اجیت ڈوبھال کے ساتھ کام کرچکے ہیں شرما
آئی پی ایس افسردنیشوری شرما کوگزشتہ سال مرکزنےجموں وکشمیرمیں امن وامان کےعمل کےلئےحکومت کی نمائندگی کےطورپرمقررکیا تھا۔ انہوں نے2008 میں انٹلی جینس بیورو کےڈائریکٹرکے طورپرکام کاج سنبھالا۔ 1976 بیچ کےآئی پی ایس افسردنیش شرما قومی سلامتی کےمشیر(این ایس اے) اجیت ڈوبھال کےساتھ بھی کام کرچکے ہیں۔ شرما کیرل کیڈر سےہیں۔ انہوں نے پہلےانڈین فوریسٹ سروس کےلئےکوالیفائی کیا اوربعد میں آئی پی ایس کا امتحان پاس کیا۔ شرما کوعلیحدگی اورشدت پسندی سےلےکرگھریلو اورعلاقائی سیاست تک کی پریشانیوں سےنمٹنے کا تجربہ ہے۔ وہ پولیس، نیم فوجی دستہ اورخفیہ ایجنسیوں میں اعلیٰ عہدوں پرکام کرچکے ہیں۔
شرما کیرل خفیہ بیوروکے ایس ایس پی بھی رہے
کیرل کےالپجھا ضلع میں ڈی ایس پی کا کام کاج سنبھال چکےشرما ریاست کےکولم اور تریچورضلع کےایس پی بھی رہ چکے ہیں۔ اس کےعلاوہ وہ کیرل خفیہ بیوروکےایس ایس پی کی ذمہ داری بھی سنبھال چکےہیں۔ وہیں سرداربلبھ بھائی پٹیل نیشنل پولیس اکیڈمی کے سربراہ کے طورپرانہوں نے پولیس ٹریننگ کےحلقےمیں بھی مہارت حاصل کی۔ سال 2003-1999 تک بارڈرسیکیورٹی فورسیزکےڈی آئی جی رہےشرما سال 05-2003 کے درمیان خفیہ بیورومیں جوائنٹ ڈائریکٹرکا عہدہ بھی سنبھال چکے ہیں۔ اس کےبعد انہیں سی آر پی ایف کا آئی جی بنایا گیا۔ اس دوران وہ جموں وکشمیرکےانچارج رہے۔ انہیں مشرقی جرمنی، پولینڈ، اسرائیل اورجنوبی کوریا میں جاسوسی کی ٹریننگ لینے کا بھی موقع ملا۔
جموں وکشمیرکے لیفٹیننٹ گورنرکی دوڑمیں سب سےآگے ہیں آئی پی ایس جےکماراوردنیشورشرما
04:30PM Fri 9 Aug, 2019
جموں وکشمیرکومرکزکے زیرانتظام دوخطوں میں تقسیم کےساتھ ہی جموں وکشمیراورلداخ کےلیفٹیننٹ گورنر(ایل جی) کولےکربھی قیاس آرائی شروع ہوگئی ہے۔ جموں وکشمیرکا لیفٹیننٹ گورنربننےکی دوڑمیں آئی پی ایس افسروجےکماراوردنیشورشرما سب سےآگے ہیں، جہاں وجےکماربارڈرسیکورٹی فورسیز(بی ایس ایف) کےآئی جی کےطورپرکشمیروادی میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہیں آئی پی ایس افسردنیشورشرما انٹلیجنس بیورو(آئی بی) کےڈائریکٹررہ چکے ہیں۔
آئی پی ایس افسرکے وجےکمارجنگلات میں انسداد دہشت گردی مہم چلانے میں ماہرمانے جاتے ہیں۔ تمل ناڈوکیڈرکے1975 بیچ کےآئی پی ایس وجے کمارنے1998 سے2001 تک بی ایس ایف کےآئی جی کےطورپرکشمیروادی میں اپنی خدمات دی ہیں۔ اس دوران وادی میں انسداد دہشت گردی مہم چلا رہےتھے۔ وہیں 2010 میں چھتیس گڑھ کےدنتے واڑہ میں نکسلی حملےمیں سی آرپی ایف (سی آئی ایس ایف) کے75 جوانوں کےشہید ہونےکے بعد وجےکمارکوسی آرپی ایف کا جنرل ڈائریکٹر(ڈی جی) بنایا گیا تھا۔ اس کےبعدعلاقوں میں نکسلی سرگرمیوں میں بھاری کمی آئی تھی۔ وجےکمارکی ہی قیادت میں 2004 میں بدنام زمانہ چندن اسمگلرویرپن کومڈبھیڑمیں مارگرایا گیا تھا۔