ویمنس ونگ مسلم پرسنل لا بورڈ کا پونے میں ورکشاپ اور اجلاس عام کا انعقاد
01:41PM Sat 2 Mar, 2019
شعبہ خواتین آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے پونے شہر میں نواں ورکشاپ آج صبح 09:00 ؍بجے منعقد ہوا۔ اس ورکشاپ کا آغاز زینب رحمانی کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ ڈاکٹر عرشین صاحبہ جوائنٹ کنوینر ورکشاپ نے درس قرآن پیش کیا، انہوں نے بتایا کہ خواتین کا اسلام میں بہت ہی بلند اور باعزت مقام ہے، مرد کیلئے دنیا کا سب سے قیمتی سرمایہ نیک بیوی ہے، مردوں کو حکم دیا گیا ’’وعاشروہن بالمعروف‘‘ بیویوں اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آؤ۔ انہوں نے خواتین سے گذارش کی کہ جہاں اللہ نے ہم کو اہم مقام دیا ہے وہیں ہم سے اسلام کچھ مطالبات بھی کرتا ہے، وقت کی ضرورت ہے کہ ہم متحرک ہوجائیں، تحفظ شریعت کیلئے جس طرح ہم حرکت میں آتے ہیں اسی طرح سماج کی اصلاح، مسائل کے مستقل حل کے لئے اصلاح معاشرہ تحریک اور ویمنس ونگ سے جڑنا ہوگا۔ محترمہ ثوبیہ صاحبہ کنوینر ورکشاپ نے افتتاحی کلمات پیش کئے اور کہا آج کے دور میں سماج میں بے شمار مسائل ہیں ایک جانب شریعت اسلامی کو مٹانے کی کوششیں ہورہی ہیں تو دوسری جانب ہمارے معاشرے کے کم علم، دین سے دور افراد ہی ظلم اور زیادتیاں اور اللہ کی نافرمانیاں کررہے ہیں۔ خاندانی تنازعات، ازدواجی تنازعات کی وجہ سے معصوم بچے اور خاندان کے بزرگ افراد متأثر ہورہے ہیں، ویمنگ ونگ پونے کی جانب سے کاؤنسلنگ سینٹر قائم کرنے کی کوشش اسی لئے رہی ہے۔ انہوں نے کونسل سینٹر کی سرگرمیوں سے ہی شرکاء مجلس کو واقف کروایا اور اسے بہتر بنانے کیلئے تعاون کی اپیل کی۔
محترمہ سمیہ نعمانی صاحبہ رکن مسلم پرسنل لا بورڈ نے اتحاد امت کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امت محمدیہؐ کی طاقت اسکے اتحاد میں ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں تمام مکاتب فکر، مسالک اور دینی جماعتوں کا اشتراک ہے، یہ متحدہ پلیٹ فارم ہمارے لئے علما ء دین کا قیمتی ورثہ ہے۔ مفتی حسنین محفوظ رحمانی صاحب قاضی شریعت مالیگاؤ نے اپنے خصوصی خطاب میں خواتین کو اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا اور نصیحتاً پانچ اہم باتیں فرمائیں۔(۱)عقیدۂ توحید پر مضبوطی سے قائم رہیں (۲) شریعت خداوندی پر جینے اور مرنے کا عزم کریں (۳) اپنی اہمیت کو پہنچانیں آپ خواتین ملت کا عظیم سرمایہ ہیں (۴)اولاد کی تربیت آپ کی عظیم ذمہ داری ہے (۵) اپنے اندر دینی حمیت و غیرت کو ہمیشہ بیدار رکھیں۔
محترمہ ایڈوکیٹ ماریہ احمدی مسلم گرلز ایسوسی ایشن حیدرآباد نے طلاق ثلاثہ مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے پاور پریزینٹینشن کے ذریعہ سمجھایا، انہوں نے کہا طلاق مسلم خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ جب میاں بیوی کے تعلقات نبھنا ناممکن ہوجاتے ہیں تو طلاق عورتوں کے لئے راحت ہے اور نجات ہے۔ طلاق کافیصد مسلمانوں میں سب سے کم ہے۔ مسلم خواتین کو دراصل تعلیم، سماجی اور معاشی طور پر خود مکتفی بنانے کی ضرورت ہے اس کیلئے حکومتیں کوئی کوشش نہیں کررہی ہیں بلکہ طلاق جو ہمارا مذہبی اور نجی (پرسنل) معاملہ ہے اسکے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔
محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ چیف آرگنائز ویمنس ونگ نے ازدواجی تنازعات کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریۂ ازدواج انتہائی باوقار، بلند، روحانی اور اجتماعی بنیادوں پر قائم ہے۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس بتایا گیا۔ جس کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے، مسنون نکاح ایک عبادت ہے جو بلاخرچ، بلاقرض سنت طریقے سے ادا کرنا چاہئے، رشتۂ ازدواج میں شوہر کو ’’قوام‘‘ کا مقام دیا گیا ہے۔تمام ذمہ داریاں اس پر ہیں، موجودہ دور میں مغربی تہذیب اور دوسرے اقوام کے طور طریقوں کی چھاپ ہمارے سماج پر نئے مسائل پیدا کررہی ہیں۔ میڈیا کے ذریعہ خواتین کو بیوی اور ماں کے اہم بنیادی ذمہ داریوں سے بدظن اور بے زار کیا جارہا ہے۔
شریعت اسلامی نے مرد اور خواتین دونوں کے ساتھ انصاف اور رحم کا معاملہ کیا گیا ہے، سماج اور خاندانوں کی بنیاد اس وقت مضبوط ہوگی جب رشتۂ ازدواج مضبوط ہوگا۔ ہماری بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کی فکری تربیت قرآن و حدیث نیز سیرت کی بنیادوں پر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے خاندان اگر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونگے تو ہمارا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ خیرامت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے دعوت، تفہیم و تحفظ شریعت اسی طرح اصلاح معاشرہ کے کاموں سے جڑجائیں۔ خاندان اور سماج کی اصلاح اور استحکام کا بار ہم خواتین پر ہے۔
اس ورکشاپ میں پونے شہر کی دانشمند خواتین کے علاوہ تھانے سے محترمہ خالدہ صاحبہ اور آشنا صاحبہ اسی طرح شہر جلگاؤں سے محترمہ زینب آپا صاحبہ، سماجی کارکن محترمہ سیما تُنگیکر صاحبہ نے بھی شرکت فرمائی۔ محترمہ عالمہ زینت صاحبہ کی دعا پر ورکشاپ کا اختتام ہوا۔
دوپہر ۳؍بجے خواتین و طالبات کیلئے اجلاس عام بعنوان ’’اصلاح معاشرہ میں خواتین کا کردار‘‘ بمقام سٹی لانس ہال، کونڈوہ پونے میں انعقاد کیا گیا۔محترمہ ممتازپیربھائی اور محترمہ ناہید کوتوال نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔
محترمہ ایڈوکیٹ ماریہ احمدی مسلم گرلز ایسوسی ایشن حیدرآباد نے طلاق ثلاثہ مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے پاور پریزینٹینشن کے ذریعہ سمجھایا، انہوں نے کہا طلاق مسلم خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ جب میاں بیوی کے تعلقات نبھنا ناممکن ہوجاتے ہیں تو طلاق عورتوں کے لئے راحت ہے اور نجات ہے۔ طلاق کافیصد مسلمانوں میں سب سے کم ہے۔ مسلم خواتین کو دراصل تعلیم، سماجی اور معاشی طور پر خود مکتفی بنانے کی ضرورت ہے اس کیلئے حکومتیں کوئی کوشش نہیں کررہی ہیں بلکہ طلاق جو ہمارا مذہبی اور نجی (پرسنل) معاملہ ہے اسکے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔
محترمہ ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ چیف آرگنائز ویمنس ونگ نے ازدواجی تنازعات کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظریۂ ازدواج انتہائی باوقار، بلند، روحانی اور اجتماعی بنیادوں پر قائم ہے۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس بتایا گیا۔ جس کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے، مسنون نکاح ایک عبادت ہے جو بلاخرچ، بلاقرض سنت طریقے سے ادا کرنا چاہئے، رشتۂ ازدواج میں شوہر کو ’’قوام‘‘ کا مقام دیا گیا ہے۔تمام ذمہ داریاں اس پر ہیں، موجودہ دور میں مغربی تہذیب اور دوسرے اقوام کے طور طریقوں کی چھاپ ہمارے سماج پر نئے مسائل پیدا کررہی ہیں۔ میڈیا کے ذریعہ خواتین کو بیوی اور ماں کے اہم بنیادی ذمہ داریوں سے بدظن اور بے زار کیا جارہا ہے۔
شریعت اسلامی نے مرد اور خواتین دونوں کے ساتھ انصاف اور رحم کا معاملہ کیا گیا ہے، سماج اور خاندانوں کی بنیاد اس وقت مضبوط ہوگی جب رشتۂ ازدواج مضبوط ہوگا۔ ہماری بیٹیوں، بہنوں اور ماؤں کی فکری تربیت قرآن و حدیث نیز سیرت کی بنیادوں پر کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے خاندان اگر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونگے تو ہمارا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی کہ خیرامت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے دعوت، تفہیم و تحفظ شریعت اسی طرح اصلاح معاشرہ کے کاموں سے جڑجائیں۔ خاندان اور سماج کی اصلاح اور استحکام کا بار ہم خواتین پر ہے۔
اس ورکشاپ میں پونے شہر کی دانشمند خواتین کے علاوہ تھانے سے محترمہ خالدہ صاحبہ اور آشنا صاحبہ اسی طرح شہر جلگاؤں سے محترمہ زینب آپا صاحبہ، سماجی کارکن محترمہ سیما تُنگیکر صاحبہ نے بھی شرکت فرمائی۔ محترمہ عالمہ زینت صاحبہ کی دعا پر ورکشاپ کا اختتام ہوا۔
دوپہر ۳؍بجے خواتین و طالبات کیلئے اجلاس عام بعنوان ’’اصلاح معاشرہ میں خواتین کا کردار‘‘ بمقام سٹی لانس ہال، کونڈوہ پونے میں انعقاد کیا گیا۔محترمہ ممتازپیربھائی اور محترمہ ناہید کوتوال نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔