اگر دنیا سے مقابلہ کرنا ہے تو بچے سول سرویسیزکی تیاریوں میں جٹ جائیں: سیدظفر محمود

02:00PM Wed 20 Jul, 2016

الہ آباد(ایس این بی ) ہائی اسکول و انٹر سے ہی اپنے بہتر مستقبل کی تیاریوں میں جٹ جانا چاہئے ۔ہر انسان تقدیر کے لفظ سے واقف ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ انگلیاں پتھر کی بنی ہوئی ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری تقدیر میں جو لکھا ہے وہی ہو گا یہ کہنا غلط ہے کیونکہ ہاتھ پتھر کا نہیں ہوتا نہ ہی اس کی لکیریں پتھر کی ہوتی ہیں۔ آپ اپنے آپ کو بدلیں تو تقدیر بھی بدل جائے گی ۔ذاتی مفاد کیلئے تو ہر کوئی جیتا ہے لیکن ملت کی بھلائی کی فکر ہونی چاہئے۔ آپ اپنی محنت سے اپنی اور ملت کی تقدیر یں بدل سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا نئی دہلی کے چےئر مین وسر سید کوچنگ اینڈ گائڈینس سینٹر فار سول سرویسیزکے ڈائریکٹر سید ظفر محمود نے اتوار کو پروفیسر اصغر علی انصاری کی صدارت اور بختیار یوسف علیگ ایڈوکیٹ کی نظامت میں جمنا ویلی اسکول کریلی کے کشادہ ہال میں کیا۔وہ یہاں کنیز فاطمہ ایجوکیشنل سوشل ویلفےئر اینڈچیری ٹیبل سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقد جلسہ میں بطور خصوصی مہمان کی حیثیت سے شریک تھے۔انھوں نے ’سول سرویسیز میں ہماری حصہ داری کے موضوع پر طلبا و طالبات کی توجہ مرکوز کراتے ہوئے قرآن کریم کے حوالہ سے کہا کہ اللہ نے انسان کو کیوں بنایا ہے بیشک وہ امتحان لینے والا ہے ۔سورہ نمبر ۱۰۳؍ میں اللہ فرماتا ہے قسم ہے زمانے کی انسان خسارے میں ہے مگر وہ لوگ خسارے میں نہیں ہیں جو ایمان لائے اور اعمال صالح بجا لائے ۔ جب اللہ کی جانب سے پہلی آیت کا نزول ہوا تو اللہ تعلی نے اقراء کا حکم دیا ۔ قلم اور نون کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے ۔ظفر محمود نے کہا کہ اگر آج دنیا کا مقابلہ کرنا ہے تو بچوں کو آئی اے ایس کی تیاریوں میں جٹ جانا چاہئے اور اس کیلئے ایک جنونی کیفیت ہونی چاہئے تبھی آپ کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے حالات بدل سکتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ آج ملک میں حکومت بیورو کریٹس کر رہا ہے سیکڑوں فیصلے اسی کے ہوتے ہیں ایک فائل بھی کسی سیاسی رہنماکے پاس نہیں ہوتی ساری فائلیں بیوروکریٹس کے ہاتھوں میں ہوتی ہے وہی قانون سازی بھی کرتا ہے۔انھوں نے اس دوران الہ آباد یونیورسٹی و دیگر اسکولوں سے آئے تمام بچوں کی کاؤنسلنگ بھی کی۔اور سول سرویسیز کی تیاریوں کے سلسلے میں چند کار آمد معلومات فراہم کی ۔انھوں نے کہا کہ بچوں کو سول سروسییز کی تیاریوں کیلئے انگریزی زبان سے واقفیت ضروری ہے۔ٹوٹی پھوٹی ہی بولیں لیکن زبان انگریزی پر آپ کی گرفت مضبوظ ہونی چاہئے۔بعد میں سوال جواب سیشن بھی ہوا۔ صدر شعبہ عربی فارسی الہ آباد یونیورسٹی ڈاکٹر صالحہ رشید نے کہا کہ ہائی اسکول بچوں کے بہتر مستقبل کا پہلا پائدان ہے ۔بچے اگر چاہیں تو یہیں سے اپنے بہتر کیریر کی شروعات کرسکتے ہیں ۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں کے آئندہ مستقبل کے لئے والدین کیا رول ادا کر رہے ہیں سب سے پہلے ہمیں بچوں کے ساتھ ان کے والدین کی بھی کاؤنسلنگ کرنی چاہئے۔صدر شعبہ کامرس فکیلٹی بی ایچ یوکے پروفیسر اصغر علی انصاری نے بچوں کی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کا ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے وہ اپنا مستقبل خود سنوار سکتے ہیں ۔انھوں نے تعلیم نسواں پر بھی زور دیا اور کہا کہ بچیاں اگر چاہیں تو حجاب میں رہ کر بھی تعلیم حاصل کر سکتی ہیں ۔انھوں نے مزید کہا کہ آج بچوں کا انگریزی زبان کا علم اہمیت کاحامل ہے اگر آپ پانچ لفظ انگریزی کے روز جانیں گے تو انگریزی کی پوری ڈکشنری سے واقف ہوجائیں گے۔ خالی بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔گلوب لائیزیشن کے اس عہد میں تعلیم کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے اس لئے ہر گھر کے ایک بچے کو بیوروکریٹ بننا ضروری ہے۔جلسہ کا آغاز حافظ شارب الکوثر کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔بعد ازاں کنیز فاطمہ ایجوکیشنل سوشل ویلفئر اینڈ چیری ٹیبل سوسائٹی کے ڈائریکٹر احسان اللہ انصاری نے سوسائٹی کی تفصیل اور اسکے اغراض و مقاصد بیان کیا ساتھ ہی آئے ہوئے مہمانان کاتعارف پیش کیا۔ ادب سلسلہ پبلی کیشن کے مدیر اعلیٰ محمد سلیم علیگ نے کہا کہ اب سر سید احمد کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے کا وقت عن قریب نظر آرہا ہے۔ سید ظفر محمود نے بچوں کے مستقبل کی رہنمائی کرکے ایک عظیم کارنامہ انجام دیاہے۔برکت اللہ ندوی،شجاالہدیٰ اور جامی نے بھی جلسہ سے خطاب کیا ۔اظہار تشکر احسان اللہ انصاری نے اداکیا۔اہم شرکا میں پرنسپل جمنا ویلی اسکول، ڈاکٹر لیاقت علی صدیقی ایڈوکیٹ،دلنواز قادری ،ڈاکڑ عارض قادری ،سلمان احمد خان،جلال پھولپوری، وسیم الحق،سہیل اختر کے علاوہ کثیر تعداد میں طلباء وطالبات شریک ہوئیں ۔ audiance Ehsanullah