رؤیت ہلال خالص شر عی مسئلہ ہے اس کے لئے مزید اہتمام کی ضرورت ہے
03:39PM Thu 24 Aug, 2017
مر کزی رویت ہلال کمیٹی کر نا ٹک کے زیر اہتمام بنگلور میں منعقدہ کل ریاستی رؤ یت ہلال کانفرنس سے مندو بین و مدعوین کا اظہار خیال
بنگلور:(بھٹکلیس نیوز)
بروز چہارشنبہ مؤرخہ۲۳ اگست۲۰۱۷ ء شہر گلستان بنگلور میں عظیم الشان رویت ہلال کانفرنس منعقد ہو ئی شہر کے انفنٹری روڈ پر واقع گلستان شادی محل میں منعقدہ اس کا نفرنس میں ریاست بھر کے ۲۳ سے زائد اضلاع سے مندوبین نے شر کت فر ما ئی اور تمام نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کی مر کزی کمیٹی کے زیر نگرا نی ذیلی اور ضلعی کمیٹیوں کا قیام ہونا چا ہئے تا کہ چاند کی رویت پر بر وقت اور صحیح اطلاعات کا حصول ممکن ہو اور ساتھ ہی پوری ریاست آپس میں مر بوط ہو اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے صدر اجلاس اور ریاستی مر کزی ہلال کمیٹی کے کنوینر حضرت مولانا صغیر احمد خان صاحب رشادی نے فر مایا کہ مر کزی ہلال کمیٹی فیصلہ سے قبل ملک کے چپہ چپہ سے اطلاعات موصول کر تی ہے اور سارے ہی سر کر دہ و ذمہ دار کمیٹیوں سے مشاورت کر تی ہے پھر فیصلہ صادرکر تی ہے بسا اوقات فیصلہ لینے میں کچھ تا خیر بھی ہوجاتی ہے جس سے ریاست کے دیگر علاقوں میں کبھی تشویش پیدا ہو سکتی ہے لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جلد بازی میں کئے ہوئے فیصلوں پر شر مندگی ہو تی ہے لہذا پوری ریاست کو مر کز ی کمیٹی پر اعتماد رکھنا چا ہئے
مرکزی ہلال کمیٹی کے رکن حضرت مولانا محمد مقصود عمران صاحب رشادی خطیب و امام جامع مسجد بنگلور سٹی نے اس موقع پر اپنے خطاب میں مکۃ المکر مہ میں منعقدہ عالمی کانفرنس2014 ء کا حوالہ دیتے ہو ئے ارشاد فر مایا کہ اس قسم کی کانفرنس منعقد ہوتی رہی ہیں اور ہونی بھی چا ہئے اگر رؤیت ہلال کا علمی جائزہ لیا جا ئے تو اس کے لئے کئی نظریات ہمارے سامنے آ تے ہیں ۔احادیث مبارکہ میں بھی اس کے لئے مضبوط شواہد اور دلا ئل بھی ملتے ہیں چنانچہ حدیث کی معروف کتاب بخاری شریف میں بھی اس کے لئے مستدل کافی روایتیں موجود ہیں۔
آپ نے مر کزی کمیٹی کا طریقۂ کار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہو ئے ضلعی کمیٹیوں کے قیام پر بھی زور دیا اور فر ما یا کہ مرکز ہلال کمیٹی جلد بازی سے فیصلہ نہیں کر تا بلکہ نہا یت غور و خوض اور کافی طویل مشاورت کے بعد فیصلے لئے جا تے ہیں کیو نکہ ہمارے سامنے پوری ریاست اور اس کے حالات ہو تے ہیں اور یہی طریقۂ کار اپنا نے کی تر غیب بھی دی رکن کمیٹی و صدر جمیعۃ العلماء مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی نے اپنے خطاب میں فر مایا کہ رویت ہلال ایک شر عی مسئلہ ہے اس مسئلہ کے حل کے دوران ذمہ داران کو مکمل حالات اور ملکی اتحاد کے پہلو کو بھی دیکھنا پڑتا ہے بسا اوقات کسی ایک دو اضلاع سے رو یت کی خبر موصول ہو تی ہے لیکن دوسری جانب پورا ملک ان کی خبر پر اتحاد نہیں کر تی اس صورت حال میں ہم پورے ملک کے ساتھ رہیں یا ایک دو اضلاع کے ساتھ ؟؟؟ لہذا ان مسا ئل میں رقت نظری کے ساتھ حکمت عملی کو بھی برو ئے کار لا یا جا ئے۔
اس موقع پر جامعہ حضرت بلالؓ کے امام و خطیب حضرت مولانا ذو الفقار رضا نوری اور جمیعت اہل حدیث چار مینار مسجد کے امام و خطیب حضرت مولانا اعجاز احمد ندوی نے بھی اپنے خطاب میں رویت ہلال کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیتے ہو ئے فر مایا کہ ہر ضلع میں ضلعی کمیٹی کا قیام اشد ضروری ہے بلکہ ہر ضلع والے اپنی نگرا نی میں تعلقہ جاتی کمیٹی بھی قائم کرے اس طرح اول تا آخر ہر علاقے اور خطے کو آپس میں مر بوط رکھنے کی کوشش کرے بیجاپور اور اس کے گرد و نواح کی نمائندگی میں حضرت مولانا تنویر پیراں ہاشمی نے خطاب کر تے ہو ئے فر مایا کہ رویت کے مسئلہ میں ہر قسم کے جدید و مسائل کو بھی بروئے کار لا یا جا ئے اور ہر وہ شئی جس پر خبر مستفیض کی تعریف صادق آ ئے ان شرائط پر طریقۂ کار میں وقتاً فوقتاً وسعت بھی لانی چا ہئے اجلاس کا ؤگاز مولانا عمیر عبد العزیز رشادی استاذ جامع العلوم بنگلور سٹی کی قرأت اور جامع العلوم سٹی کے بنگلور کے طالب علم حافظ ابو طالب کی ہدیۂ نوت پاک سے ہوا اس اجلاس میں ریاست کے کونے کونے سے تشریف لا ئے ہو ئے ہر ضلع کے مندوبین نے اظہار خیال فر مایا اور ہر ایک نے مر کزی کمیٹی کے ریاستی دورہ پر زور دیتے ہو ئے ضلعی کمیٹیوں کے تشکیل کا تقاضہ بھی پیش کیا اخیر میں ہلال کمیٹی کے رکن مولانا محمد مقصود عمران رشادی نے گلستان شادی محل کے اڈمنسٹریٹر اور اور آ ئے ہو ئے مہمانوں کے لئے چا ئے بسکٹ نیز تمام شرکاء کے لئے آمد و رفت اور دو پہر کا کھانے کا نظم کرنے والے IMAکے CEO کا بھی شکریہ ادا کیا اورصدر اجلاس کی مستجاب دعاؤں پربحسن و خوبی اجلاس اختتام کو پہنچا۔