک حصہ ہیں:قادری

05:00PM Mon 9 Sep, 2013

فسادات تو ملائم سنگھ کے ایجنڈے کاایک حصہ ہیں:قادری لکھنؤ۔ سینئر سوشلسٹ لیڈر اورنیشنل مسلم فرنٹ کے کنوینر مسٹرشاہ نواز قادری نے مظفر نگر میں ہوئے زبردست فرقہ وارانہ فساد کولے کرریاست کی سماج وادی حکومت کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ آکر سماج وادی سپریمو مسٹر ملائم سنگھ اپنے مقصد میں کامیاب ہوہی گئے۔مسٹر قادری نے کہاکہ اب عوام کوسمجھ لینا چاہئے کہ ملائم سنگھ آخر کیا ہیں انہوں نے کہاکہ ٹھیک 15دن قبل ملائم سنگھ اوروشوہندوپریشد کے لیڈر اشوک سنگھل کی ملاقات ہوئی تھی اورسب کچھ تبھی طے ہوگیاتھا۔اس لئے انتظامیہ نے وہاں ایک فرقہ کوکھلی چھوٹ دے رکھی تھی اورپنچایت کے بعد جوننگا ناچ ہوا وہ عوام کے سامنے ہے۔ مسٹر قادری نے مظفر نگر فساد کویوپی کے فساد ایک حصہ بتایا انہوں نے کہاکہ جوکچھ مظفر نگرمیں ہواہے وہ سب ایک سازش کاحصہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ملائم مسلمانوں کوخوفزدہ کران کے ووٹ ہتھیانے کاتانا بانا بن رہے ہیں جواس مرتبہ مسٹرملائم سنگھ کوبھاری پڑے گا۔ ملائم نے کمان سنبھالی پرکہ بیان مسٹر قادری نے کہاکہ ملائم نوٹنکی بندکریں یہ جوکچھ ہورہاہے ایک منظم سازش کے تحت ہی ہورہاہے یہ فساد 15دن پہلے ہی ہوجاناچاہئے تھا کیونکہ یوپی میں فسادات توملائم کے ایجنڈے میں رہتے ہیں ان فسادات کی بنیاد توسنگھل اورخودساختہ سماج وادی ملائم سنگھ کی ملاقات کے وقت ہی پڑ گئی تھی یہ الگ بات ہے کہ پریکرما کو لے کر عوام چوکنا ہوگئی اورہندومسلم دونوں ہی لڑنا نہیں چاہتے تھے جس کی کھینچ سپا سپریمو نے مظفر نگرمیں یکطرفہ پنچایت کی درپردہ اجازت دے کرنکال لی ورنہ بغیر انتظامیہ کی اجازت کے یہ پنچایت ہوئی کیسے؟ مسٹر قادری نے سماج وادی کے سرکار کے مسلم لیڈرکی بے حیائی پربھی طنز کیا انہوں نے کہاکہ پچھلے کئی دنوں سے ان کے بیانات آرہے ہیں کہ مسلمان صبر کریں اورامن وشانتی بنائے رکھیں انھیں نے کہاکہ ان کے مائنارٹیز اسٹیٹ مسنٹر بھی وہیں کے ہیں اس فساد میں درپردہ ملائم کی سرکار کو مسلم لیڈر کی حمایت بھی شامل ہے۔ مسٹر قاری نے کہاکہ بے شرمی کی حد ہوتی ہے کہ جب ان کے اپنی انا کا مسئلہ ہوتاہے تووہ استعفیٰ کی دھمکیاں دے کر اپنی ساری جائز اورناجائز باتیں منوالیتے ہیں جب قوم کامسئلہ ہوتاہے تووہ صرف پریس ریلیز جاری کرکے قوم کو نصیحت کرتے ہیں کہ صبر کریں اورشانتی بنائے رکھیں۔انھوں نے پچھلے پارلیمنٹ انتخابات کے وقت اپنی زبان سے کہاتھاکہ ملائم کی دھوتی کے اندر خاکی نیکر ہے اوراب جب حکومت میں کابینی وزیر بنے بیٹھے ہیں توصرف بیان بازی سے کام چلارہے ہیں۔مسٹر قادری نے کہاکہ اگران میں ذرا سی بھی حیا باقی ہو توانھیں چاہئے کہ وہ فوراً استعفیٰ دیں۔مسٹر قادری نے اترپردیش کے گورنر بی ایل جوشی کی اس بیان پر کہ فسادات کے لئے پردیش سرکار ذمہ دار ہے کہاکہ خالی یہ کہہ دینے سے کام نہیں چلے گا۔ اس سرکار کوجوفسادت روکنے میں پوری طرح ناکام رہی اوردرپردہ فسادات کی جنمی ہے اس کووفوری برخاست کریں۔انھوں نے کہاکہ موجودہ ریاست کی حکومت میں امن چین سب کچھ درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔مسٹر قادری نے مرکزی حکومت سے یوپی کی سرکار کوبرخاست کران فسادات کی جانچ کرانے کامطالبہ کیا۔ شاہ نواز قا دری کنوینرنیشنل مسلم فرنٹ لکھنؤ